سوات میں دس جون کو سہ فریقی اتحاد کی جانب سے شٹر ڈاؤ ن ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ ہم نے سوچا کہ یہ ایک بڑی ہڑتال ہوگی جس میں ساری دوکانیں بند ہوں گی اور ایسا عالم ہوگا جو 2009ء میں کرفیو کے دوران میں ہوتا تھا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ساری دوکانیں کھلی تھیں، سہ فریقی اتحاد کے ذمہ دار گاڑیوں میں لگے لاؤڈ اسپیکروں سے دکان داروں سے بازار بند کرانے کی اپیلیں کرتے رہے اور کہتے رہے کہ جلوس آرہاہے، نقصانات سے بچنے کے لیے اپنی دوکانیں بند کردیں۔ تاہم دوکان داروں نے ان کی اس دبے الفاظوں میں دی جانے والی دھمکی کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی اور کاروبار میں مشغول رہے، جب اس حوالے سے میں نے ایک ہوٹل والے سے پوچھا کہ آج تو ہڑتال ہے، آپ کا ہوٹل تو کھلا ہے، تو اس نے کہا کہ ہمارے ساتھ دس مزدور کام کرتے ہیں، اور روزانہ کے حساب سے ان مزدوروں کو پیسے دیے جاتے ہیں۔ اگر ان کو پیسے نہ دیے جائیں، تو ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ ہم کیوں ان غریب افراد سے رزق چھین لیں۔ ہم کیوں ان لوگوں کے مفاد میں اپنی دوکانیں بند کریں؟
قارئین کرام! سوال یہاں یہ بھی پیدا ہو تا ہے کہ برما میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ اس حوالے سے کسی نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان نہیں کیا ہے۔ مینگورہ شہر میں کئی دوکانیں لوٹ لی گئیں، کسی نے شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں کیا۔ دن بہ دن لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، اس حوالے سے کسی نے شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں کیا، لیکن صرف اپنے مفاد کے لیے ہر کسی کو پڑی ہے ہڑتال کرنے کی، جس کوعوام نے مسترد کیا۔
قارئین کرام! ہر ایک کہتا ہے کہ ہما رے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ حکم ران جماعت بھی کہتی ہے کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ ساری پارٹیوں کا بھی یہی مؤقف ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ دھاندلی کس نے کی ہے؟کیا یہ عوام نے کی ہے؟ ہوسکتا ہے کسی نے بھی نہیں کی ہو۔ میں تو حیران ہوں۔ اس حوالے سے بڑوں کا کہا ہوا ایک فقرہ یاد آیا کہ ’’خدائے دے داسے حیران کہ لکہ زہ چہ دے حیران کڑم۔‘‘ اتفاق سے میں اسی شٹر ڈاؤن والے روز اپنے دوست عدنان باچا سے بازار میں ملا۔ وہ ویب سایٹ کے لیے رپورٹ بنا رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کس حوالے سے رپورٹ بن رہی ہے؟ تو اس نے کہا کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے۔میں نے اس کا ساتھ دیا۔ جب ہم نے لوگوں سے انٹرویوز کیے، تو بیش تر لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سب اپنے مفاد ات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں جس میں غریب عوام کے لیے کچھ بھی خیر نہیں ہے۔ اگر ہم دوکانیں بند کردیں، تو کیا کھائیں گے۔ برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہو ررہا ہے۔ اس حوالے کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ دن بہ دن مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے، اس حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔ بجٹ میں غریب عوام کو غریب سے غریب تر کیا گیا اور امیر کو امیر تر۔ اس حوالے سے کسی نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال نہیں دی۔ ہماری سڑکوں کو دیکھیں ایسی ہیں جیسے روڈ کے نام پر کھنڈرات۔ حاجی بابا روڈ کی بات کی جائے، توجب بھی بارش ہوتی ہے، یہ سیلاب کا منظر پیش کرتی ہے۔ گاڑیاں تک اس کے اوپر نہیں گزر سکتیں۔
میں سوچ رہا تھا کہ یہ صرف میری سوچ ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ اوپر ذکر شدہ باتیں لوگوں کے احساسات ہیں جس پر مجھے یہ مصرعہ یاد آیا کہ
میں نے یہ سوچا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
702 total views, no views today


