پاکستان میں جاری دہشت گردی کی جنگ اور آئے روزبم دھماکے قتل و غارت گری، اسٹریٹ کرائم، جنازگاہوں، درگاہوں، امام بارگاہوں، خانقاہوں، مساجد، چرچوں اور اسکولوں میں ہونے والی دہشت گردی، خودکشی، ناکام شادیاں، غربت کے ہاتھوں قتل، پولیس کی دہشت گردی، بھتہ مافیا، لینڈ مافیا اور دیگر ڈھیر سارے مسایل ہیں جنھوں نے پاکستان کو اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے۔ دن بہ دن ایسے واقعات رونما ہونے سے ہمارے حکم ران اور عوام میں بھی بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے۔
لکھاری لکھتے ہیں کہ جو معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں، وہ جلد صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ اللہ پاکستان پر رحم فرمائے(آمین)۔ گزشتہ ایک ہفتے سے برما (میانمار) میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی کا عمل جاری ہے، جہاں پر بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ برما کے مسلمانون کی نسل کشی کا یہ عمل کوئی پہلی مرتبہ نہیں دہرایا جا رہا۔ اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ برما کے بدھ مذہب کو دورہ پڑتا رہتا ہے اور یہ مسلمانوں کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ جاتے ہیں اور برما میں اقلیتی مسلمانوں کا سر عام قتل عام کیا جاتا ہے۔تیرہ مئی 2015ء میں برما سے جان بچا کر تھائی لینڈ کی طرف بھاگے اور برما کے تین سو پچاس مسلمانوں کو پکڑ کر حراست میں لیا گیا اور پندرہ دن بنا کچھ کھائے پیے رہنا پڑا جس کے باعث دس لوگ دم توڑ گئے۔
برما کا قومی مذہب بدھ ازم ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں۔ برما کے قانون کے مطابق اقلیت میں موجود مسلمانوں کو پراپرٹی خریدنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ برما میں رہنے والے مسلمانون کے پاس برما کی کوئی شہریت بھی نہیں ہے۔ برمی حکومت کہتی ہے کہ اگر آپ 1823ء میں یہاں موجود تھے، تو اس چیز کا ہمیں ثبوت دو۔ تب آپ کو برما کی شہریت ملے گی۔ اگر نہیں، تو آپ ہمارے شہری نہیں بن پائیں گے۔ برما کا مذہبی لیڈر ’’آشین وتھویرا‘‘ جو برمی عوام کو مسلمانوں کے متعلق بھڑکاتا ہے اور اشتعال انگیز تقاریر کر کے مسلمانوں کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کی اشتعال انگیز تقاریر پر عالمی برادری نے اس کو بین کر دیا تھا اور تب برما کے مسلمانوں کو کچھ سکھ کا سانس آیا تھا مگر اب اس سے پابندی ہٹا لی گئی ہے۔ وہ ایک بار پھر عوام کا لہو گرما کر نسل کشی کا عمل کروارہا ہے۔ بہ ہرحال مسلمانوں کو جہاں کہیں بھی قتل کیا جاتا ہے، یا نقصان پہنچایا جاتا ہے، وہ قابل مذمت فعل ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے ستاون ممالک ہیں، مگر ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سب ممالک کو یہ نظر نہیں آرہا کہ وہاں مسلمانوں پر ظلم وستم کے کیا پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ اس پر سب کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں۔ کوئی مذمتی بیان نہیں، سفارت خانوں میں کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا جا رہا۔ آخر کیوں؟ کیا کھچڑی پک رہی ہے یہ؟ عالمی برادری اور عالمی میڈیاجو بلی، چوہے، کتے جن کو وہ اپنا فیملی ممبر کادرجہ دیتے ہیں، ان کے ساتھ اگر کوئی ناانصافی ہو جائے، تو ان کی لمبی زبانیں سارا دن بک بک کرتے تھکتی نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جو پوری دنیا میں انسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتی ہیں جب مسلمانوں کی قتل وغارت ہوتی ہے، جب بر ما کے مسلمانوں میں موت کا پرشاد بانٹا جاتا ہے، اس سمے انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں خاموش اور گونگی ہو جاتی ہیں؟ جب پاکستان پر ڈرون حملے ہوتے ہیں، ہزاروں بے گناہ بچے، بوڑھے اور خواتین ماری جاتی ہیں، تب ان کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟ بر ما کے مسلمان جان کی امان پانے کے لیے کشتیوں اور بحری جہازوں میں سمندر کے راستے جب انڈونیشیا پہنچتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ یہ ہمارے مسلمان بھائیوں کا دیس ہے، تو سمندری حدود پر اُن کو ’’دفع ہو جاؤ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ جب انڈونیشیا سے وہ سمندری راستے بنگلہ دیش پہنچتے ہیں، تو پھر ان کو دھتکار دیا جاتا ہے، آخر کیوں؟ ٹھیک، آپ سب کے پاس اتنے وسایل نہیں ہوں گے کہ آپ ان کو اپنے ملک میں جگہ دے سکیں، مگر کم ازکم ان کی امداد تو کرسکتے ہیں۔چاہیے، تو یہ تھا کہ سب مل کر اس معاملے کو عالمی فورم پر اُٹھاتے، تاکہ برما حکومت کے کان کھینچے جاسکتے۔ستاون ممالک اگر مل کر عالمی برادری پر پر یشر بڑھائیں، تو مجال ہے کہ عالمی برادری اس معمے سے روگردانی کرے۔
جب پاکستان میں بم دھماکے ہوتے ہیں، تو عالمی میڈیا پاکستان اور خصوصاً مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ اب برما میں بدھ مت جو خونی ہولی کھیل رہے ہیں، تو اس پر بھی بدھ مت کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔
امریکہ میں ورلڈٹریڈ سنٹر سے پہلے بھی دھماکہ ہواتھا، جس میں متعدد لوگ ہلاک ہوئے تھے جو کہ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اوکلوہاما نامی کرسچن شخص نے کیا تھا تب کیوں عیسائیت کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا؟
میری نظر میں سب مذاہب قابل احترام ہیں مگر عالمی برادری میں مسلمانوں کے لیے جو تاثر قایم ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ اسلام کا اگر مطالعہ کیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کا اسلام سے دوردور تک کوئی لین دین ہے۔ پاکستان میں بھی چار لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں جن کی کثیر تعداد کراچی میں پائی جاتی ہے، جن کے پاس نہ تو روزگار ہے اور نہ تو شناختی کارڈ اور آئے روز پولیس ان کو تنگ کرتی نظر آتی اور لے دے کرصلح کرتی ہے اور مہینہ بعد دوبارہ ماتھا ٹیکنے آجاتی ہے۔ جہاں لاکھوں کی تعداد میں افغانیوں کو پناہ دے رکھی ہے، ان کی خدمت کا بھی برائے مہربانی ٹھیکہ لیا جائے اور شناختی کارڈ ایشو کیے جائیں۔ جب پاکستانی الیکٹرونکس میڈیا اور سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تو تب جا کے وزیراعظم کے کان پر جوں رینگی کہ جناب ہوش کرو ہُن! تب کہیں جا کے وزیراعظم نواز شریف صاحب نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں سرتاج عزیر، چوہدری نثار اور طارق فاطمی شامل ہیں جو مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر دیکھا جائے، تو آج تک ان کمیٹیوں سے نکلا تو کچھ نہیں، خیر پھر بھی اک اُمیدکی کرن پھوٹتی ضرور نظر آتی ہے جب کہ دوسری جانب ترکی نے رو ہنگیا مسلمانوں کی امداد شروع کردی ہے اور ہم سوچ و بچار کر رہے ہیں جو کہ ہماری گڈگورننس کی نااہلی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
خدایا، ہمیں ہدایت دے اور برما کے مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرما (آمین)۔
838 total views, no views today


