ان کے ساتھ میونسپلٹی کے اثاثہ جات کی دیکھ بھال، میونسپل قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے اور سزاؤں کا نفاذ، تحصیل میں مقیم لوگوں سے متعلق اور ایڈمنسٹریشن کی معلومات رکھنا، تحصیل میں کھیل و ثقافت کی تقریبات منعقد کرانا، حکومت کی طرف سے نافذ شدہ ٹیکسوں کی وصولی، میلوں کا انعقاد وغیرہ میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
تحصیل ناظم کے اختیارات ضلع ناظم کے اختیارات سے ملتے جلتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تحصیل ناظم یہ اختیارات صرف تحصیل کی حد تک استعمال کرسکتا ہے اور مختلف تقریبات میں تحصیل کی نمایندگی کرے گا۔ البتہ اگر تحصیل ناظم چاہے، تو اپنی تحصیل کی حدود کے اندر ہی میونسپلٹی کے چھوٹے چھوٹے یونٹ قایم کرسکتا ہے جہاں وہ نیبرہوڈ کونسلز کے ناظمین کو یہ ذمہ داریاں دے سکتا ہے۔
تحصیل کونسل:۔ تحصیل کونسل تحصیل کے لیے جنرل سیٹوں پر بہ راہ راست منتخب ہونے والے تحصیل کونسلرز اور مخصوص سیٹوں پر خواتین، کسان، یوتھ اور اقلیتی کونسلروں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ تحصیل کونسل اپنے متعلقہ تحصیل کی سطح پر وہ کام کرتی ہے جو ضلع کونسل ضلعی سطح پر کرتی ہے۔ تحصیل کی سطح پر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے انتظام و انصرام کے لیے مختلف شعبوں کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹیز کا انتخاب کرے گی۔ اس طرح مالیاتی، اکاؤنٹ اور تحصیل کونسلروں کے لیے اصول و ظوابط کے لیے کمیٹیاں بنائے گی۔ ان کے علاوہ تحصیل ناظم کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ کی منظوری دے گی۔ تحصیل میں ٹیکس کی منظوری دے گی۔
ویلیج یا نیبرہوڈ کونسل:۔ ولیج، گاؤں کو کہتے ہیں جسے دیہی قرار دیا گیا ہے جب کہ نیبرہوڈ ویسے تو پڑوس کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ آبادی جو شہر ہے اور نہ گاؤں اور جہاں کی آبادی دس ہزار سے زیادہ ہو، مگر ساتھ بازار بھی ہو۔ مقامی حکومتوں کے اس قانون کے مطابق ایک یونین کونسل ایک سے زیادہ ولیج یا نیبرہوڈ کونلسز پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ اس طرح ہر ولیج کونسل یا نیبرہوڈ کونسل میں کونسلروں کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔ کسی بھی ولیج یا نیبرہوڈ کونسل میں جنرل کونسلرز، کسان، یوتھ، خواتین اور اقلیتی کونسلرز ہوں گے۔ ولیج کونسل کا ناظم وہ شخص ہوگا جو جنرل کونسلرز کی سیٹ پر منتخب ہو اور جو پہلے نمبر پر آیا ہو۔ دوسرے نمبر پر آنے والا شخص نایب ناظم ہوگا۔ ہر ولیج یا نیبرہوڈ کونسل میں کل دس تا پندرہ ارکان ہوں گے جن میں دو خواتین اور ایک ایک کسان، یوتھ اور اقلیت سے ہوگا۔
ولیج یا نیبرہوڈ کونسل کا انتظامی سربراہ متعلقہ ناظم ہوگا اور اپنے ہی ولیج یا نیبرہوڈ کونسل میں ان ہی اختیارات کا حامل ہوگا جو تحصیل اور ضلعی ناظمین کو تحصیل و ضلع کی سطح پر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اپنے ولیج یا نیبرہوڈ میں سرکاری اداروں اور شعبوں کی نگرانی کرے گا اور اس بارے میں ہر تین ماہ بعد تحصیل یا ضلعی حکومت کو آگاہ کرے گا۔ وہ اپنے حلقہ نیابت میں آب نوشی، آب پاشی، اسکولز، اسپتال وغیرہ کی کارکردگی کا جایزہ لے گا اور اس سلسلے میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریش یا ضلعی حکومت کو رپورٹ کرے گا۔ ان کے علاوہ وہ اپنے اپنے علاقے میں مختلف تنازعات کے حل و صلح کے لیے مختص کردہ کمیٹیوں کی صدارت کرے گا۔
ولیج یا نیبرہوڈ کونسل:۔ ولیج یا نبیرہوڈ کونسل اپنے حلقے میں سرکاری اداروں مثال کے طور پر اسکولز، اسپتالوں، مالیات، مواصلات، پولیس اور دیگر محکموں کی نگرانی کرے گی اور ان اداروں کی کاردگی کا جایزہ لے گی۔ اس سلسلے میں وہ باقاعدگی سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن یا پھر ضلعی حکومت کو آگاہ کرے گی۔ وہ ان اداروں اور محکموں کی کاردگی کے بارے تفتیش کرسگے گی اور اپنی معلومات تحصیل یا ضلعی حکومت کو ارسال کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ کونسل اپنے اپنے ولیج یا نیبرہوڈ میں تنازعات کے حل کے لیے مصالحاتی ٹیمیں تشکیل دے گی، تاکہ ان تنازعات کا حل فوری اور دیرپا ہو۔ یہ کونسل اپنے اپنے حلقوں میں بچوں اور بچیوں کی پیدایش، انسانی اموات اور شادیوں کو رجسٹر کرے گی اور اس کا ریکارڈ رکھے گی۔ گاؤں یا نیبرہوڈ کی سطح پر ترقیاتی کام جیسے صاف پانی کی فراہمی، راستوں، سڑکوں، گلیوں، پلوں، آب پاشی کے نظام، اسکولوں، کھیل کے میدانوں، قبرستانوں، نکاسئی آب، پارکس، کمیونٹی سینٹرز اور دیگر سہولیات کی فراہمی کرے گی اور جو موجود ہیں، ان کی دیکھ بھال کرے گی۔ ان کے علاوہ جو کام ولیج یا نیبرہوڈ کونسل کے ذمے ہیں ان میں گاؤں کی حفاظت اور گاؤں کا امن و امان شامل ہیں۔ گاؤں کے جنگلات، بانڈہ جات اور شاملات کی حفاظت بھی اس کونسل کے ذمے ہے۔ اپنے اپنے گاؤں میں رضاکار تنظیمیں بنائے گی اور ترقیاتی کاموں میں لوگوں کی شرکت کو یقینی بنائے گی۔ اپنے اپنے گاؤں یا نیبرہوڈ میں کھیل و ثقافت کی تقریبات کا اہتمام بھی ان ولیج یا نیبرہوڈ کونسلوں کے ذمے ہیں۔
مالیات؍ فنڈز کا انتظام و انصرام:
فنانس کمیشن:۔ مقامی حکومتوں کے اس قانون کے تحت صوبائی حکومت نے ایک فنانس کمیشن بنانی ہوتی ہے جس کے چیئرمین صوبائی وزیر مالیات ہوں گے جب کہ صوبائی اسمبلی کے دو ارکان، ایک حکومت کا اور ایک حزب مخالف کا ہوگا۔ ان کے علاوہ اس کمیشن کے ارکان میں صوبائی وزیر برائے دیہی ترقی و مقامی حکومت، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور دو دو ضلع و تحصیل کونسلرز اس کمیشن میں شامل ہوں گے۔ یہ کمیشن ان مقامی حکومتوں کو منتقل شدہ محکموں کے انتظام و انصرام کے لیے فنڈز کے ساتھ ساتھ سالانہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا کم سے کم تیس فی صد مہیا کرے گی۔
اس کے علاوہ ہر مقامی حکومت اپنے طور پر بھی ٹیکس، محصول وغیرہ لگا کر اپنے لیے فنڈز پیدا کرسکتی ہے۔ کسی بھی ولیج یا نیبرہوڈ کونسل کو یہ ترقیاتی فنڈز اس کی ’’آبادی‘‘ کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔ کسی بھی مقامی حکومت کو فنڈز کی فراہمی اس حکومت کی ’’مالی اہلیت‘‘ کی بنیاد پر دیئے جائیں گے۔ تاہم یہ فنانس کمیشن مقای حکومتوں کو فنڈز کی فراہمی کے وقت غربت اور پس ماندگی کو بھی زیرغور لائے گی۔
مقامی حکومتوں کی نگرانی:۔صوبائی حکومت ان مقامی حکومتوں کی نگرانی کے لیے ایک ’’لوکل گورنمنٹ کمیشن‘‘ قایم کرے گی جس کے چیئرمین صوبائی وزیر برائے دیہی ترقی و مقامی حکومت ہوں گے اور اس کے ارکان میں دو ممبران صوبائی اسمبلی (ایک حکومتی ارکان میں سے اور ایک اپوزیشن میں سے)، دو ’’مایہ ناز‘‘ ٹیکنوکریٹس اور دو متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز شامل ہوں گے۔ یہ کمیشن سالانہ بنیاد پر ان مقامی حکومتوں کا جایزہ لے گی اور کسی بھی تنازعہ کی صورت میں اس کو حل کرے گی۔ یہ کمیشن وزیر اعلی کو جواب دہ ہوگی۔
ان قوانین و ضوابط کے علاوہ بھی کئی قواعد مقامی حکومتوں کے اس قانون میں دیئے گئے ہیں جن کا تعلق ضلعی اور تحصیل ناظمین سے ہے اور وہ عوام کے لیے شاید اتنے اہم نہ ہوں۔
کتابی طور پر یہ قانون کافی دل کش لگتا ہے مگر اپنی تمام تر چاشنی کے باوجود اس قانون میں کئی ابہام موجود ہیں۔ مثلاً اس قانون میں ایک بار بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر یا متعلقہ تحصیلوں میں تعینات اسسٹنٹ کمشنروں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مقامی حکومتوں کے اس جال میں اس ضلعی افسر شاہی کا کیا کردار ہوگا؟ مقامی حکومتوں کے 2013ء کا یہ قانون اس بارے بالکل خاموش ہے ۔ جب سارے محکمے جو ضلع میں تعینات ڈپٹی کمشنر کے تحت آتے ہیں، کو ضلعی ناظم کے تحت کردیا گیا، تو ایسی صورت میں مذکورہ افسر شاہی کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے؟ عملی طور پر دو متوازی حکومتیں ہر ضلع میں ہوں گی۔ حکومت نے اگر بعد میں اس قانون کو تبدیل کیا ہے تو اسے جلد عوام کے لیے عام کیا جائے ۔
دوسری وجہ جو مقامی حکومتوں کے نظام کو ناکام کرنے کا سبب بنے گی، وہ صوبائی ترقیاتی فنڈز کی تقسیم ہے۔ اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود صوبے میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت اپنے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کے مکمل طور پر نچلی سطح تک منتقلی پر راضی نہیں کرسکی۔ تبدیلی بولنے میں تو بڑی بھاتی ہے لیکن اس کو عملًا لانا کتنا مشکل ہوتا ہے، پاکستان تحریک انصاف کو خوب اندازہ ہوا ہوگا۔
اب جو کہ لوگوں نے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، تحصیل اور ضلعی سطح پر بے شمار اُمیدوں سمیت نمایندوں کو منتخب کیا ہے، اس لیے وہ ایسے کاموں کی توقع رکھتے ہیں جو پاکستان میں کبھی نہیں ہوئے۔ ایسے میں ان مقامی حکومتوں کو صرف تیس فی صد ترقیاتی فنڈز میں سے دینا لوگوں کو پاکستان اور سیاست سے مزید مایوس کرنا ہے۔
ترقیاتی فنڈز کا تین چوتھائی سے بھی زیادہ ’’قانون سازوں‘ ‘ کے ہاتھ دے کر موجودہ حکومت نے مقامی حکومت کے نظام کو ایک غیر سنجیدہ مشق میں بدل دیا ہے۔
مقامی حکومتوں کے لیے جو لوگ اس بار منتخب ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر پہلے کبھی حکومتوں میں نہیں رہے۔ ترس تو ان ولیج و نیبرہوڈ کونسلروں پہ آتا ہے کہ بے چارے اپنے کام سے بھی گئے اور آگے شاید لوگوں کا غصہ ہی صلے میں ملے۔ ایسے ایسے سادہ لوح اس بار منتخب ہوئے ہیں کہ ان کی معصومیت پر ترس ہی آتا ہے۔
اس قانون میں کہیں بھی ہر سطح کے ان کونسلروں کے لیے کسی ماہانہ مشاہیرے کا اعلان نہ کرکے بدعنوانی کے مواقع کو بہت نچلی سطح پر منتقل کیا گیا ہے۔ اگر ان کونسلروں کو اپنی گھر گرہستی کے لیے کچھ نہیں ملے گا، تو وہ خود بہ خود مختلف اسکیموں میں اپنے لیے پیسہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس سے کرپشن کو فروغ ملے گا۔
مقامی حکومتوں کے اس جانکاہ مشق کے بعد اب بھی وہی صوبائی حکومت اور اس کے صوبائی اسمبلی کے ارکان کا توتی بولتا ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,340 total views, no views today


