وطن عزیز کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا قدرتی وسایل سے نوازا ہے۔ کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں۔ پاکستان میں قدرتی وسایل موجود ہیں۔ وطن عزیز کے لوگ بھی ٹیلنٹیڈ ہیں۔ ہر شعبے میں دنیا کو حیران کرنے والے لوگ موجود ہیں، تبھی تو شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے کہ
ذرا سی نم ہو تو یہ مٹی زر خیز ہے ساقی
مگر معمولی سی توجہ کی ضرورت ہے۔ ملک میں موجود ذخایر کو استعمال کرنے اور عوام میں موجود ٹیلنٹ کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان دونوں باتوں پر عمل کیا گیا، تو پاکستان دنیا کے صف اول کے ممالک میں شمار ہوگا۔ پھر ہم کو کس بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہوگی، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کام کرے گا کون؟ اس کے لیے کوئی خلائی مخلوق نہیں آئے گی۔ یہ کام ہم کو کرنا ہے۔ یہ کام اُن لوگوں کو کرنا ہے جن کے ہاتھوں میں ملک کے بھاگ ڈورہیں۔ افسوس جن کے پاس اختیارات ہیں۔ ان کوصرف اور صرف اپنی فکر لاحق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اڑسٹھ سال گزرنے کے باوجود ہم ابھی تک دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ہم آج بھی آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہے۔ کیوں کہ ہمارے حکم رانوں کو صرف ایک ہی فکر لاحق ہے کہ کس طرح ان کی حکومت کا دورانیہ بڑھے گا۔ وہ ہمیشہ اس فکر میں لگی رہتے ہیں کہ ان کی حکومت بچ جائے۔ جب کہ اپوزیشن کا کام حکومت کو کم زور کرنا ہوتا ہے۔تعمیری تنقیدکی بہ جائے تنقید برائے تنقید ان کا شیوہ ہے۔ اس کشمکش میں وقت گزرتا چلا جارہا ہے۔ ملک وہیں کھڑا ہے، جہاں آزادی کے روز تھا بلکہ آگے کی بہ جائے ہم پیچھے کی طرف گام زن ہیں۔
غریب روز بہ روز غریب جب کہ مال دار لکھ پتی سے کروڑ پتی اور کروڑ پتی سے ارب پتی بنتاجارہا ہے۔ قانون صرف غریب کے لیے ہے۔ مال داروں کے لیے نہ قانون ہے اور نہ ان کے گناہ ہی گناہ ہیں۔ تبھی کوئی دل جلا یہ شعر تخلیق کر بیٹھا
میری غربت نے اُڑایا میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
غریب روز بہ روز غریب جب کہ مال دار، مال دار ترین بنتا جارہا ہے۔
ٹریفک پولیس غریب کو چالان کرتا ہے۔ آپ نے کبھی کسی مال دار کو چالان ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔ ٹریفک پولیس نہ صرف مال داروں کو سلام کرتا ہے بلکہ دوسری گاڑیوں کو سائیڈ پر روکا کر ان سفید پوشوں کے لیے راستہ خالی کردیتا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے اور یہ کیسا قانون ہے؟ قانون تو امریکہ، انگلینڈ وغیرہ والوں کا ہے۔ جب سرخ بتی روشن ہوتی ہے، تو صدر کی گاڑی بھی رک جاتی ہے اور ایک عام شخص کی بھی۔
اس طرح آپ نے کبھی کسی مال دار کو بینک کے باہر قطار میں کھڑا ہوتا ہوا نہیں دیکھا ہوگا۔ آتے ہی دروازے پر موجود گارڈ ان کے لیے دروازہ کھول دیتا ہے اور سیدھا اندر جاکر دو منٹ میں اس کا کام ہوجاتا ہے۔ صرف کام ہی نہیں بلکہ سردیوں میں گرما گرم چائے اور گرمیوں میں ٹھنڈی مشروبات سے اس کی تواضع کی جاتی ہے۔ جب کہ ہم جیسے غریبوں کو گھنٹوں دھوپ میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟
پشتو میں ہم کہتے ہیں ’’خبرے ڈیری او سر یے یو‘‘ پاکستان میں غریب اور مال دار کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ غریب خواہ کتنا قابل کیوں نہ ہو، اس کی بات کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے جب کہ مال دار کی ہر بات کو ہم صحیح کہتے ہیں۔ اس کی بات کو لوگ توجہ سے سنتے ہیں، حالاں کہ اگر کوئی مال دار ہے تو اپنے لیے ہے، دوسروں کو اس کا کیا فایدہ؟ پھر بھی ہم سب اس کی چاپلوسی کرتے ہیں۔ پشتو کا ایک شعر ہے
دا قیمتو نہ ورلہ مونگ ورکوو
گنے پہ لعل او پہ جوہر کے سہ وی
دوسری جگہوں پر مال دار اور غریب کا فرق تو خیر پھر بھی برداشت کیا جاسکتا ہے مگر جب کسی پرائیویٹ اسپتال میں آپ تین گھنٹے سے اپنی باری کے انتظارمیں ایک مہذب شہری ہونے کا ثبوت دے رہے ہوں اور اسی دوران میں سوٹڈ بوٹڈ یا پھر بنا سلوٹوں کے کاٹن کے کپڑے پنے خان جی آکر آن کی آن میں ڈاکٹر سے ملتا ہے، تو اس دوران منہ سے ایک سرد آہ نکلتی ہے اور دل میں غربت سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔
ستا محل بہ راتہ یاد شو
خپل غربت تہ پہ ژڑا شوم
تورہ شپہ وہ ڈیر باران وو
ما کوٹہ چاپے کولہ
784 total views, no views today


