’’د انتظار آخری لمحہ‘‘ فضل محمود روخان صاحب کی نئی کتاب مذکورہ عنوان سے چھپی ہے۔ یہ کتاب پشتو زبان میں لکھی گئی ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ یہ نثر میں لکھی گئی ہے۔ اگر چہ نام شاعرانہ اور عاشقانہ قسم کا ہے لیکن خلاف توقع یہ نثر کے مختلف اصناف کا مجموعہ ہے اور یہی بات مصنف کی کاوش اور قابلیت کی دلیل ہے۔ کتاب میں انشایئے بھی ہیں، رپوتاژ بھی ہیں اور کسی حد تک سفر نامے بھی ہیں۔ یہ ایک سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل ہے۔ چھوٹے چھوٹے مختلف موضوعات نے کتاب کو متجسس اور دل چسپ بنا دیا ہے۔ ایک بار کتاب کو شروع کرکے ختم کیے بغیر قاری نہیں اُٹھ سکتا۔ کتاب پڑھتے وقت بوریت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے صفحات پر مختلف معلومات موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔
قارئین، میں عبداللہ درانی کو تو جانتا ہوں لیکن اُس کی بنائی ہوئی عمار ت آرام گاہ قادر نگر سے بے خبر تھا۔ میں دنگرام گاؤں سے بڑی حد با خبر تھا اور روخان صاحب کی طرح مجھے بھی دنگرام سے جذباتی لگاؤ ہے۔ یہ میری ماں کا گاؤں ہے۔ میرے دادا اور میرے ماما خیل وہاں سے ہیں۔ وہاں کے چناروں تلے، چشموں کے کنارے اور خوڑ کے پانی میں نہاتے ہوئے میرا بچپن گزرا ہے۔ وہاں کی چاندنی راتیں اور پہاڑوں کی دل کشی مجھے اپنے اُور کھینچتی ہے۔
روخان صاحب کی دنگرام پر دل کش اور معلوماتی تحریر نے میرا دل جیت لیا ہے۔ واقعی انھوں نے میرے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ دنگرام کی وجۂ تسمیہ بیان کرتے ہوئے مصنف رقم طراز ہیں کہ دنگرام اصل میں ’’دان‘‘ اور ’’گرم‘‘ کا مرکب ہے۔ ’’دان‘‘ تحفہ کے معنی میں لیا گیا ہے جب کہ گرام کے معنی ’’گاؤں‘‘ کے ہیں، یعنی دنگرام کا مطلب دان میں دیا گیا گاؤں ہے۔ ’’آئیے، ذرا سوچ اور فکر کریں‘‘یہ وہ عنوان ہے جو اس کتاب میں عوام کی سوچ، فکر اور شعور پر بحث کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس عنوان کے تحت سیاست اور حکومت کا رونا رویا گیا ہے۔ اجتماعی سوچ اور قیادت کے فقدان پر بہت اچھے پیرائے میں بحث کی گئی ہے۔ رشوت اور سفارش کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور جگہ جگہ قوم کو یاددہانیاں کراکے ہدایت اور حکمت کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔ ایک دوسرے مضمون ’’شادی موت کے بعد‘‘ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مثال دیتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے ’’شادی موت کے بعد‘‘ ممنوع قرار دیتے ہوئے چھ اور خرابیوں کو بھی سختی سے ختم کردیا۔ ان میں عصمت فروشی، جواری، نشہ کرنا، اخلاق سوز لیٹریچر، فحش فلمیں اور بچوں اور عورتوں کی خرید و فروخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ مطلب یہ کہ مصنف پاکستان میں بھی ایک ایسی سخت حکومت کے خواہاں ہیں کہ جو بہ زور تمام برائیوں کو پاکستانی معاشرے سے ختم کرکے ایک فلاحی ریاست قایم کرے۔ اس طرح بابائے غزل کے ساتھ ملاقات بھی ایک دل چسپ روداد ہے جس نے امیر حمزہ خان شنواری کی زندگی کے آخری لمحوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ روخان صاحب خوش قسمت ہیں جنھوں نے ان جیسے عظیم پختون ادبی راہنماؤں سے بار بار ملاقات کی ہے اور اُن کے دیدار اور علم و فن سے کسب فیض کیا ہے۔
’’د انتظار آخری لمحہ‘‘ دل چسپ رپورتاژ اور سفرنامہ پر مشتمل کتاب ہے جو سوات کے دور دراز شمالی علاقوں، کالام کوہستان کی رنگین داستان ہے۔ اس میں 2002ء کے ملکی الیکشن کی کہانی کو بھی نہایت دل چسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ خواتین ووٹروں کا رونا بھی رویا گیا ہے اور ساتھ وہاں اسکولوں کے حالت زار کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ کاش، انتظامیہ ان مضامین کو غور سے پڑھے اور اسکولوں کی اصلاح کرنے کے لیے اقدام کرے۔ میں اس کتاب کے کس کس مضمون اور انشایئے کا ذکر کروں۔ پوری کتاب پڑھنے کے لایق ہے اور ہر ادبی ذوق رکھنے والے فرد کو اسے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے۔ اعلیٰ کاغذ کے ساتھ اس کتاب کو حسب معمول ’’شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز جی ٹی رود مینگورہ‘‘ نے شایع کیا ہے۔ ایک سو پچاس روپے کی مناسب قیمت کے ساتھ ہر کوئی اس سے مستفید ہوسکتا ہے۔
قارئین کرام! فضل محمود روخان صاحب ہمارے دیرینہ دوستوں میں سے ہیں، ان کی فخریہ دوستی مجھے اپنے والد صاحب سے میراث میں ملی ہے۔ روخان صاحب نے اس کتاب سے پہلے نو کتابیں مختلف موضوعات پر لکھی ہیں جن میں نثری اور آزاد نظمیں، پشتو اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔ اس میں مکالمے بھی ہیں، تحقیقی مواد اور سفرنامے بھی ہیں۔ یہ کتاب ’’دَ انتظار آخری لمحہ‘‘ ان کی دسویں کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے قلم اور حوصلوں کو ہمیشہ جواں رکھے۔ میری دعا ہے کہ ان کا قلم کبھی رکنے نہ پائے اور نہ اس کی روشنائی ختم ہو۔
میں دل کی گہرائیوں سے فضل محمود روخان صاحب کو اس نئی کاوش اور ایک اچھی تخلیق پر مبارک باد دیتا ہوں اور ان کے ہر لفظ اور ہر حرف کو سراہتا ہوں۔ اپنے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ
لکھنا آسان نہیں نایابؔ
ہر حرف خراج مانگتا ہے
748 total views, no views today


