پاکستان میں ہر روز پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بینک ڈکیتی، چوری، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور دہشت گردی کی خبریں شایع ہوتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس قسم کے واقعات یہاں کا معمول ہیں۔ ’’فلاں جگہ ڈاکوؤں کا بینک پر دھاوا، عملہ کو یرغمال بنا کر لاکھوں کروڑوں روپے ساتھ لے گئے‘‘، ’’فلاں جگہ نامعلوم افراد کی فایرنگ پانچ افراد ہلاک دو زخمی‘‘، ’’فلاں جگہ نامعلوم افراد نے گورنمنٹ اسکول کو بم سے اُڑادیا۔‘‘ یہ اور اس قبیل کی دیگر خبروں سے تو ہم خوب واقف ہیں، مگر ان سارے واقعات کے رونما ہونے کے وقت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک خبر یہ بھی چلتی ہے کہ ’’مجرم فرار ہونے میں کامیاب۔‘‘پاکستان میں بدامنی کی واردات کے بعد مجرم ’’آسانی‘‘ سے ’’فرار‘‘ ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے، جو حیرت کی بات ہے۔ کیوں کہ ابھی تک کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ بینک ڈکیتی کرتے ہوئے مجرموں کو موقعہ پر پکڑا گیا ہو۔ پتا نہیں یہ مجرم انسان ہیں یا کوئی جن بھوت، جو بعد میں واردات کے بعد دکھائی نہیں دیتا۔ یہ فرار ہونے کا رواج صرف اور صرف وطن عزیز میں رایج ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک میں فرار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان ممالک میں اس قسم کی وارداتوں کے کم ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ کوئی بھی واردات کرنے کے بعد مجرم فرار نہیں ہوسکتا۔ اس وجہ سے لوگ اس قسم کی کارروائیوں سے کتراتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں تو مزے ہیں۔ آپ چاہے کوئی بھی واردات کریں، فرارہونا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکوں بینک سے لاکھوں روپے لے کر موقعہ سے فرار ہوجاتے ہیں اور صرف فرار ہی نہیں ہوتا بلکہ بعد میں اپنی پوری زندگی مزے سے بھی بسر کرتا ہے۔ زیادہ تعجب تو تب ہوتا ہے جب بھرے بازار میں جدید اسلحہ سے لیس پولیس والوں پر ’’نامعلوم افراد‘‘ فایرنگ کرکے کسی ایک پولیس والے کو مار دیتے ہیں اور قاتل دن دہاڑے ایسے غایب ہوجاتا ہے جیسے گدھے کے سر سینگ۔ اگرکہیں ایک دو مجرموں کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے، تو ان کے پیچھے ’’با اثر افراد‘‘ ہونے کی وجہ سے جلد ہی وہ ضمانت پر رہا ہوجاتا ہے۔ یہ تو عام لوگوں کی بات ہے۔ پاکستان میں تو ابھی تک لیاقت علی خان جو ملک کا وزیراعظم تھا، کے قتل کا پتا نہ چل سکا۔ ضیاء الحق کا جہاز ہوا میں اُڑگیا مگر پتا نہ چلا کہ آیا وہ حادثہ تھا یا پھر ایک سوچا سمجھا منصوبہ؟ اس طرح بے نظیر بھٹو کو درجنوں لوگوں کے درمیان گولی مار دی گئی اور ملزم فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوا اور صرف فرار ہی نہیں ہوا، آٹھ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ پتا بھی نہیں چلا کہ وہ کون تھا؟
ہمارے گاؤں میں ایک بزرگ شخص تھا جو ابھی دو تین مہینے پہلے ہی وفات پا چکا ہے۔نہایت سادہ لوح انسان تھا۔ جب کوئی کام ہوتا اور میں اسکول سے چھٹی کرتا۔ تو وہ کہتا: ’’آج تم اسکول نہیں گئے؟‘‘ میں کہتا، ’’ہاں آج چھٹی کی ہے۔‘‘ جواب میں وہ ہمیشہ کہتا: ’’پاکستان دے پتہ ئے نہ لگی۔‘‘ ان کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ پاکستان میں کسی چیز کا پتا نہیں چلتا۔ یہاں تو لوگ ائیر پورٹ میں جہازوں پر فایرنگ کرکے ’’فرار‘ ہونے میں ’’کامیاب‘‘ ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جو ایٹمی قوت بھی ہے۔
620 total views, no views today


