جرمنی سے تعلق رکھنے والے محققین کہتے ہیں کہ بار بارخودکے بارے میں بات کرنے والے لوگ عام طور پر ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے جملوں میں بہت زیادہ ’’میں‘‘، ’’مجھے‘‘ اور ’’بہ ذات خود‘‘ جیسے الفاظ کی تکرارکرتے ہیں، ان میں بے چینی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
کیسل یونی ورسٹی سے منسلک محقق زیمرمین کی قیادت میں ہونے والے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنی گفت گو میں بہت زیادہ اسم ضمیر یعنی میں، مجھے اور میرا استعمال کرتے ہیں، عام طور پر توجہ کے حصول کے طلب گار ہوتے ہیں۔ انھیں باہمی رشتے نبھانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جب کہ ان کے برعکس ایسے لوگ جو گفت گو میں جمع اسم ضمیر مثلاً ’’ہم‘‘، ’’ہم سب‘‘ زیادہ استعمال کرتے ہیں، اپنے رشتوں کو زیادہ بہتر طریقے سے نبھانا جانتے ہیں۔
جرنل ریسرچ ان پرسنیلٹی میں شایع ہونے والے تحقیقی مطالعے میں ایک سو تین عورتوں اور پندرہ مردوں نے حصہ لیا، جن کی اکثریت نفسیاتی مسایل کی شکار تھی اور ان کا علاج جاری تھا۔ ساٹھ سے نوے منٹ کے انٹرویو میں مریضوں سے تعلقات نبھانے کا طریقہ، خود کے بارے میں رائے اورماضی سے متعلق سوالات پوچھے گئے جب کہ ڈپریشن کے حوالے سے بھی ایک سوال نامہ بھروایا گیا۔ محقق زیمرمین نے بعد میں ہر انٹرویو میں بولے جانے والے جملوں میں سے واحد اسم ضمیر (میں ،مجھے ،میرا) اورجمع اسم ضمیر (ہم، ہم سب) الفاظ کی گنتی کروائی، جن لوگوں نے اپنے انٹرویو میں بار بار ’’میں‘‘ کا زیادہ استعمال کیا تھا، انھوں نے ڈپریشن ناپنے کے اسکیل پر زیادہ اسکور حاصل کیا۔ یہ لوگ خود کے ساتھ نامناسب رویہ رکھنے کے علاوہ تنہائی پسندی کا بھی شکار نظر آئے۔
محقق زیمرمین کہتے ہیں کہ ’’جن شرکاء نے اپنی گفت گو میں زیادہ جمع اسم ضمیر ہم استعمال کیا، ان میں ایک قسم کا ٹھنڈا طرز عمل نظر آیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہی ٹھنڈا رویہ دراصل رشتوں میں مناسب حد برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک مثبت طریقے کے طور پر کام کرتا ہے۔‘‘
زیمرمین کا کہنا ہے کہ گفت گو میں جمع اسم ضمیر کا زیادہ استعمال بہتر سماجی تعلقات پر زور دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ واحد اسم ضمیر ’’میں‘‘ کا استعمال خود کو نمایاں ہستی کے طور پر پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ واحد اسم ضمیر کا بہت زیادہ استعمال دوسروں سے توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ گفت گو میں ’’میں‘‘ اور ’’مجھے‘‘ کی تکرار ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کی بولنے کی عادت غالباًان کی اپنے بارے میں اور دوسروں سے متعلق سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔
686 total views, no views today


