آپ نے سائیکل اسٹینڈ کا نام تو سنا ہی ہوگا۔ ہاں، ہر روز نہیں تو کبھی کبھی یہ نام سننے کو ملتا ہے کہ فلاں پیر کے عرس پر سائیکل اسٹینڈ لگا ہوا ہے۔ لوگوں کی تفریح کے لیے دیہاتوں، میلوں ٹھیلوں پر، لاری اڈوں کے ساتھ کھلے میدان میں سائیکل اسٹینڈ لگائے جاتے ہیں۔ کہیں بھی رنگ بہ رنگی جھنڈیاں نظر آئیں، تو خیال فورا سائیکل اسٹینڈ کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہاں خواجہ سرا، زنانہ روپ میں کرتب دکھا کر لوگوں کو لطف اندوز کرتے ہیں اور نذرانے وصول کرتے ہیں۔
نذرانوں کی بات چل نکلی تو ذرا اسپتالوں، کورٹ کچہریوں کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں جگہ جگہ آپ کو بورڈ نظر آئیں گے، جن پر یہ لفظ درج ہوں گے ’’سائیکل اسٹینڈ اس طرف ہے‘‘، ’’کار اسٹینڈ اُس طرف ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگر اسکولوں میں اسٹینڈ کا بورڈ لگا ہو یا بورڈ کی جگہ کوئی شخص بورڈ کا روپ دھارے کھڑا ہو، تو تعجب ہوتا ہے۔
اسکولوں میں طلبہ علم حاصل کرنے جاتے ہیں، امتحان دینے جاتے ہیں اور ان سے سائیکل اسٹینڈ کی مد میں نوٹ وصول کیے جائیں، تو حیرت کا شدید جھٹکا تو ضرور لگے گا۔ آج کل گرمیوں کی چھٹیاں ہیں، مگر اسکولوں میں یونی ورسٹیوں کے طلبہ کے امتحان جاری ہیں۔ ایک طرف گرمی نے ناک میں دم کر رکھا ہے، پھر رحمتوں کا بابرکت مہینہ بھی ہے۔ دوسری طرف دنیاوی امتحانات، رہی سہی کسر مافیا نے نکال لی ہے۔ اسکولوں میں سائیکل کھڑی کرنے کے کے بیس روپے اور اگر موبایل جمع کروایا جائے، تو بیس روپے اور دینے پڑیں گے۔جی ہاں، یہ صورت حال مسلم ہائی اسکول ملتان کی ہے، جس میں پچھلے دنوں اپنے دوست کے ساتھ پیپر دے رہے تھے۔ کیا ان لوگوں کو حکومت نے حکم جاری کیا ہے؟ من مانی کی حد ہوتی ہے؟ تعلیم حاصل کرنا گویا گناہ ہی ہوگیا۔ قانونی اداروں کی بغل میں بیٹھ کر یہ کام ہو رہے ہیں۔ مافیا نے اسکولوں کو نہیں چھوڑا۔ افسوس قانون بنانے والے جب لمبی تان کر سو جائیں، قانون والے جب قانون کی خلاف ورزیاں کرنے لگیں، تو معاشرے میں بگاڑ نہیں، تو کیا امن کے چرچے ہوں گے؟ آج ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے۔ ہر کوئی دونوں ہاتھوں بلکہ اب تو پاوؤں سے بھی دولت اکٹھی کرنے میں لگا ہوا ہے۔ انسانیت، احساس رہ ہی نہیں گیا۔ کرپشن کا جن مستانہ ہوا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں کی دیکھا دیکھی پرائیوٹ اداروں نے رشوت لینا معمول بنا لیا ہے۔ عدالت میں چلے جائیں یا تھانے میں، ذلیل و خوار ہو کر نکلیں گے۔ عدالتیں حکم جاری کرتی رہ جاتی ہیں، عمل درآمد آج تک نہیں ہوا،جس ملک میں وزیراعظم کو گیارہ سیکنڈ کی سزا دی جائے، وہاں قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ادویہ میں جعل سازی عام ہے۔ بازاروں میں خالص اشیاء کا مل جانا خوش بختی سمجھا جانے لگا ہے۔ افراتفری کا عالم ہے ’’جس کے ہاتھ جو لگے لے اڑو‘‘ کا فارمولا لاگو ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جعلی ڈگریاں تک دست یاب ہیں۔ آپ انگوٹھا چھاپ ہیں، تو کیا ہوا۔ گبھرایئے نہیں، آپ بھی کسی نہ کسی وزارت پر حق رکھتے ہیں۔
افسوس صد افسوس، یورپ والے ہمارا مذاق اڑاتے نہیں تھکتے اورہم اہل مسلم ہو کر، پاک وطن کے باسی ہو کر ناپاکی، حرام خوری، رشوت اور دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں۔ غریبوں اور مسکینوں کو روندتے جاتے ہیں۔ یتیموں کا حق کھائے جاتے ہیں۔ دولت ،دولت ،دولت کی گردان کرتے جاتے ہیں۔ دین اسلام کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔میں حیران ہوں کہ کوئی عیسائی، یہودی، دین اسلام کی گستاخی کرے، تو ہم آگ بگولہ ہو جاتے ہیں مگر اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ ہم تو اپنے ہی ہاتھوں دین اسلام کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ جھوٹ ہم بولتے ہیں، حرام ہم کماتے ہیں، حرام ہم کھاتے ہیں، بددیانتی، لوٹ مار، سودی کاروبار ہم کرتے ہیں، ملاوٹ ہم کرتے ہیں۔ رسم و رواج، ثقافت اور رہن سہن کوئی ایک بھی دین اسلام جیسا نہیں ہے۔ پھر کہاں کے مسلمان، کہاں کے دین اسلام کا راگ الاپنے والے؟ دین اسلام بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور ہم بھائی کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ خون کی ندیا ں بہا رہے ہیں۔ عزتوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ پھر ہم میں اور ان میں فرق ہی کیا ہے؟
ہم سارے الزام حکومت کے سر تھوپ کر سرخ رو ہو جاتے ہیں۔ کیا حکومت نے کہا ہے کہ نماز ترک کرتے جاؤ، حکومت نے کہا ہے کہ رشوت لو، اپنے فرض سے بددیانتی کرو اور اپنے رزق میں حرام شامل کرو؟
کیا حکومت نے کہا ہے کہ شراب نوشی کرو، جوا کھیلو، اپنی عورتوں کو بے آبرو کرو، کرپشن کرو، خون بہاو، قتل کرو اور امن تباہ کرو، دہشت گردی پھیلاؤ؟ کمال ہے، سارے الزام حکومت پر اور ہم بے گناہ؟ واہ بھائی واہ! پھر ہمیں بھی سائیکل اسٹینڈ پر جاکر کرتب ہی کرنے چاہئیں۔ کیوں کہ ہم سے بڑھ کر جوکر نہیں، جو اپنے دین کے ساتھ بھی مذاق کرتا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ بھی۔
666 total views, no views today


