پاکستان کے ’’پایۂ تخت‘‘ اسلام آبادسے جنوب مغر ب کی طرف کوئی ہزار کلو میٹر دوری پرایک شہر واقع ہے۔ کیا نام دار نام تھا ماضی میں اس کا ’’وادئ شال‘‘۔ وقت کے بے رحم تھپیڑوں نے اس پُررونق نام کا احساس لتاڑا۔ وہ نازک نام شہراب بڑا سخت جان بن گیا ہے۔ ہم نے پہلی دفعہ پڑھا کہ انگریز بہادر اس کو’ ’ہندوستان کی چابی‘‘ کہا کرتے تھے۔ اس ملک کے پانچوں صوبوں کے لوگ بڑے پیار و محبت سے یہاں کے گلی کوچوں اور بستیوں میں آمنے سامنے رہتے تھے۔ یہی نسلیں اب بھی اِدھر اُدھر، یہاں وہاں ہی رہتی ہیں، لیکن ایک دوسرے سے چپ چپ کر اور ڈر ڈر کر۔۔۔
آج ہم چار دوست جا رہے ہیں اپنی نظروں سے اس وادی کی زیارت کرنے اور اس کی روداد آپ کو محسوس کروانے کے لیے۔ اس وقت موبایل کا اسکرین ’’صبح کاذب‘‘ کے نو بجنے کی نوید دیتاہے۔ مزید چھان بین میں دن کا قرعۂ فال جمعتہ المبارک کے نام نکلتا ہے۔ تاریخ بائیس، مہینہ مئی اور سال یہی دوہزار پندرھواں پاتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ اس بابت اسلامی کیلنڈر اور ہندی جیٹ، پو ،ما، فگنڑ چیترکا احوال موجود ہوتا، تو وہ بھی باقاعدہ طور پریہاں ڈیکلیئرکرنے میں تامل نہ کرتے۔ ہم تو چاہتے یہ ہیں کہ اس سفر کا ٹایم فریم ’’بنی نوعوں‘‘ کے تمام کیلنڈروں میں جگہ پائے۔ آخر اس مد میں صرف ابنِ بطوطے کی اجارہ داری کیوں؟ یہ زیارت ہمیں تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹرطویل دو طرفہ سفر اور کوئی سترہ دن تک اپنے ’’گھریلو قیام و طعام‘‘ کی قربانی کے صلے میں نصیب ہوئی ہے، جو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ کچھ کھو ئیں گے، تو کچھ پائیں گے۔ اس زیارت کی سعادت کئی خشک و تر دیہاتوں، شہری رنگینیوں، صحرائی ویرانیوں، پُر خطر پہاڑی راستوں، وسیع بیابانوں اور لاتعداد چیک پوسٹوں سے گذرنے کے بعد ہمیں حاصل ہوئی ہے۔ اس دوران میں پتا چلا کہ پشتونوں کا سرِآغاز تو فورٹ سنڈیمن ہی ہے، ہم تو ویسے چھلانگیں مارتے ہیں لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے تو ’درۂ زندہ‘ نامی علاقہ کے لوگوں کے ساتھ بھی حال احوال کریں گے۔ اپنے بھائی ہیں کوئی ایرے غیرے تو نہیں۔ چلتے چلتے تختِ سلیمان کا دور دور سے دیدار ہوگا، تو قیس عبدالرشید کی بات بھی آئے گی۔ یہ سفر وسیلۂ ظفر زیادہ ہے یا وسیلۂ فکر؟ ہم کیا بولیں، اس کے مندرجات خود بولیں۔ یہ ’’حالہ دئی‘‘ ہے اُن لوگوں کا جن کو ریاست صرف گنتی کی حد تک ماینڈ کرتی ہے اور گنتی پوری کرنے کے بعد ’’کویکلی آوٹ آف ماینڈ‘‘ کرتی ہے یا یوں کیوں نہ کہیں کہ ’’آوٹ آف لایف‘‘ کرتی ہے، جیسے کہ وہ اس دنیا میں نازل نہ ہوئے ہوں۔ جب تک اگلی گنتی کا وقت نہیں آتا۔ یہ اُن بلوچ، پختون، پنجابی، بروہی، ہزاری اور دیگر قوموں اور فرقوں کے ایسے مشترکہ وطن کی بات ہے،جہاں عام لوگ صرف ’’غمِ آب و دانہ‘‘ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کچھ حقوق کے بھی مالک ہیں اور یہ کہ ان کو زندگی کی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکم ران دن کو تو کیا، رات بھربھی کمر بستہ رہتے ہیں۔ ’’سر بہ دِ سہ خوگوم‘‘ جو ہم راہ چلتے دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں، اس میں سب شریک ہوتے ہیں، تو بسم اللہ، چلتے ہیں سفر کی باتیں بھی کرتے ہیں اور ادھر ادھر منھ ماری بھی کرتے ہیں۔ بجٹ زدہ’’اسلام آبود‘‘ میں صبح صبح سے سورج کا مزاج بہ جا طور پر گرم ہونے پر تلا ہے۔ کار کا اسپیڈو میٹر پونے دولاکھ پر سات سو پچاس مزید کلو میٹر کندھے پر رکھے اور مزید رکھے جا رہا ہے۔’’شا ہ راہِ اسلام آباد‘‘ کی راہ پر موٹروے انٹر چینج کی طرف چلتے ہیں، تو بیچوں بیچ پنڈی پشاور جی ٹی روڈ سے مڈبھیڑ ہوتا ہے۔ کار چلانے والا جی ٹی روڈ کے پنڈی پشاور سیکشن کی خدمات عارضی طور پر مستعار لیتا ہے۔ راستے میں ایک بڑا ساین بورڈ مختلف مقامات کے فاصلوں کا ’’گوریوں‘‘ کی زبان کے علاوہ ’’کالیوں‘‘ کی زبان میں بھی تذکرہ کرتا ہے اور تیر کے نشان کے ذریعے طے کرتا ہے کہ کس شہر کے لیے کس راستے کا رُخ کرنا ہے۔ ایک سیدھا سادھا اور لمبا تڑنگا تیر پشاور کے محلِ وقوع کا ذکرِ خیرکرتا ہے۔ دوسراتیر بائیں طرف کمر لٹکائے فتح جنگ، تلہ گنگ اور کوہاٹ کے فاصلاتی خد و خال کی وضاحت کرتا ہے۔ اس ساین بورڈ کے نیچے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کا اسم مبارک درج ہے۔ یہ اتھارٹی عمومی طور پر جوق در جوق آنے والے گوریوں اور گوروں کی آسانی کے لیے ساین بورڈز پر احتیاطی تدابیر انھی کی زبان میں ڈسپلے کرتی ہے۔ مثال کے طو ر پر ’’ڈرائیو وِد کئیر، یور لایف اِز پری شی ایس‘‘ یا ’’وی آر ایٹ یور سروس‘‘ یا ’’گو سلو اِن فوگ‘‘ جس سے ہم جیسے دیسی ’’مفت خورے گورے‘‘ فری میں مستفید ہوسکتے ہیں۔ اب یہ لوگ فاصلے بتانے تک سہی، اردو زبان کو بھی چارہ ڈالنے لگے ہیں۔ بہ ہرحال، ہم نے اگلے چوک میں فتح جنگ کی طرف مڑنا ہے سو مڑتے ہیں۔ اس چوک کو ترنول چوک کہتے ہیں۔ ا سلام آباد اورٹیکسلا کے درمیان سینڈوچ بنا ’’ترنول‘‘ ایک بے ڈھنگا سا ٹاون یا’’با ڈھنگی‘‘ سی بستی ہے۔ حالات و وقعات دیکھ کر اس علاقہ پردونوں ٹایٹل جچتے ہیں۔ اسی ترنول میں خاصے پختون کاروبار ی بھی ہیں، باتونی اور سیاسی بھی۔ فتح جنگ کوہاٹ روڈ پرچلتے چلتے سمجھ بھی نہ پائے کہ ہم تو ضلع اٹک کی حدود میں انٹری کرچکے ہیں اوروہ بھی کسی شناختی پریڈ یا ٹریولنگ ڈاکومنٹس کی جانچ کے بغیر۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے شناختی کارڈ کی بے حرمتی و بے قدری کا احساس بھی ہوا۔ اتنے گئے گزرے دن دیکھنے کے لیے بھی زندہ تھے کہ کوئی ہم سے یہ بھی پوچھنا تک گوارا نہ کرے کہ بتا تیری اوقات کیا ہیں؟ اوقات کی بات پر یاد آیا کہ قافلہ میں شامل دیگر تین دوستوں کی اوقات پر بھی بات ہو۔ ’’پروفیسر محمد روشن‘‘ ظاہر ہے کہ پروفیسر ہیں اور وہ بھی ہسٹری کے، جس کا سر پیر وہ ہی جانے یا تاریخ کے سمندر ڈاکٹر سلطانِ روم جانیں یا ان کے پیر و مرید جانیں یا پھر خدا جانے۔ پروفیسر بارے آگے مزیدبات ہونے کا امکان بھی ہے۔ ’’طالع مند خان‘‘ کنسلٹنٹ ہیں، انالسٹ ہے اور رائیٹر بھی ہیں۔ بلا کے پختون ہیں۔ لوگ باتیں کرتے ہیں، ہم باتیں ’’چھپواتے‘‘ ہیں، وہ باتیں ’’مارتے‘‘ ہیں اور اپنی سیدھ میں سیدھا چلتے ہیں۔ طالع مند کی طالع مندی یہ ہے کہ وہ خواتین و حضرات میں یکساں مقبول نہیں۔ قافلے کا تیسرا بندہ ’’حاضر گل‘‘ ایسا نہیں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے بلکہ ایسا ہے جیسا کہ کام سے ظاہر ہے۔ اپنا پھلتا پھولتا ادارہ اور اپنی دراز زبان چلا رہا ہے۔ ہماری گاڑی بھی چلا رہا ہے اور ٹرپ کے منتظم کا عہدہ بھی۔ حاضر نہ ہوا، ایک چلتا پھرتا ، دیکھتا بولتا نیچرل سسٹم ہوا۔
تحصیل جُنڈ کے برلبِ سڑک گاؤں تھٹی سیدان میں ہائی ٹی پینے کی لالچ میں پہلا پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ ہمارے ہائی ٹی میں چائے ’’سرو‘‘ کرنے سے پہلے پنجاب کا مرچیلادال چنا اور ایک گرما گرم پتیری روٹی شامل ہوتی ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالک ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں، تو اتنی خندہ پیشانی سے کہتے ہیں جیسے عرصے کے بچھڑے دوست اُن کے ڈیرے میں ڈیرہ ڈالنے آئے ہوں۔ ہم گاہک کا روپ نہ دھارتے، تو وہ گاڑی سے ہمارے ٹریولنگ بیگ اُتارنے کا فرمان جاری کرتے۔ خوش لباس و خوش اخلاق ’’ادھیڑجوان‘‘ سید تنویر حیدر کے ساتھ تعارفی کلمات کے بعد ریسٹورنٹ کی دیواروں پر لکھی گئیں ہدایات و نگارشات سے بات چیت شروع ہوتی ہے اور شاہ صاحب کے گاؤں تک پہنچتی ہے۔ پنڈ تھٹی سیداں میں شیعہ اور سنی مسلک کے تقریباً پانچ سو گھرانے آباد ہیں، جو آپس میں بے حد پیار و محبت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ لین دین اور کاروبار کرتے ہیں، اکھٹے اُٹھتے بیٹھتے ہیں، تعلق اور دوستیاں ہیں۔ مجال ہے کہ ابھی تک کسی نے کسی کو کسی عقیدے یا مسلک یا فرقے کی بنیاد پر نقصان پہنچانے کا سوچا ہو۔ سب ایک دوسرے کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، آپس کادکھ درد تقسیم کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مساجد میں جاتے ہیں، گھل مل کر افہام و تفہیم سے اپنے مسایل کا حل نکالتے ہیں۔ مختصراً اس گاؤں میں آج بھی وہی صورتِ حال ہے جو انیس سو اسی کی دہائی تک پورے ملک میں تھی۔ پیار و محبت وبھائی چارے کی فضا میں زندگی کا یہ حسین اکھٹ خوش اسلوبی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ ’’اللہ کرے زورِ اتفاق اور زیادہ مضبوط اور وسیع۔‘‘ ہم شاہ صاحب سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کرکے اجازت لیتے ہیں اور ایک دفعہ پھر موٹر کارپکی سڑک پر فراٹے بھرنا شروع کرتی ہے اور ہم فیض کے ان اشعار میں لپٹے پُرسکون خراٹے
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیمان سے گذر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
(جاری ہے)
868 total views, no views today


