پاکستان کو آج جن مشکل حالات کا سامنا ہے شاید ہی آج سے پہلے ا یسے حالات کا سامنا کرنا پڑ ا ہو۔ ایسے میں صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم ٹھنڈے دل و دماغ اور سوچ سمجھ سے کسی فیصلہ پر پہنچے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ پاکستان کے حساس ادارے عالمی سازشوں کی زد میں ہیں۔ آئے روز پاکستان کے ان اداروں کو نشانہ بنایا جاتاہے جو وطنِ عزیر کی سا لمیت کے ضامن ادارے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف بی بی سی کی رپورٹ نے پورے ملک میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں ایم کیو ایم پر ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘،حکم رانوں سے خفیہ روابط رکھنے، ایم کیوایم کے کارکن پر بھارت میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے اور ہندوستان کے مالی معاونت کے الزامات ہیں۔ جب کہ دوسری طرف میڈیا پر ایم کیو ایم کے زیر حراست دو رہنماؤں محسن علی سید اور محمد کاشف کے اعترافی بیانات کی گونج ٹی وی چینلز پرسنائی دے رہی ہے۔ ادارہ بی بی سی کو بہ خوبی علم تھاکہ جو رپورٹ وہ سامنے لانے والا ہے۔ اس کے بدلے میں اسے ہتک عزت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بی بی سی یہ بھی جانتا ہے کہ ہتک عزت کے مقدمات میں برطانوی عدالتیں بہت سخت گیر ہیں۔ اس لیے اس نے ایم کیو ایم کے خلاف اس قسم کی خبر نشر کرنے میں احتیاط سے کام لیا ہوگا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ کی حقیقت کچھ بھی ہو۔ اس حقیقت میں شک کی کوئی گنجایش نہیں کہ ایم کیو ایم کسی بھی صورت میں ایک سیاسی جماعت تھی اور نہ ہے بلکہ ایم کیو ایم سیاسی لبادے کی آڑ میں تشدد اور دہشت گردی کی قایل جماعت ہے۔ آپ کوالطاف حسین کی وہ تاریخ ساز تقریر ضرور یاد ہوگی جس میں انھوں نے اپنی برداری کو تلقین کی تھی کہ ’’اپنے ٹی وی سیٹ بیچ کر ہتھیار خرید لیں۔‘‘ الطاف حسین تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے میں طالبان سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ دہشت گردی میں ان کے کارنامے قابل دید ہیں۔ الطاف حسین نے تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے سب بڑے شہر، واحد بندر گاہ، تجارتی اور معاشی مر کز کراچی پر تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔وہ کراچی کے بے تاج بادشاہ یا ڈان بن چکے ہیں۔ کیوں کہ لبرل اور مذہبی سیاسی جماعتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ایم کیو ایم کی مرضی کے خلاف کچھ نشرکرنے اور لکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ ٹی وی چینلز الطاف حسین کی گھنٹوں لمبی تقریریں نشر کرنے پر مجبور اور کراچی کے عوام الطاف حسین کی گھن گرج سننے پر راضی ہیں۔ بارہ مئی 2007ء کے دن سابقہ جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چوہدری کو عملاًکراچی ائیر پورٹ پر قید کیے رکھا۔ اس واقعے میں کئی جانیں ضایع ہوئیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کراچی آنے نہیں دیا گیا۔ سابق گورنرحکیم محمد سعید جیسے فقیر منش انسان سمیت دوسرے افراد کا قتل الطاف حسین کی دہشت گرد ذہنیت کی واضح علامت ہے۔ کراچی کے سابق میئر مصطفی کمال کو ایم کیو ایم کے دہشت گردوں سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ڈر سے یو اے ای (دبئی ) میں پناہ لینے پر مجبو ہوچکے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ تو بہ ظاہر ایم کیو ایم کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف بی بی سی کی رپورٹ میں پاکستان کے حساس اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ منظر عام پر آتے ہی الیکٹرانک میڈیا پربھانت بھانت کی بولیاں بولی جانے لگی ہیں۔ ان کے خیال میں اگرواقعی ایم کیو ایم کے ہندستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور ہندوستانی حکم رانوں سے روابط تھے، ایم کیو ایم کے کارکن ہندوستان میں تشدد اور دہشت گردی کی تربیت حاصل کر رہے تھے، تو ہمارے حساس ادارے کیا کر رہے تھے۔ انھیں اس حقیقت کا علم کیوں کر نہ ہو سکا؟ حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے حساس ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے جو رپورٹ تیار کی ہے۔ یہ کام تو کراچی کے ایک پولیس آفیسر راؤ انوربہت پہلے کر چکے ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور ہندوستانی حکم رانوں سے روابط ہیں۔ ایم کیو ایم کے کارکن دہشت گردی کی تربیت کے لیے ہندوستان جاتے ہیں اور ہندوستان کی حکومت ایم کیو ایم کی مالی معاونت کر رہی ہے، جس کی پاداش میں الطاف حسین پولیس آفیسر راؤ انور کو نسلی خرابی کی گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ انھیں اس کا خمیازہ بھگتنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ ایسے حالات میں ہمیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور عقل و دانش سے کام لینا ہوگا۔ کیوں کہ ایم کیو ایم کے سر پر منی لانڈرنگ اورعمران فارق قتل کیس کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ ایم اکیو ایم بہت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے۔
مانا کہ بی بی سی کی رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں۔ پھر بھی یہ ایک حساس معاملہ ضرور ہے اور ہمیں اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ حکومت برطانیہ سے بات کرنا چاہیے۔ ہمارے سیاست دانوں کا غیر سنجیدہ رویہ پاکستان کے لیے کبھی نیک شگون ثابت نہیں ہوسکتا۔
696 total views, no views today


