آنکھ کھلتی ہے جب خوشحال گڑھ پہنچ جاتے ہیں۔ پہلی نظر میں خیبر پختون خوا نظر آئے، تو غیبی بابا کا مزار نظر آئے۔ دوسری نظرمیں خیبر پختون خوا نظر آئے، تو پولیس چیک پوسٹ نظر آئے۔ تیسری نظر میں ’’اپنڑی‘‘ پختون خوا نظر آئے، تو بندوں کی بہ جائے دیواریں اور بعض جگہوں میں بندوق بولتے نظر آئیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے در و دیوار ہدایات، اعلانات، حکمت وایجادات کے ڈسپلے کے علاوہ، لڑکے کی پیدایش میں سرخ روئی، شادی میں رکاؤٹ کی دوری، دشمن کی موت کی مجبوری، محبوبہ کے حسبِ منشاء جز وقتی و ’’فل وقتی‘‘ حصول کے کرتب، محبت میں کامیابی کے گُر اور ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ جیسے اشتہارات کے شو کیس ہیں۔ یہ شو کیس ہمارے سماجی اور ر روحانی ضعیف الاعتقادی کی کیا حسین عکاسی کرتے ہیں۔ یہ شوکیسز کسی انجانے کو یہاں کے باسیوں کی علمی، ادبی اورمعاشی سطحوں کی جانچ پڑتال کا چلتے چلتے مفت سہولت مہیا کرتے ہیں اور اب تو خیر سے بلدیاتی انتخابات کا دور دورہ ہے، تو دیواروں کے علاوہ بینرز اور پوسٹرز کیا، جھنڈے کیا، درخت، دکان کیا، چینگ چی، سائیکل، پتھر حتیٰ کہ چلتے پھرتے انسانوں کے سر رنگین ٹوپیوں کی صورت میں اس فری پبلسٹی کے نرغے میں ہیں۔۔۔’’بریک شہ (صوبہ سرحد )دے رورہ‘‘ ایک لمبے پولیس والے کا میٹر بھر ’’تڑنگا ہاتھ‘‘ گاڑی کے ونڈ شیلڈ کے سامنے آنااور اسٹاپ کا اِلرٹ دینا اور’’حاضر دماغ‘‘ ڈرائیور کا اس کی ناک کے بالمقابل بریک کا کچومر نکالنا، سوال و جواب کا محدود و غیر روایتی سیشن انجام تک پہنچنا، ہمیں کسی خرچے یا فیس کی ادائیگی کے بغیر زبانی کلامی انٹری کی اجازت کا ملنا، جس کے فی البدیہہ نتیجے میں ہمیں خوشحال گڑھ کا خوشحال لگنا، پچھلے چند ساعتوں میں اتنے اعمال سے گزرنا پڑا۔ خوشحال گڑھ، پنجاب اور پختون خوا کے باڈر پر واقع ایک ٹاؤن ہے، جب ریل گاڑی نوجوان تھی، تو خوشحال گڑھ کا ریلوے اسٹیشن بڑا جوان ہوا کرتا تھا۔ خدا اُن متعلقہ ریلوے والوں کو کبھی نہ بخشے، جو گوروں کی لگائی ہوئی پٹری کو رواں دواں نہ رکھ سکے اوراُن کے کیے کرائے پر جھاڑوپھیر دیا۔ ہم اس علاقے سے تیزی سے گزرتے ہیں اور انڈس ہائی وے پر پہنچ کر ایک ٹرک ہوٹل میں سانس لینے، مضرِ صحت دھواں کھینچنے اور چائے کا ’’چسکہ‘‘ لینے رکتے ہیں۔ یہ پختون خوا کی صحرائی وادی کرک کا علاقہ ہے۔ کرک صوبائی دارالخلافہ پشاور سے کوئی ایک سو بیس کلو میٹر کے فاصلے پر کوہاٹ اور بنوں کے درمیان میں ’’مخل‘‘ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی سات سوا سات لاکھ آبادی پر مشتمل یہ وادی، پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں صرف ایک قبیلہ کے لوگ آباد ہیں ’’خٹک۔‘‘ ہوش یاری ہو، تو ایسی ہو کہ خٹک خود تو پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر جگہ اپنی پہچان رکھتے ہیں، لیکن اپنے علاقے کو بیرونی لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہے۔ شرح خواندگی میں ضلع کرک پورے ملک میں ٹاپ پر ہے اور شرح جرایم میں سب سے نیچے ۔ کرک کی مٹی نے ملک کو بڑے نام ور پروفیسر دیئے۔ پروفیسر پریشان خٹک کو کون نہیں جانتا؟ پروفیسر ابراہیم خٹک، پروفیسر اعجاز خٹک، پروفیسر ناصر جمال خٹک، پروفیسر نذیر شاہ خٹک، تو چند نام ہیں پروفیسروں کی طویل لسٹ میں۔ اسی طرح یہاں کے کافی لوگ کارِسرکار میں مداخلت کا اختیار رکھتے ہیں، سول اور فوجی اداروں میں اپنے فرایض سر انجام دے رہے ہیں اور وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ زراعت میں گندم، چنے، مکئی، مونگ پھلی وغیرہ اہم فصلیں ہیں۔یہ علاقہ کبھی کافی ’’ماندہ‘‘ تھا، یعنی پس ماندہ سے بھی گیا گزرا۔ لوگوں نے محنت کی، تعلیم کے حصول کے لیے ہجرت کی، سختیاں برداشت کیں اور کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ جی ہاں، وہی کرک اب پچیس تیس ہزار بیرل خام تیل یومیہ پیدا کرتاہے اور یہاں اتنا گیس نکلتا ہے جو ہمارے صوبے کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ شکر درہ، گورگورے، ماکوڑی، ناشپہ اور کڑپہ وغیرہ میں قدرتی وسایل کی فراوانی ہے، یہاں پر جپسم بھی پایا جاتا ہے اور نمک بھی۔ اتنے وسایل سے مالا مال علاقے کے مکین تو بڑے مزے میں ہوں گے۔ وہاں پیٹرول کی نہیں، تو کم از کم پانی کا کوئی نہر توکھودا گیا ہوگا جو یہاں کی روکھی سوکھی زمینیں سیراب کرے۔ اب تو خوشحالی ہوگی، روزگار کے اور کاروبار کے بڑے مواقع ہوں گے اور عوام کی پانچ انگلیاں’’پیٹرول‘‘ اور پندرہ ’ ’ایل پی جی‘ ‘میں ہوں گی؟ ہماری سوال نما سی بحث سن کر پاس بیٹھے گول مٹول ممریز خٹک کاکا، جو اس بحث کا حصہ نہ تھے، چائے کا کپ ہونٹوں سے لگائے، اچانک چسکی کی روانی کو ’’سرِزبان‘‘ روک لیتے ہیں، گلے کا ’’شافٹ‘‘ گھما کر ،’ ’سُرخ رو‘‘ آنکھوں کے جلو میں میری طرف غراتے دیکھتے ہیں۔ سر سے پیر تک میری تراش و خراش اور عقل و فکر کا سطحی جایزہ لیتے ہیں، ہونٹ بھینچتے ہیں،آستین کھینچتے ہیں، زیرِ لب کچھ کہتے ہیں اور پھر کچھ سوچتے ہوئے منھ پھیرتے ہیں۔ ہم نے سوال کو پھر ’’ری پیٹ‘‘ کرنے اور مزید بحث کرنے سے گریز کیا۔ کیوں کہ ہمیں اشارتاً بتایا گیا کہ بعض لوگ بعض سوالوں کے جواب زبان سے نہیں ’’ری پیٹر‘‘ بندوق سے دینا پسند کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو اپنے وسایل پر اختیار نہیں دیا جاتا، ان کو مناسب حق نہیں دیا جاتا، سہولتیں نہیں دی جاتیں، تو پھر نفرتیں تو بڑھتی ہیں۔
تم نہ جانے کس جہاں میں کھوگئے؟ اُٹھو، آگے چلیں؟ ہمار ا اگلا ٹارگٹ بنوں ہے، جو این ایچ اے کے کاغذوں میں پشاور سے کوئی دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں ہم نے رات گزارنی ہے، لہٰذا ہائی وے سے بنوں لنک روڈ پر ہو لیتے ہیں۔ اس لنک روڈ کے کنارے قایم مسجد کے سامنے ایک بورڈ ’’بولتا‘‘ ہے: ’’مسجد برائے مستورات، مردوں کا داخلہ منع ہے۔‘‘ ہوش یار باش،جوں جوں بنوں شہر کی طرف آگے بڑھتے ہیں، توں توں جھنڈا کلچر، دیوار کلچر، بینر کلچر مزید پروان چڑھتا ہے۔ سیاسی و غیر سیاسی جھنڈے، علاقائی و غیر علاقائی جھنڈے، پرسنل و پرائیوٹ جھنڈے، کوئی گھر، حجرہ، دکان، آئی ڈی پی ٹینٹ، خیمہ، مارکیٹ، کھیت میں کوئی پودا، راستے میں کوئی کھمبا، گندم کا’’بھوساڑہ‘‘، غرض یہ کہ ہر طرف کوئی شے ایسی نہیں، سوائے خلا کے، جس پر کوئی نہ کوئی جھنڈا یا بینر لہرا نہ رہا ہو اور کوئی دیوار ایسی نہیں جس پر اشتہاری یا انتخابی نعرے درج نہ ہوں ۔ جیسے ’’سیف اللہ بردرز کو سلام‘‘، ’’مروت قوم کا نعرہ ہے، پیر فقیر ہمارا ہے‘‘، ’’رضا خان شیر خیل الیکشن آفس سرائے گمبیلا‘‘، ’’فخرِ مروت شہباز خیل‘‘، ’’ملک سیفو خان شیرانی کو ووٹ دیں۔‘‘ یاد رہے ، یہ سارے نعرے عوام کی طرف سے اپنے محبوب امیدواروں کے سپورٹ میں دیئے جاتے ہیں۔ عوام اپنے محبوب لیڈر کی شان میں پمفلٹس، پوسٹرز اور اخباری اشتہارات تک شایع کرنے کے عادی ہیں۔ کتنے اچھے عوام ہیں یہاں کے، ان کی سیاسی ٹریننگ ہی ایسی ہوئی ہے۔ دیگر علاقوں کے عوام کو بھی اس معاملے میں یہاں کے عوام کی تقلید کرنی چاہیے۔ ویسے نسلِ انسانی کی مختلف قوموں، قبیلوں، خیلوں، گروہوں اور گروپوں میں تقسیم شاید اور کہیں بھی زیادہ ہو، لیکن جس شرح کے ساتھ ہمارے جنوبی اضلاع میں، ہم نے دیواروں پر پڑھا، کہیں اور نہیں پڑھا۔ ہر نام کے پیچھے قوم، قبیلے، خیل یا طبقہ کا ذکر اتنا ضروری ہے جتنا خود نام۔ تاکہ اصل و نسل سے پہچانے جا سکیں۔
جہاں جہاں پانی ہے وہاں ہریالی ہے۔ جہاں نہیں،وہاں کی زمینیں خشک اور صحرا ئی ہیں۔ سوکھی پہاڑیوں کے بیچ پھیلا بنوں ایک زندہ و تابندہ و مردم خیزشہر ہے۔ مردم خیز اس تناظر میں کہ یہاں صرف مرد ہی نظر آتے ہیں۔ دریائے کُرم اور گمبیلا ، جو اَب نام کے دریا ہیں، یہاں سے ہو کر لکی مروت میں جا ملتے ہیں۔ بنوں شہر وزیرستان کے آئی ڈی پیز کا سب سے بڑاٹھکانا ہے، جیسے مردان، سوات کے لوگوں کا تھا۔ یہاں پر اب بھی کافی تعداد میں آئی ڈی پیز موجود ہیں۔ اس لیے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، چنگ چیوں اور ریڑھیوں نے پورے شہر میں کہرام مچا رکھا ہے۔ بنی گل (بنوں) کے جمعے کے ’’ما زیگری‘‘ دیکھنے کا شوق ہے، توکچھ پروٹوکولز کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اول، تازہ موتی کا ہار گلے میں ڈالنا ہے۔ دوم، گریبان کے ایک دو بٹن کھلے رکھنے ہیں۔سوم، آستینوں کو ہاف موڑنا ہے۔ چہارم، ’’پکول‘‘ یا ٹوپی سر پر رکھنا افضل ہے لیکن یہ شرط ’’آپشنل‘‘ ہے۔ پنجم اور آخری،شادی شدہ حضرات ہار کو سامنے نہ لٹکائیں بلکہ گر یبان کے اندر یوں لٹکائیں کہ آدھا نظر آئے اور آدھا نظروں سے اوجھل رہے۔ تاہم غیر شادی شدہ افراد کو ہار سامنے لٹکانے کی آزادی ہے۔ ہم تمام پروٹوکولز کو فالو کرتے ہیں اور پھرموتی کا ہار گلے میں ڈال کرسامنے لٹکا تے ہیں، تو میزبان حیرت سے کفِ افسوس ملتا ہوا پوچھتا ہے: ’’خان جی، آپ نے ابھی تک شادی نہیں کی کیا؟ اس بے تکے و بے ڈھنگے و ’’بے رنگے‘‘ سوال کا ہم کیا جواب دیتے؟عیاں را چہ بیاں؟
پھر اس کی گلی میں جائے گا پھر سہو کا سجدہ کرے گا
اس دل کا بھروسہ کون کرے ہر روز مسلماں ہوتا ہے
(جاری ہے)
1,280 total views, no views today


