دنیا کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے، تو اس میں سب فسادات کا منبع جہالت ہی نظر آتا ہے۔ جہالت صرف یہ نہیں کہ کوئی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا بلکہ بہت سارے تعلیم یافتہ لوگ وہ حرکات کر گزرتے ہیں جس کی ایک تعلیم یافتہ فرد سے توقع کرنا مناسب نہیں۔ لہٰذا جہالت سے مراد یہ ہوا کہ وہ کام جو مناسب نہیں ہیں، وہ حرکات جو ہم اپنے لیے پسند نہیں کرتے اور دوسروں کے واسطے کر گزرتے ہیں، وہ ہم پر جہالت کا ٹھپہ لگالیتے ہیں۔ اب چاہے ہم مروجہ طریقے سے پڑھے لکھے ہوں یا نا ہوں، بات برابر ہے۔
تعلیم کی تسلیم شدہ تعریفوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ ’’اس کے ذریعے انسان میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔‘‘ اب اگر سالوں پر محیط پڑھنے کے باوجود کسی میں مثبت تبدیلیاں نہ آئیں، تو اس تعریف کے تناظر میں ایسے بندے کو ’’تعلیم یافتہ‘‘ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔
جہالت کے دو بڑے نقصانات جو میری نظر میں ہیں، وہ یہ ہیں کہ آپ خود برے اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں یا آپ کو برائی کی طرف راغب کیاجاتا ہے۔ برائی سے بچنے کے لیے عقل و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر عقل و فکر کی کمی ہو، تو کوئی بھی چالاک فرد اپنے ذاتی مفادات کے لیے آپ کو استعمال کرسکتا ہے اور یہ ایک ایسی قباحت ہے کہ اگر آپ اس پر غور کریں، تو ازل سے یہ معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ گھر کے چھوٹے بچوں سے لے کر ریاستوں تک اس کی زد میں آتے ہیں۔ دنیا میں جتنی تباہیاں آئی ہیں، اسی عمل نے ان میں ڈھیر سارا کام انجام دیا ہے۔ اس عنصر کی موجودگی میں خونی رشتے اور انسانیت تک کا پاس نہیں رکھا جاتا بلکہ جانوروں کی طرح صرف اپنے مفاد کے گرد گھوما جاتا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر صرف ایک حدیث پر عمل ہوا، تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس دنیا میں امن آجائے گا۔ یہ دنیا جنت کا نظارا پیش کرے گی۔ یہاں نہ صرف امن ہوگا بلکہ اسلامی بھائی چارے کی مثالیں زندہ ہوجائیں گی۔ ہر کوئی پرسکون ہوگا۔ پھر ہم انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پرہم مجبور نہیں ہوں گے بلکہ انصاف ہماری دہلیز پر ہوگا۔
آج دیکھیے وہ باپ جس نے بچے کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اپنے منھ کا نوالہ اس کی بہتر پرورش کے لیے قربان کیا، اپنے بچے کے واسطے وہ کون سا اچھا یا برا عمل ہے جو اس نے نہیں کیا، اپنی ساری خواہشات کا مرکز بناتے ہوئے بچے کی کسی بھی تکلیف کو اپنے سر لے لیا لیکن وہ باپ بھی بیٹے سے انصاف کا تقاضا کرتا ہے لیکن شنوائی نہیں ہوتی۔
ایک عظیم ہستی ’’ماں‘‘ جو بچے کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پرلگاتی ہے۔ بچے کے چہرے کو شاداب دیکھنا چاہتی ہے لیکن وہ بھی ٹشو پیپر بن کر گزارا کرتی ہے۔ جب ایسے رشتے بھی اپنا اثر نہیں دکھاتے، تو پھر کون سا ایسا رشتہ ہوگا جو جہالت کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوگا؟ میں اپنے پریکٹس میں والدین کی قربانیوں کے ایسے ایسے اعمال دیکھتا چلا آیا ہوں جو اپنے اندر ایک طویل داستان رکھتے ہیں۔ بچوں کے لیے والدین کی قربانیوں کی وہ لازوال مثالیں میرے سامنے آجاتی ہیں کہ میں بیان نہیں کرسکتا لیکن جب میں بچوں میں نافرمانی اور خود غرضی کے جو اشارے دیکھتا ہوں، تو میں مڑ کر معاشرتی جہالت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں جس نے ہم میں وہ حس ختم کیا ہے جس کی توقع ایک انسان سے ہوسکتی ہے۔ الوہی تعلیمات تو یہ ہیں کہ آپ مخلوق پر رحم کرکے اللہ کے رحم کے مستحق ہوسکتے ہیں لیکن کتنا ظلم ہے کہ ہمیں تعلیم کچھ اس طرح دی گئی ہے کہ ہم اپنی ذات کے آگے بڑھ نہ سکے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
تہ د خپل زان د غمہ مرے زہ د جہان د غمہ
زاہدہ ستا ثواب زما گناہ تہ چرتہ رسی
ہم توتے کی طرح رٹتے چلے گئے لیکن عمل کے لحاظ سے فیل ہی رہے۔ سیکھنے اور رٹنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سیکھنے اور عمل کرنے میں فاصلہ نہیں چھوڑتے تھے یعنی جو کچھ وہ سنتے، اس پر عمل کرنا ان کا اگلا قدم ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی سرحد وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ آج مسلمان پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، حالاں کہ مسلمان میں وہ قربانی اور وہ صلاحیتیں آج بھی بہ درجۂ اتم پائی جاتی ہیں لیکن نامعلوم، باوجود رسمی و غیر رسمی تعلیم کے ہم جہالت کے گھپ اندھیروں میں ڈوبے ہیں۔
زمین دار کی حیثیت سے میرا کردار مناسب نہیں۔
مزدور کی حیثیت میں حلال خور نہ بنا۔
دوکان دار کی حیثیت سے میں ایمان دارنہ بنا۔
کارخانہ دار کی حیثیت سے مجھ میں ترس نہ آیا۔
بااختیار کی حیثیت سے میں نے سارا زور آزمایا۔
زندگی کا وہ کون سا شعبہ ہے جہاں ہم نے منافقت کے جھنڈے نہیں گاڑے۔
دست بہ دعا ہوں کہ فساد کی یہ جڑ یعنی ’’جہالت‘‘ بر سر زمین آکر خشک ہوجائے۔
3,775 total views, no views today


