عصر کو جب آفس سے فراغت ملی، تو حسب معمول افطاری کا سامان لینے بازار کا رخ کرلیا۔ بازار میں وارد ہوتے ہی چند دوستوں نے آواز دی اور روزنامہ آزادی کا ادارتی صفحہ ہاتھ میں تھما کر ایک کالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پڑھنے کا اصرار کیا۔ کالم کا موضوع تھا: ’’دو دن کالام میں۔‘‘ دوست غصے سے آگ بگولہ ہورہے تھے کہ مذکورہ کالم میں وادئ کالام کی مثالی مہمان نوازی پر بڑے گٹھیا قسم کے خیالات تحریر کیے گئے ہیں۔ آپ ذرا پڑھ لیں۔ چوں کہ افطاری کے لیے دیر ہو رہی تھی اس لیے میں نے صفحے کو فولڈ کرکے بغل میں دبا لیا اور اسی یقین دہانی کے ساتھ کہ افطاری کے بعد پڑھ کر اپنے تاثرات آپ دوستوں کے ساتھ شریک کروں گا۔
قارئین کرام! اب رات کے گیارہ بجنے کو ہیں، شام سے بجلی گدھے کے سرسے سینگ کی طرح غایب ہے۔ پورا محلہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے لیکن دوستوں سے کیا ہوا وعدہ بھی ایفا کرنا تھا، اس لیے میں نے شمع روشن کی اور مذکورہ کالم کا بہ نظر عمیق جایزہ لے رہا ہوں، ساتھ ساتھ اپنے تاثرات بھی قلم بند کرنے بیٹھا ہوں۔
مذکورہ تحریر کے پہلے سطور سے ہی اس بات کا اندازہ ہوا کہ شعبۂ صحافت تو اپنی جگہ لیکن ’’کالم نگار صاحب‘‘ کا اہل قلم سے بھی دور کا رشتہ نہیں ہے۔ صاحب سرکاری خزانے پر پلنے والا ایک ملازم ہے۔ جب ایک اہل قلم ایک ’’عام آدمی‘‘ ہوتا ہے، جس کا واسطہ بھی عام لوگوں ہی سے ہوتا ہے۔ پھر جب وہ قلم کو جنبش دیتا ہے، تو عوامی خیالات ہی سطح قرطاس پر اترنے لگتے ہیں، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب عام آدمی کی آواز تحریری شکل اختیار کرتی ہے، توکہیں نہ کہیں سرکار پرکاری ضرب پڑتی ہے۔ سرکاری ملازم کے تو ہاتھ پاؤں ہی نہیں دماغ بھی حکم رانوں کی آہنی زنجیر میں جکڑا ہوتا ہے، جو پٹی حکم ران پڑھائیں، اگر اس سے ایک قدم آگے جانے کی کوشش کرتا ہے، تو پھر اس کی چھٹی ہوجاتی ہے۔
حضرت نے آگے ایسی بے سرپا باتیں وادئ کالام کے سادہ لوح اور مہمان نواز لوگوں کے بارے میں رقم کی ہیں، جن کی مہمان نوازی کے قصیدے دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مجھے ان کی عقل پر رونا آ رہا ہے۔ لکھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں ان کی دو دن کالام میں ڈیوٹی لگی اور دورانِ انتخابات ان سے کسی نے کھانے پینے کا نہیں پوچھا۔ حضرت عرض کرتا چلوں کہ آپ اہلِ کالام پر کیا احسان جتانا چاہتے ہیں؟ آپ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے آئے تھے اور اس کے لیے آپ کو سرکاری خزانے سے ٹھیک ٹھاک اضافی رقم دی گئی تھی، اس کے لیے اہلِ کالام کو آڑے ہاتھوں لینا، سراسر زیادتی ہے۔
آگے لکھتے ہیں کہ رات کو سونے کے لیے ان کو بسترے فراہم نہیں کیے گئے۔ یہاں پر آپ نے اپنی ذہنیت کا واضح ثبوت دیا۔ آپ نے سرکاری خزانے سے گاڑی کا کرایہ، کھانے پینے کے خرچے سے لے کر اوڑھنے بچھونے تک کا پیسہ جیب میں رکھ کر اس کو تالا لگایا اور رات جاگ کر گزارتے رہے۔یہ احساس بھی آپ کو چھو کر نہیں گزرا کہ شام کے بعد تو پورا خیبر پختون خوا نیند بارے سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تمام لوگ پولنگ اسٹیشنوں سے آنے والے نتایج کے لیے لوگ رات جاگ کر گزار رہے تھے۔ایسے میں آپ کی فکر کسے لاحق ہوسکتی تھی؟ آپ سرکار کے دیے گئے خرچے سے کسی سستے ہوٹل میں کمرہ خرید لیتے، اپنا جی ہلکان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟کیا اہل کالام اس کا مطلب یہ لیں کہ آیندہ اگر سرکاری اہل کار کوئی اے سی، ڈی سی یا کوئی اور سرکاری ملازم کالام آتا ہو، تو ہم اس کے پیچھے جاکر اس کو اپنے گھر میں لے آئیں، اور اس کو دیسی مرغی، دیسی گھی اور ٹراؤٹ مچھلی وغیرہ سے خاطر مدارت کریں اور وہ جاکر ہماری ’’مہمان نوازی‘‘ پر افسانے لکھے اور پھر انھیں اخبارات میں چھپوائے؟ حضرت، یہاں میں ’’سوات کوہستان‘‘ کے لوگوں کی مہمان نوازی پر ایک چھوٹا سا ڈیمو پیش کرنے جا رہا ہوں، ملاحظہ فرمائیے۔ ذرا پانچ سال پہلے اس تباہ کن سیلاب کو چشم تصور میں لائیے، جب فتح پور سے لے کر کالام تک سڑک دریا کی موجوں کی نذر ہوگئی اور لاکھوں سیاح یہاں پر بے یار و مددگار رہ گئے۔ تب یہاں کے مہمان نوازعوام نے ان کی کس طرح خاطر مدارت کی۔ تمام ہوٹلوں کو ان کے لیے وقف کردیا، گرچہ ان کا اہل کالام نے سال بھر کے لیے کرایہ دے رکھا تھا اور ہوٹل انڈسٹری ان کی آمدن کا واحد ذریعہ تھی۔ جب ہوٹلوں میں گنجایش باقی نہ رہی، تو یہاں کے باشندوں نے اپنے گھروں اور حجروں کو خالی کرکے خود کھلے آسمان تلے سوتے رہے، لیکن آئے ہوئے مہمانوں کو یہ احساس تک نہیں دلایا کہ کالام میں ان کا کوئی اپنا نہیں ہے۔ اہل کالام رمضان کے مہینے میں سخت ترین دھوپ میں فتح پور سے لے کر کالام تک پیدل کندھوں پر راشن لاتے رہے۔ خود روکھی سوکھی کھاتے رہے لیکن آئے ہوئے مہمانوں کو یہ احساس نہیں دلایا کہ اس حسین گاؤں میں غذائی قلت پیدا ہوچکی ہے۔
آخری چند سطور میں ’’سرکاری مضمون نگار ‘‘ لکھتے ہیں کہ کالام کے ملکانان برائے نام ملک ہیں، تو اس کے جواب میں عرض کرتا چلوں کہ ذرا سوات کے وہ شورش زدہ دن یاد کریں، جب سوات میں چاروں طرف آگ و خون کا کھیل جاری تھا۔ سب کو جان کے لالے پڑے تھے۔ تب یہی ملکانان تھے جنھوں نے مدین، بحرین اور کالام میں پاک آرمی کے پہنچنے کا انتظار کیے بغیر شدت پسند عناصر سے بھڑ گئے۔خود بھی شہید ہوئے لیکن ان عناصر کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جوان تو جوان یہاں کی خواتین بھی اس جہاد میں اپنے مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی تھیں۔ایک خاتون ’’مہرالنساء‘‘ نے اکیلے مسلح افراد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا، جو اَب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔
حضرت کو آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ نے سرکاری خزانے سے دو دن کالام کی حسین وادی کی آغوش میں گزارے۔ یہاں کی مہمان نوازی کا صرف ان مہمانوں کو پتا ہے جو ’’سرکاری ٹوور‘‘ پر دو دن کے لیے نہیں آتے، جن کا رمضان کا مہینہ اور عید یہاں کے سادہ لوح اور مہمان نوازوں کے ساتھ ہوتی ہے، جو ہر دن وادئ کالام کے لوگوں کی مہمان نوازی میں گزارتے ہیں۔ آپ کو سرکار کے کاموں اور اس کے ارینج کردہ ٹوورز سے فرصت ملے، تو کبھی ان مہمانوں سے بھی پوچھ لیں، ان شاء اللہ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
680 total views, no views today


