جمہوریت کیا ہوتی ہے اور کیاہوتے ہیں اس کے فواید؟ ہمارے ہاں اس سے کسی کو کوئی غرض اور سروکار نہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ جمہورت کے راگ الاپتے سیاست دانوں اوراس پر لکھنے والے لکھاری بھی اس کامطلب ومقصداورمعنی سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں، توشاید غلط نہ ہو۔ اس کے باوجود چاہے سیاسی جماعت ہو یا عام آدمی ہر کوئی جمہوریت کا علم بردار بنا پھرتا ہے۔
عام اصطلاح میں دیکھا جائے، تو جہاں عوام کو فیصلہ سازی کا اختیار ہو، تشکیل اقتدار عوام کے ووٹ کے ذریعے ہو اور اکثریت جو بھی فیصلہ کرے گی، وہ قابل قبول ہوگا۔ یہی جمہوریت کہلاتی ہے۔ وسایل کی منصفانہ تقسیم بھی جمہوریت کا طرز عمل ہوگا۔ کسی شخص، علاقے یا ادارے کی حق تلفی نہیں ہوگی۔ عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق فراہم ہوں گے۔ عوام کی مشکلات اورعلاقہ کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجود وسایل کے اندر حکومتی سطح پرپالیسی مرتب کی جائے گی اور آواز جمہور کا ہر لحاظ سے احترام کیا جائے گا۔ میرٹ اور شفافیت کا فروغ اولین ترجیح ہوگی اور حکومت ایسا کوئی بھی فیصلہ نہ کرنے کی پابند ہوگی جو عوام کے حقوق سے متصادم ہو، یہی جمہوریت ہوگی۔
لیکن سوال یہ اٹھتاہے کہ کیا وطن عزیزکے جمہوری نظام میں یہ سب کچھ موجود ہے؟ کیا یہاں عوام کوان کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں؟ جب کہ دکھائی دیتا احوال تو یہ ہے کہ یہاں سرکاری اداروں میں شفافیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی اور میرٹ کی دھجیاں سرعام بکھیر دی جاتی ہیں۔ عوام کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے نہ ہی مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کا کوئی مؤثر پروگرام موجود ہوتاہے۔ اس طرح امن وامان کی صورت حال اس قدرخراب اور غیر یقینی ہوتی ہے کہ کوئی بھی شہری خود کو مالی اور جانی لحاظ سے غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ توانائی بحران کایہ عالم ہے کہ گھنٹوں گھنٹوں بجلی غایب رہتی ہے اور لوگ بجلی کا دیدار کرنے کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں۔ کم زور طرز حکم رانی کے باعث اداروں کی غفلت ولاپروائی اور بے حسی کا یہ حال ہے کہ غیرمعمولی گرمی کی لہر اور بجلی کی غیرعلانیہ بدترین بندش کے باعث شہر قاید ’’کراچی‘‘ میں کم و بیش تیرہ سو معصوم مرد و زن شہری موت کی وادی میں چلے گئے، مگر ان کی جانیں بچانے کے لیے متعلقہ اداروں کا کوئی بھی کردار سامنے نہیں آیا جب کہ جمہوریت کی چمپئن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت آگے آکر فوری اقدامات اٹھانے اور معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے برعکس ایک دوسرے کوذمہ دارٹھہراتی اور خود کو مبرا قرار دیتی رہیں۔
نظرآتے ان حقایق کی روشنی میں اٹھتاسوال یہ ہے کہ یہ جمہوری نظام ٹھیک کیسے ہوگا اور کون اس کو اس کی اصل روح کے مطابق صحیح ٹریک پر ڈالے گا؟ آسان جواب تویہی ملتا ہے کہ سیاسی جماعتیں ہی اس نظام کودرست کریں گی جو عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتی ہیں، جہاں ان کا کام قانون سازی کرنا اور اس کو قابل عمل بنانا ہوتا ہے لیکن یہاں سر اٹھاتا سوال یہ بھی ہے کہ عوام تو مینڈیٹ دے کر سیاسی جماعتوں کوبرسراقتدار لانے میں اپنا حق اداکرتے ہیں۔ پھرکیاوجہ ہے کہ حکم ران سیاسی جماعتیں اپنے فرایض کی ادائیگی میں ناکام رہتی ہیں؟ اس کے عوامل اگرچہ کئی دیگر بھی ہوسکتی ہیں لیکن بہ ظاہر آسان جواب شاید یہ ہو کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتخابات کی روشنی میں چاہے مقامی حکومتوں کی تشکیل کا مرحلہ ہو یا قومی اور صوبائی سطح پرکوئی بھی سیاسی جماعت مطلوبہ عددی اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہے جس کے نتیجے میں حصول اقتدار کے لیے مختلف سوچ، نظریہ اور منشور کی حامل سیاسی جماعتوں کا غیر فطری اتحاد تشکیل پاتا ہے اور اس غیر فطری اتحاد کے منفی نتایج یہ برآمد ہوتے ہیں کہ اپنی حکومت بچانے کے لیے اتحادیوں کی محتاج حکم ران جماعت کوئی بھی ایسا اقدام کرنے سے قاصررہتی ہے جو اِن کی اتحادی جماعتوں کی مرضی و منشاء کے خلاف ہو۔ اس غیر فطری اتحاد کے زیراثر وجود پاتی حکومت میں عددی اکثریت کی حامل حکم ران جماعت کی حکومتی مدت مؤثرپالیسیاں بنانے اور عوامی مسایل پر توجہ دینے کے برعکس سمجھوتوں کی نذر ہو کر اپنے اتحادیوں کو منانے میں گزر جاتی ہے۔ جایزہ لیا جائے تو 1988ء سے لے کر اب تک یہی کچھ ہوتا چلا آ رہا ہے اور یہی ہمارے جمہوری نظام کی ناکامی کی بڑی وجہ دکھائی دیتی ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ سیاسی جماعتیں عوام کوبے وقوف بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں، تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ کیوں کہ دیکھا جائے، تو ایک دوسرے پر مالی بدعنوانی اور غداری کے سنگین الزامات عاید کرتی سیاسی جماعتیں ہوں یا ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دینی والی مذہبی جماعتیں جب مرحلہ ہوحصول اقتدارکا، تو اتحاد اورگٹھ جوڑ کرنے میں لمحہ تک ضایع نہیں کرتیں۔
کیا الگ الگ سوچ، نظریہ اور پروگرام رکھتی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کا حکومتی اتحاد فطری قرار دیا جاسکتا ہے؟
کیا پختون قوم کے حقوق کی بات کرتی عوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی کے اتحاد کوفطری کہاجاسکتاہے؟
کیا پختون قوم کی وحدت کے لیے جدوجہد کرتی پنجاب مخالف سیاسی جماعت پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا حکومتی اتحاد فطری ہوسکتاہے؟
پیپلزپارٹی کا (ق) لیگ جسے وہ قاتل لیگ کہا کرتی تھی، کے ساتھ اگر اتحاد ہو تو کیا یہ فطری اتحاد ہوگا؟
پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جب کہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے اتحاد کوکیانام دیاجائے گا؟
ان تمام غیر فطری سیاسی اور تشکیل حکومت کے لیے ٹوٹتی بنتی اور وجود پاتی صف بندیوں کاعمل ہردوربالخصوص پچھلے عام انتخابات سے پہلے اور بعدازالیکشن جب کہ خیبرپختون خوامیں حالیہ بلدیاتی الیکشن سے قبل دیکھنے کوملاہے اورانتخابی امیدواروں کے پوسٹرزاس کی واضح گواہی دے رہے ہیں جب کہ بازار سیاست میں خرید و فروخت کے کاروباراور اشیاء کے گرتے بڑھتے داموں کے کیاکہنے کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن سے قبل ایک دوسرے پر کفر اور انتخابی دھاندلی کے الزامات عاید کرنے والی جماعتیں مقامی حکومتوں کی تشکیل کے مرحلے میں سب کچھ بھلا کر اور آپس میں شیر و شکر ہوکرنئی انتخابی صف بندیوں میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے صاف دکھائی دیتاہے کہ سیاست میں واقعی کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور فلسفۂ سیاست بس حصول اقتدار کا نام ہوتا ہے جب کہ سیاسی جماعتوں کے دعوے اور وعدے الفاظ کے گورکھ دھندے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حصول اقتدار کی حرص میں دوڑ لگاتی جماعتوں کے قایدین کو یاد بھی نہیں رہتا کہ کل قوم کے سامنے کیا کہا تھا؟ آج کیاکہہ رہے ہیں اور کل جب پھر عوام کی عدالت میں جائیں گے توکیاکہیں گے؟ یاشاید انھیں احساس ہے کہ یاد توعوام بھی نہیں رکھتے، اسی لیے توبار بار انھیں اقتدارکے ایوانوں میں بھیج کر دھوکا کھالیتے ہیں جمہوریت کے نام پر، حقوق کے نام پر اور انقلاب کے نام پر۔
620 total views, no views today


