سوات، سیاسی و سماجی کارکن و منتخب کونسلر داؤد خان آف کالج کالونی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں ٹیکس کا نفاذ قابل تشویش ہے،مسلسل آفات کے زد میں رہنے والے سوات کے عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا گیا ،حکومت ٹیکس لگانے سے پہلے سوات کے تباہ حال کے معیشت کو بحال کرے،کھنڈارات سڑکوں کی تعمیر یقینی بنائے،مقامی لوگوں کو گیس ،بجلی ،پانی جیسے بنیادی ضروریات زندگی فراہم کی جائے اس کے بعد اگر ٹیکس لگتا ہے تو پھر کوئی قباحت نہیں،سوات کے عوام کے مزید امتحانوں میں نہ الجھایا جائے ،حکومت وقت سوات کے عوام پر رحم کھائے یہاں کے عوام کو بھی جینے کا حق حاصل ہے،انہوں نے مزید کہا کہ 2005کے تباہ کن زلزلہ،دہشت گردی،سیلاب،گیس و بجلی بحران اور تباہ حال سڑکوں نے سوات کے معیشت کو تباہ کردیا ہے جبکہ ریاستی دور میں بننے والے سیدوشریف ائر پورٹ بھی گزشتہ کئی سالوں سے بند پڑاہے وفاقی و صوبائی حکومت ٹیکس لگانے سے سوات سے پہلے ان مسائل کا خاتمہ کرکے یہاں کے لوگوں کو ائینی حق دے اگر زبردستی ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف بھرپور رکاؤٹ بنیں گے۔
608 total views, no views today


