مینگورہ، سوات کی تحصیل کبل کے رہائشی محمدپرویز خان ،محمدزیب ،شاہی محمد اور محمدیارخان نے کہاہے کہ ڈی ایس پی ظاہر شاہ نے ہم سے پچاس ہزار روپے رشوت لے کر اورہم پر دباؤ ڈلاتے رہے کہ مزید رقم دے دو اور27لاکھ روپے کے چیک دے دو ورنہ آپ سے کیخلاف میرے ساتھ مقدمات موجود ہیں جو میں کسی بھی وقت آپ سب کو اندرکرسکتا ہوں ،اس علاقے کا میں سب کچھ ہوں ،ہمیں تحفظ فراہ کیا جائے اگر کوئی نقصان ہواتو اس کی تمام تر ذمہ داری مذکورہ ڈی ایس پی پر ہوگی،ان خیالات کا اظہارانہوں نے بروزجمعرات سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،پرویز خان نے کہاکہ ہمارے اورواحدزمان کے درمیان رقم کا لین دین تھا جو بذریعہ راضی نامہ ختم ہوگیا اورہم نے انہیں دوستائس لاکھ روپے کے چیک دئے ہیں مگر راضی نامے کے باوجود ڈی ایس پی ظاہرشاہ اوراس کاعملہ ہمیں بے جا تنگ کررہاہے ہم نے اپنی جان چھڑانے کیلئے پہلے ڈی ایس پی کو پچاس ہزاروروپے رشوت دے دی مگر پھر اس نے اپنی ڈیمانڈ زیادہ کردی جب میں نے اس کی ڈیمانڈپوری نہیں کی تواس نے مجھے غیرقانونی طورپر حوالات میں بند کردیا پھر ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کی مداخلت پر مجھے رہا کردیا گیا اوراب دوبارہ مجھ سے ستائس لاکھ روپے کے چیک کا مطالبہ کررہا ہے اورمقدمات درج کرانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،انہوں نے مزید کہاکہ یہ مقدمہ یاتوکبل میں یا رحیم آباد میں ہونا چاہئے تھی مگرڈی ایس پی نے اختیارات سے تجاوزکرکے اپنے علاقے میں منتقل کردیا جو سراسرناانصافی ہے ،انہوں نے کہاکہ کہ صوبائی حکومت تبدیلی کا اوررشوت ختم کرنے کے اعلانات کررہی ہے مگر اس کے برعکس سوات میں گنگاالٹابہتی ہے اوررشوت کا بازار گرم ہے اگر میرے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو اپنے خاندان کے افرادسمیت خودسوزی کروں گا جس کی تمامتر ذمہ داری ڈی ایس پ ی ظاہرشاہ پر ہوگی ،آخر میں انہوں نے ایک بار پھر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں انکوائری کریں۔
540 total views, no views today


