سوات ، سوات میں رمضان المبارک کے مہینے میں زیادہ لوگ اور سیاح بھی دریا ئے سوات کے کنارے افطار کو ترجیح دیتے ہیں۔ گرمیوں کا موسم ہو اور دریائے سوات کے کنار ٹھنڈے ٹھار ہوائیں اور اس سے لطف نہ اٹھایا جائے ایسا تو ممکن ہی نہیں ۔ سوات میں ناروا لوڈشیڈینگ کے مارے ہوئے روزادار گرمی کا مقابلہ کرنے کیلئے دریا کے کنارے ڈیرے ڈال دئے ہیں۔
دریا کنارے کھانا تیار کرتے ہیں ار افطاری کا مزہ لیتے ہیں ۔ سوات کے پرفضا مقام فضاگٹ بائی پر دریا کنارے افطاری کیلئے ائے ہوئے مقامی افراد نے ہمارے نمائندے کو بتا یا کہ گھروں میں بجلی نہیں ہوتی یہاں پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ہے اور ٹھنڈی چور مچاتے دریا کے کنارے افطار کا الگ مزہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم بہت انجوائے کرتے ہیں اوریہ ماحول گھروں میں نہیں ملتا ۔ دریا سوات کے کنا رے جگہ جگہ افطاری سے پہلے پکوان پکتے ہیں اور افطاری کا خاص اہتمام ہو تا ہے جبکہ بعض شہری تیار کھانا ساتھ لاتے ہیں۔فضاگٹ پار ک کے قریب دریا کے کنارے افطار کی تیاریوں میں مصروف لاہور سے آئے ہوئے سیاحوں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ لاہور میں ایسا جگہ نہیں یہاں پر قدرتی ماحول ہے اور قدرتی ماحول میں افطاری منفرد بھی ہے اور مزیدار بھی۔لاہور سے ائی ہوئی ایک خاتون سیاح نے کہا ہے کہ افطاری لاہور میں بھی اچھی ہوتی ہے لیکن وہ گھر میں ہوتی ہے یہاں پر قدرتی منظر ہے ہم بہت انجوائے کر رہے ہیں بہت اچھا ماحول ہے یہاں پر پہاڑ اور پانی سے بڑا مزہ ایا ہمیں ۔اور اسی طرح دیگر لوگوں کی بھی بڑی تعداد شام تک دریائے سوات کے کنارے قیام کرتے ہیں اور ٹھندے موسم میں وقت گزار نے کے بعدخوشگوار ماحول میں شام کو واپس چلے جاتے ہیں ۔
538 total views, no views today


