اسے کچھ یاد نہیں رہتا تھا۔ ہر پندرہ منٹ بعد وہ بات بھول جاتا تھا لیکن اسے صرف ایک بات یاد تھی کہ ایک ظالم اور سفاک شخص نے اُس کی محبوبہ کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔ محبوبہ کے سفاکانہ قتل کو یاد رکھنے کے لیے اس نے واقعے سے جڑے اہم معلومات کو اپنے جسم پرمختلف قسم کے ٹیٹو بناکر محفوظ کیا تھا اور اس کی مدد سے وہ اپنے دل پر گزرے درد و الم کو یاد رکھنے کی کوشش کر تا تھا۔ آگے کیا ہوا؟ وہ آپ سب کو معلوم ہی ہوگا، کیوں کہ یہ عامر خان کی فلم ’’گجنی‘‘ کی کہانی ہے۔ ہم انڈیا سے ہر قسم کا ناطہ توڑ سکتے ہیں لیکن ان کی فلمیں دیکھنا نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سلسلے میں ہمارا حال بھی طاہر عرف لمبا جیسا ہے۔ لمبا بھائی نے اپنی محبوبہ کو کہا کہ میں آپ کی خاطر اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی، گھر بار اور یار دوست سب چھوڑ سکتا ہوں، تو محبوبہ نے کہا کہ کیا ’’بھائی‘‘ کو بھی چھوڑ دو گے؟ تو اس نے کہا، جا بہن! مجھے تنگ نہ کر۔ میرا وقت برباد نہ کر۔میں نے پارٹی کے لیے چندہ بھی اکھٹا کر نا ہے۔ ویسے یہ لطیفہ شرارتاً کسی نے پٹھان سے بھی منسوب کیا ہے جہاں محبوبہ نسوار کی شرط لگا کر اپنے آپ کو باجی بنوالیتی ہے۔
کچھ اس طرح ہمیں بھی قومی سطح پر یہ بیماری لاحق ہوگئی ہے۔ قدرتی و انسانی آفات نے ہمارے جسموں پر کیا روحوں تک پرٹیٹوز بنوا لیے ہیں لیکن ہم ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ کتنا ہی عرصہ گزرا ہے۔ ابھی آٹھ مہینے پہلے ہی کی تو بات ہے جب ایک مادر علمی کو آگ اور خون سے نہلایا گیا۔ جب اس مادر علمی کی عظمت کو آگ لگائی گئی۔ جب نو سال سے اٹھارہ سال تک کے ایک سو بتیس پھول مسل دئیے گئے اور ان کو ملاکر کل ایک سو اڑتالیس افراد شہید کیے گئے۔ جب کہ ایک سو تیرہ زخمی اس کے علاوہ تھے۔ ہاں، وہی واقعہ جس کو ہم نے اپنے مستقبل پر حملہ قرارد دیا تھا اور جس کے بارے میں ہم نے کہا تھا کہ’’ بس، بہت ہوگیا۔‘‘ لیکن جناب والا، ہماری ترجیحات میں تحفظ اسکول (School Safety) تو نظر ہی نہیں آ رہا۔ رہے اعلانات، تو وہ تو ہم نے آٹھ اکتوبر 2005ء کے بعد بھی کیے تھے جب سات ہزار چھ سو انہتر اسکول متاثر ہوئے تھے جن میں آدھے یا تو مکمل تباہ تھے یا مرمت کے قابل نہ تھے اور نئے سرے سے بنانے تھے۔ جب 18,095بچے اور 853 اساتدہ ودیگر شہید ہوئے۔ جب صرف شعبۂ تعلیم کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ335 ملین ڈالر لگایا گیا تھا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے ذرا ذرا کہ ہم نے ایسے ملتے جلتے اعلانات اس وقت بھی کیے تھے کہ جب 2010ء کے سیلاب نے 10,407 تعلیمی ادارے متاثر کیے جس میں 6,666 تعلیمی ادارے تو مکمل تباہ ہوگئے تھے اور شعبہ تعلیم کو311 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا لیکن حقیقت میں کچھ عملی کام بھی کیا گیا؟ یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے۔ ایک طرف قدرتی آفات اور ہماری ’’عدم تیاری‘‘ کا یہ حال ہے، تو دوسری طرف وطن عزیز ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اب گلوبل دہشت گردی انڈکس میں تیسری پوزیشن پر آگیا ہے اور جس کو پہلی پوزیشن پر آنے کے لیے صرف افغانستان (دوسری) اور عراق (پہلی) کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ جب کہ تعلیم پر حملوں میں تو ہم ان دو ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ صرف خیبر پختون خوا میں پچھلے پانچ سالوں میں اسکولوں پر ایک ہزار سے زاید حملے ہوئے ہیں ۔
میں بھی ان باتوں کو اگلے واقعے تک بھول چکا تھا لیکن ایک فقرے نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک ماں جس کا بیٹا آرمی پبلک اسکول میں شہید ہوا تھا،کل اس نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’روزے مشکل ہیں کہ دن لمبے اور گرم ہیں لیکن مجھے تو عید کی فکر کھائے جا رہی ہے کہ اس (بیٹے) کے بغیریہ پہلی عید ہے۔‘‘
میں ان جیسے دیگر خبروں کو بھی پڑھنا چاہ رہا تھا کہ ایک خبر پر نظر اٹک گئی۔ خبر یہ ہے کہ ’’ملک بھر کے اسکولوں کو دہشت گرد حملے سے پیدا ہونے والے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع ہدایات پر مبنی دستاویزجاری کی گئی۔ یہ دستاویز پشاور میں اسکول پر دہشت گرد حملے کے تناظر میں جاری کی گئی۔ یاد رہے کہ اس حملے میں ایک سو اڑتالیس افراد کو( جن میں کثیر تعداد بچوں کی تھی) شہید کیا گیا تھا۔ میری طرح آپ بھی خوش ہوگئے ہوں گے کہ چلو دیر سے ہی سہی لیکن ہمارے سرکار کو بھی بچوں کے تحفظ اور سیکورٹی کا خیال تو آیا اور انھوں نے اس گھمبیر مسئلہ سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی تو کرلی، لیکن زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں۔ یہ کارنامہ ہمارے’’ ازلی دشمن‘‘ یعنی دہلی سرکار نے سرانجام دیا ہے۔ (جاری ہے)
690 total views, no views today


