اس رمضان میں بھی افطاریاں بہت ہوئیں۔ سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ اعزہ و اقربا کے ہاں بھی لیکن صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے ایوان صدر میں دعائیہ تقریب کے عنوان سے بہت ہی منفرد دعوت افطار کا اہتمام کیا۔ دارالحکومت اسلام آباد کے سیاست کاروں، سرکاری اہلکاروں، دانشوروں اور صحافیوں کو ایوان صدر مدعو کیا، جہاں ملک کی سلامتی اور دہشت گردی سے نجات اور خوشحالی کے لیے اجتماعی طور پر دعا کی گئی۔ تقریب کے شرکا ء نے اشکبار ہو کر رب العالمین کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کرکے عرض کیا کہ ہماراملک بہت مشکل حالات سے گزررہاہے،ہم پر رحم فرما۔ ماضی میں کی گئی غلطیوں سے درگزرفرمااور مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما جو پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنا سکیں۔
ایوان صدر، کئی ایکٹر پر پھیلی اس بلند وبلا عمارت میں صدر غلام اسحاق خان مقیم رہے جو محض ہفت زباں ہی نہ تھے بلکہ سیاست اور عالمی حالات کے بہترین نباض بھی تھے۔ ذہانت اور ریاضت نے انہیں منصب صدارت تک پہنچایا۔ جناب فاروق لغاری، جناب رفیق تارڑ، جناب آصف علی زرداری اور اب ممنون حسین یہاں کے مکین ہیں۔ صدر ممنون حسین پیشے کے اعتبار سے ایک کاروباری اور سیاسی شخصیت ہیں۔ غلام اسحاق خان، فارق لغاری اور آصف علی زرداری ملکی معاملات میں براہ راست دلچسپی لیتے بلکہ بہت سارے امور کو براہ راست کنٹرول کرتے تھے۔ اس کے برعکس جناب ممنون حسین اپنے آپ کو محض آئینی ذمہ داریوں تک محدود رکھتے ہیں۔ اس لیے بعض مبصرین یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ صدرپاکستان کہاں ہیں؟
صدرممنون حسین نے گزشتہ دوبرسوں میں خاموشی سے بہت سی ایسی قومی خدمات سرانجام دیں جن کا چرچا نہیں ہوا لیکن پاکستان ان کے طویل المدت ثمرات سے استفادہ ضرور کرے گا۔ انہوں نے کئی ایک ممالک کے دورے کیے جن پر کالم یا ٹاک شوز نہیں ہوئے لیکن ٹھوس تجارتی معاہدے ضرورہوئے۔ نائیجریاکے دورے میں انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کے لیے نئے میدان تلاش کیے۔ خاص طور پر دفاعی تعاون اور پاکستانی ہتھیاروں کی فروخت کے لیے نائیجیریا کی حکومت کو متوجہ کیا۔ ان کے ہمراہ دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین بھی تھے جنہوں نے ایک یادداشت پر دستخط کیے۔ امید ہے کہ جلد ہی نائیجریا پاکستانی جے ایف سیونٹین تھنڈر اور کچھ اور ہتھیار خریدنے والا ہے۔ جن کی مالیت اربوں روپے کی ہے۔ بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی پاکستان نائیجریا کو چھوٹے ہتھیار فروخت کرنا شروع ہوگیا ہے۔ جنوبی افریقہ بھی پاکستانی ہتھیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ صدر ممنون حسین کا خیال ہے کہ پاکستان افریقی ممالک میں اپنے ہتھیاروں کے لیے ایک بہت بڑی منڈی تلاش کرسکتاہے۔
چونکہ صدر ممنون ایک کاروباری شخصیت ہیں، لہٰذا ان کی نظر مسلسل نئی منڈیاں اور امکانات کی تلاش پر ٹکی رہتی ہیں۔ وہ ایوان صدر میں ان امور پر ماہرین کو مشاورت کی غرض سے مدعو کرتے ہیں۔ گزشتہ برس راقم لحروف کو بھی ایک محدود سی نشست میں ان سے تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔ صدر نے اپنی ترجیحات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تعلیم اور تجارت کی بہتری کے لیے اپنا زیادہ تر وقت اور توانائی صرف کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں اور کاروبار کرنے کا ہنر سیکھ سکیں، تو پاکستان تیزی سے ایک طاقتور ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر سکتاہے۔ انہی ترجیحات کے پس منظر میں ایوان صدر میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔علمی مجالس اور مشاعرے منعقدہوتے ہیں۔ صدر ممنون حسین بخوشی مختلف جامعات کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کو تعلیمی اسنا دعطا اور ان سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ایوان صدر جو کبھی گروہی سیاست کا گڑھ ہوتاہے بلکہ بعض اوقات اپنی ہی حکومت کے خلاف سازشوں کا مرکز بن جاتاتھا، اب مکمل طور پر غیر سیاسی اور تعمیری سماجی سرگرمیوں میں سرگرم ہے۔ وہ غیر فعال ہرگز نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ ہی فعال ہے لیکن اپنے دائرۂ کار میں۔ وزیراعظم نواز شریف کو ایوان صدر سے کوئی چیلنج درپیش نہیں بلکہ وہ ان کی معاونت کرتا ہے۔ بہت سارے مبصرین کو صدر ممنون حسین کا یہ کردار پسند نہیں آتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی ان کے منصب کا تقاضہ ہے۔ آئین نے انہیں اس سے زیادہ کوئی ذمہ داری سونپی ہی نہیں۔ یہ اعتراض ایک مخصوص سیاسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس نے تمام قومی اداروں کو قومی مفاد کے نام پر سیاست سے آلودہ کیا۔ ذاتی اغراض کے لیے ہر ادارے کو سیاست میں گھسیٹا گیا حتیٰ کہ تمام ادارے متنازعہ بن گئے۔ دنیا بھر میں کچھ اداروں بالخصوص عدلیہ، احتساب کے ادارے اور فوج کو غیر جانبدار رکھاجاتاہے۔ ان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی۔ ان کے فیصلوں پر اعتماد کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے مشترکہ طور پر نیب کے چیئرمین کا تقرر کیا لیکن جب انہوں نے بڑے سیاستدانوں کے خلاف مقدمات کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی، تو سب چیخ پڑے۔ اب ان کی ساکھ پر انگلی اٹھائی جارہی ہے۔ یہ استفسار بھی کیا جاتاہے کہ چیئر مین نیب جناب قمر الزمان چودھری کسی کی شہ پر یہ سب کررہے ہیں؟ وفاقی وزراء اور حکومتی جماعت کے عہدے دار ان کے مواخذے کی تحریک کرنے جیسی احمقانہ تجاویز پیش کررہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ممنون حسین نے بدعنوان عناصر کے خلاف خو د دعا کرائی کہ اللہ تعالٰ انہیں ہدایت دے۔ جو لوگ پیسہ ملک سے باہر لے گئے ہیں، ان کا بھی ذکر کیا، تو تقریب میں شریک لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ چند لمحوں کے لیے ایسا لگا کہ صدر ممنون حسین کو نون لیگ کے راہنماؤں پر لگے الزامات کے بارے میں اطلاع نہیں یا وہ جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔ اب ایک ڈھانچہ کھڑا ہے جس کے گرنے کا انتظار ہے۔
جناب صدر! بدعنوانوں کو محض دعاؤں سے نہیں روکا جاسکتا۔ اس کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ نیب کے سابق سربراہ فصیح بخاری کے مطابق پاکستان میں روزانہ بارہ ارب روپے اور سالانہ پانچ ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہ اعداد وشمار چند سال پہلے کے ہیں، اب ان میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ پنجاب میں بڑے منصوبوں میں کرپشن کی نشان دہی کی جاتی ہے لیکن سندھ کا عالم یہ ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑمڑ اپنوں کو دے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت اور سرکاری افسروں کی ملی بھگت نے سندھ کو دیوالیہ کردیاہے۔ صدر ممنون حسین کو کرپشن کے خلاف بھی سماجی تحریک کا آغاز کرنا چاہیے۔ صدر پاکستان ایسی کسی تحریک کی سرپرستی اورنگرانی کریں، تو یقیناًاس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اعلیٰ سرکاری حلقوں میں ایسے افسروں اور سیاستدانوں کی پزیرائی کم ہوسکتی ہے جن کا دامن بدعنوانی کے الزامات سے داغدار ہے۔ تقریب کے روح رواں جناب احمد فاروق اور فاروق عادل کا ذکر کرنا بھی لازم ہے جو ملک سرکاری اداروں کا حصہ ہونے کے باوجود سماجی اور تعلیمی انقلاب لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ آج کل کے حالات میں ایسے افسروں اور شخصیات کا دم غنیمت ہے۔
680 total views, no views today


