پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیاں اور دفاعی ادارے پاکستان کا تحفظ اپنا فرض اولین سمجھتی ہیں۔ ملک کو بچانے کا جب بھی وقت آیا، تو ہمارے سیکورٹی اور دفاعی اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر ملک کو بچایا۔ پاکستان کے خلاف عالمی استعماری طاقتوں، کارندوں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کے پروردہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے سیکورٹی اور دفاعی اداروں کی کارکردگی ہم سب کے سامنے ہے۔ ان اداروں کے افسران اور سپاہیوں نے جانوں کی قربانیاں دے کر ہمارے مستقبل کو محفوظ بنایا ہے، لیکن پاکستان کے سیاستدانوں کا طرۂ امتیاز ہی یہی ہے کہ جب ان کے مفادات پر زد پڑتی ہے، تووہ اپنے ہی اداروں پر برسنے میں دیر نہیں لگاتے۔ انھیں یہ پختہ یقین ہے پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیاں اور دفاعی ادارے پاکستان کو ان کی دست درازیوں اور شرانگیزیوں سے بچا سکتے ہیں۔ اس لئے ہمارے سیاسی اکابرین نے کئی بار کوشش کی کہ سیکورٹی اور دفاعی اداروں کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں دیا جائے، لیکن مسلح افواج نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔
برسبیل تذکرہ، کراچی میں امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار پویس کے ایک افسرنے ایک پریس کانفرنس کے دوران میں یہ انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے ہندوستانی حکمرانوں اور خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے روابط ہیں۔ ہندو سرکار ایم کیو ایم کی مالی معانت کرتی ہے اور ہندوستانی کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ایم کیو ایم کے ورکروں کو ہندوستان میں قائم تربیتی مراکز میں دہشت گردی کی تربیت دیتی ہے۔ برطانوی عالمی نشریاتی ادارے’’بی بی سی‘‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے ہندوستانی حکمرانوں اور خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے روابط ہیں۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ مالی معانت کے ساتھ ان کے ورکروں کو دہشت گردی کی تربیت بھی دیتی ہے۔ برطانیہ میں گرفتا ر ایم کیو ایم کے بعض عہدیداروں نے بھی برطانوی پولیس کو بیان دیتے ہوئے انہی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ رینجرز کو کراچی میں امن و امان بحال کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ڈی جی رینجر کی رپورٹ میں بعض سیاسی جماعتوں کو کراچی کے خراب حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ کے سامنے آتے ہی ان سیاسی جماعتوں نے آسمان سر پر اٹھا یا ہوا ہے۔ خود ساختہ جلاوطنی اختیا کرنے والے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور برطانیہ میں ایم آئی سکیس کے مہمان خاص کے خلاف برطانیہ میں بعض کیسوں میں گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ انھیں نظر آرہا ہے کہ ان کا انجام قریب آ چکا ہے۔ برطانیہ میں قائم مقدمات کے فیصلے کا وقت قریب آنے اور ایم کیو ایم پر ہندوستانی حکمران، خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ کے ساتھ روابط،مالی معاونت اور ہندوستان میں ایم کیو ایم کے ورکروں کی تربیت کے الزامات نے الطاف حسین کے اوسان خطا کر دئیے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد قانون کے مطابق دفاع کرنے کے بجائے دُشنام طرازی پر اتر آئے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے سیکورٹی اور دفاعی اداروں کو دھمکیاں دینی شروع کی ہیں کہ اگر انھیں کچھ ہوگیا، تو کراچی دوسرا ’’صومالیہ‘‘ بن جائے گا۔ کراچی کے گلی کوچوں میں جنگ چھڑ جائے گی۔ اپنا انجام نظر آنے پر الطاف حسین نے سیکورٹی اور دفاعی اداروں کے خلاف جو شرانگیز زبان استعمال کی ہے، وہ الطاف حسین کے بیمار ذہن کی عکاس ہے۔ خود الطاف حسین کو یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ جو کچھ وہ کہنے جا رہا ہے۔اس کا انجام کیا ہوگا؟
یہ دُشنام طرازی وہ پہلی مرتبہ نہیں کر رہا بلکہ ایسا وہ کئی بار پہلے بھی کرچکا ہے۔ الطاف حسین مکار لومڑی کی طرح معافی مانگنے میں دیر بھی نہیں لگاتا۔ سخت عوامی رد عمل سامنے آتے ہی معافیاں مانگنے لگتا ہے۔ پوری قوم اس الجھن میں مبتلا ہے کہ وہ کونسی وجہ ہے، کونسی مصلحت ہے، کونسی رکاؤٹ ہے اور وہ کونسا قدغن ہے کہ وطن عزیز کے قومی اداروں حتیٰ کہ ہمارے محافظ اور قوم کی شان مسلح افواج پرانگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور حکومت پھر بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؟ حکومت، الطاف حسین کے اشتعال انگیز بیانات کو اب تک کیونکر نظر اندار کرتی چلی آ رہی ہے؟
چلو شکر ہے کہ اس بار وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے الطاف حسین کے بیان پر رد عمل تو ظاہر کیا۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ برطانیہ سے بات کی جائے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی الطاف حسین کو دہشت گرد اور برطانیہ میں بیٹھا ایک بھتہ خور قرار دیا ہے۔
اب صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ کراچی اور لندن میں کچھ سنجیدہ اقدامات کرکے اس مسئلے کا مکمل حل نکالا جائے۔ سفارتی ذرایع استعمال کرکے الطاف حسین کو پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے روکنے کے اقدامات کئے جائیں جن کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کراچی میں جو لوگ بیٹھ کر الطاف حسین کی تقریریں سننے پر مجبور ہیں۔ اگر انھیں جان و مال کے تحفظ کا یقین دلایا جائے، تو پھر الطاف حسین کی تقریر سننے والوں کی تعداد نہ ہونے کی برابر ہوگی۔ اس مقصد کے لئے سیاسی ورکروں اور عوام کو تحفظ دینے کے لئے سخت سے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ہمارے سیاسی اکابرین اسی طرح سیاسی مصلحتوں سے کام لینے اور ڈھیل کی سہل پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے رہے، تویہ ملک و قوم کے لئے نیگ شگون ثابت نہیں ہوگا۔ کراچی سمیت پورے ملک میں بدامنی، بھتہ خوری، ٹارکٹ کلنگ اور دہشت گردی کا بازار گرم رہے گا۔ اگر حکمران ملک میں قانون کی حکمرانی کی ٹھان لیں اور صر فِ نظر کے منافقانہ پالیسی کو خیرباد کہہ دیں، تو وہ دن تبدیلی کا دن ہوگا۔ ملکی حالات میں بہتری آنا شروع ہو جائے گی، بیرونی ملک پاکستان کے عزت و وقار میں اضافہ ہو جائے گا۔
ہمیں من حیث القوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں عزت نفس ہر چیز سے عزیز ہے۔ ہم نے ملکی وقار اور عزت نفس پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرنی، تو اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں قانون کے احترام اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سخت سے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔
866 total views, no views today


