ڈاکٹر مبارک علی رقم طراز ہیں: عام طور سے مسلمان مؤرخین سندھ پر عربوں کے حملہ کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ سر اندیپ سے کچھ مسلمان عورتیں اور بچے جہازوں میں سوار ہوکر جب بندر گاہ دیبل پر پہنچے، تو یہاں بحری قزاقوں نے ان جہازوں کو لوٹ لیا۔ جب عورتوں اور بچوں کو گرفتار کرکے لے جایا جا رہا تھا، تو ایک لڑکی نے فریاد کرتے ہوئے حجاج سے مدد طلب کی۔ جب حجاج کو اس کی اطلاع ملی، تو وہ اس سے انتہائی متاثر ہوا اور اس نے فوراً سندھ کی فتح کا ارادہ کرلیا۔ بلاذری اور چچ نامہ کے ان بیانات کو آنے والے مؤرخین نے اسی طرح بلا کم وکاست نقل کردیا اور سندھ پر عربوں کے حملے کا کوئی تجزیہ نہیں کیا۔ اول تو اس واقعہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب تمام عورتیں، بچے اور مرد گرفتار کرلئے گئے، تو پھر اس خبر کو حجاج تک پہنچانے والا کون تھا؟ کیوں کہ کسی ایک شخص کا گرفتاری سے بچنا اور پھر سندھ سے بھرہ تک کا بحری یا خشکی کا سفر کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ اس قسم کی خبر حجاج کو پہنچی، تو حجاج کی شخصیت اور کردار کو سامنے رکھ کر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر راجہ داہر کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی خرابی صرف یہ واقعہ ہوا تھا اور دوسری سیاسی وجوہات نہیں ہوئیں، تو کیا حجاج کو ایک لڑکی کی فریاد اتنا متاثر کرسکتی تھی کہ وہ ایک بڑی فوج خلیفہ کی مرضی کے خلاف اور مالی مشکلات کے باوجود سندھ بھیجتا؟ حجاج جذبات سے عاری ایک سیاست دان تھا اور وقتی جوش کے سبب وہ اس قدر اہم فیصلہ نہیں کرتا۔ اس نے اپنے اقتدار کے زمانے میں جس طرح ہزاروں افراد کو جیل میں ڈالا اور سیکڑوں کو قتل کیا۔ اسی کے سیاسی عزائم میں ایک لڑکی کی فریاد کی کوئی اہمیت نہیں تھی، لیکن جب لڑکی کی فریاد اس کے سیاسی مقاصد میں معاون ثابت ہوئی، تو اس نے اس صحیح یا فرضی واقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
سندھ کی فتح کا زمانہ خلیفہ ولید (۷۰۵۔۷۱۵) کی خلافت میں پیش آیا۔ حجاج بن یوسف خلافت کے مشرقی صوبوں کا گورنر تھا۔ اس کے نزدیک اموی خاندان کا استحکام اور اُس کی طاقت و قوت میں اضافہ اس کا سب سے بڑا مقصد تھا۔ اس کے نزدیک خلافت بنوامیہ کی وسعت ہر اُس علاقہ میں ضروری تھی جہاں مسلمان فوجیں جاسکیں۔ اس لیے جب سندھ کے ساحل پر مسلمان تاجروں کے جہازوں کے لٹنے کا واقعہ پیش آیا، تو اس سے تاجر برادری کے مفادات پر زبردست زد پڑی۔ کیوں کہ مسلمان تاجر تجارت کی غرض سے ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں آتے جاتے تھے اور جگہ جگہ ان کی نو آبادیاں قائم تھیں۔ جزیرہ سراندیپ (لنکا) میں بھی مسلمان تاجر آباد تھے۔ اس لیے مسلمان تاجروں کے جہازوں پر بحری قزاقوں کے حملے نے حکومت کے سامنے یہ مسئلہ پیدا کیا کہ اگر سمندری راستوں کی حفاظت نہیں کی گئی، تو اس کا اثر تجارت پر ہوگا۔ اس لیے حجاج نے فوراً راجہ داہر سے خط و کتابت کرکے جہازوں کے لوٹ کے بارے میں معلومات کیں لیکن راجہ داہر نے سرے سے اس بات سے ہی انکار کردیا کہ یہ جہاز اس کے اشارے پر لوٹے گئے ہیں یا اُس کا اثر و رسوخ ان قزاقوں پر ہے۔ راجہ داہر کے اس جواب کے بعد حجاج نے اس بات کو ضروری سمجھا کہ سندھ پر حملہ کرکے اسے فتح کرے تاکہ دیبل کی بندر گاہ اور سمندر کا راستہ مسلمان تاجروں کے لیے محفوظ بنایا جائے۔ مسلمان عورتوں اور بچوں کی گرفتاری اور ایک لڑکی کی فریاد ایسا واقعہ تھا جس سے مسلمانوں میں جوش پیدا کیا جاسکتا تھا۔ اس واقعہ کی تشہیر سے راجہ داہر کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اور ساتھ ہی سندھ پر حملہ کرنے کا اخلاقی جواز بھی پیدا ہوگیا۔
اس کے علاوہ بھی مؤرخین نے سندھ پر عربوں کے حملہ کی وجوہات تلاش کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ سندھ کے راجہ نے ایرانیوں اور عربوں کی جنگوں میں ایرانیوں کی مدد کی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو سندھ پر حملے کا حق حاصل ہوچکا تھا یا یہ کہ بہت سے مجوسیوں نے عربوں سے شکست کھا کر سندھ میں پناہ لی تھی۔ اس لیے وہ اس علاقے میں رہتے ہوئے عربوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ اور یہ کہ حکمران میں جو بغاوتیں عربوں کے خلاف ہورہی تھیں، ان میں سندھیوں کا ہاتھ تھا اور وہ اُن کے دشمنوں کی مدد کررہے تھے۔
ہمارے پاس جو تاریخی شواہد ہیں، ان کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عربوں کا ارادہ ابتداء ہی سے سندھ فتح کرنے کا تھا مگر حالات کے ناسازگار ہونے کی وجہ سے وہ انتظار کرتے رہے۔ جب عربوں نے شام و عراق اور ایران کو فتح کیا، تو سندھ کی فتح بھی ان کے منصوبہ میں شامل تھی۔ حضرت عمرؓ (۶۳۴۔۶۴۴) کے زمانہ میں مغیرہ نے دیبل پر حملہ کیا، حضرت عثمانؓ (۶۴۴۔۶۵۶) کے زمانے میں حکم بن جبلہ بن عبدی سمندر کے راستے بلوچستان و سندھ کے مشرقی حصہ کو دیکھ کر آئے اور اس کے بارے میں یہ رپورٹ پیش کی۔ ’وہاں کا پانی میلا، پھل کیلے اور کھٹے ہیں۔ زمین پتھریلی ہے۔ مٹی شوریدہ ہے اور باشندے بہادر ہیں۔ اگر تھوڑا لشکر جائے گا، تو جلد تباہ ہوجائے گا اگر زیادہ جائے گا، تو بھوکوں مرجائے گا۔‘
حضرت علیؓ (۶۵۶۔ ۶۶۱) کے زمانہ میں مسلمان مکران تک آئے مگر سیاسی وجوہات کی بناء پر آگے نہیں بڑھے۔ حضرت معاویہ (۶۶۱۔ ۶۸۹) کے زمانہ میں فتوحات کے لیے مہمات بھیجی گئیں، مگر فوج نے مکران میں شکست کھائی اور آگے نہ بڑھ سکی۔
دور اُمیہ میں حضرت معاویہ سے لے کر ولید (۷۰۵۔۷۱۵) کے عہد تک عرب مکران کابل اور قندھار کے علاقوں میں برابر مصروف جنگ رہے۔ چوں کہ یہ پہاڑی علاقے تھے اور یہاں کے باشندے قبائل جنگ جوتھے، اس لیے وہ برابر عربوں کے اقتدار کے خلاف جنگ کرتے رہے۔ اس لیے عربوں کو اس کا موقع نہیں ملا کہ خشکی کے راستے سندھ پر حملہ کرتے۔ ولید کے عہد میں جب مکران و کابل پر ان کا تسلط قائم ہوگیا، تو خشکی کے راستوں کے ذریعہ سندھ کی سرحد سلطنت اسلامیہ سے مل گئی اور ان کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنی فتوحات کو سندھ تک بڑھائیں۔ (جاری ہے)
2,077 total views, no views today


