قارئین کرام! آئے روز سوات میں ٹریفک حادثوں میں موٹر سائیکل سواروں کے جاں بحق ہونے کی خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ سوات میں موٹر سائیکل چلانے کیلئے کسی عمر یا قانون کی قید نہیں۔ ہر کوئی اپنی آسانی کیلئے کم خرچ اور ٹریفک جام کے مسائل سے گلوخلاصی کیلئے آسان قسطوں پر دستیاب موٹر سائیکل حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ اور تو اور والدین تعلیمی اور دیگر سرگرمیوں میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے بچوں کو موٹر سائیکل دینے کی شرط رکھتے ہیں۔ اس طرح اگر بچے موٹر سائیکل حاصل کرنے کی ضد پر اڑے رہیں، تو بھی یہ سواری والدین انھیں دلوا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موٹر سائیکل چلانے والوں کی بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ ان میں بیشتر ایسے ہوتے ہیں جن پر والدین کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر بچے اپنی ضد کی مدد سے والدین سے موٹر سائیکل دلواسکتے ہیں، تو پھر موج مستی پر مزید پیسے اڑانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ مذہبی تہوار ہو یا قومی، مینگورہ میں مکانباغ میں رات کو نو عمر موٹر سائیکل سوار اسکریچ کرتے اور ون وہیلنگ کرتے نظر آئینگے۔ اب یہ باقاعدہ ایک روایت بن چکی ہے کہ بڑے گھروں کے بگڑے بچے ایسے مواقع پر اپنی بڑی بڑی گاڑیوں کو دوڑاتے اور اسکریچنگ کرتے نظر آئیں گے۔ بسااوقات ان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو بھی انھیں کنٹرول کرنے میں کافی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔
ویسے تو ٹریفک حادثوں میں موٹر سائیکل سواروں کا مرنا اب ایک معمول بن گیا ہے، لیکن آج کل ایسے حادثوں میں حیران کن اضافہ ہوگیا ہے۔ امسال رمضان اور عید کے موقعہ پردو واقعات ایسے رونما ہوئے ہیں کہ جن کی باقاعدہ ویڈیو ز اور تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہوئی ہیں جنھیں ہزاروں افراد نے دیکھا ہوگا۔ دونوں حادثے باغ ڈھیری اور اسلام پور کے علاقوں میں پیش آئے ہیں ۔ یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ موٹر سائیکل حادثوں میں زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال میں ابتدائی علاج کے دوران میں قصداً توجہ نہیں دی جاتی۔ اکثر ان کی ابتدائی طبی امداد میں مرہم پٹی کے وقت انستھزیا بھی نہیں دیا جاتا، تاکہ انھیں تکلیف کا احساس ہو اور آئندہ وہ ایسے کارناموں سے باز آجائیں، مگر
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
کے مصداق مذکورہ حادثات میں اضافہ ہی دیکھنے میں ملتا ہے۔
قارئین کرام! موٹر سائیکل چلانے کیلئے مہذب ملکوں میں قانون ہوتا ہے۔ عمر کی حد اور ڈرائیور کی سیفٹی کا خیال بھی رکھا جاتا ہے لیکن مملکت خداداد میں نہ تو اس پر عمل کرنے والا کوئی ہے اور نہ لاگو کرنے والے ادارے ہی ہیں۔ اگر سیفٹی کی بات کی جائے، توموٹر سائیکل حادثوں میں زیادہ تر ہلاکتیں سر پر سخت چوٹ لگنے سے واقع ہوتی ہیں۔ اگر انتظامیہ بغیر ہیلمٹ کے ڈرائیوروں اور کم عمری میں موٹر سائیکل چلانے والوں پر پابندی عائد کرے، تو شاید ہلاکتوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں والدین اپنے بچوں کی بے جا ضد پوری نہ کرنے کی شکل میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
704 total views, no views today


