سوات میں تعلیم نے ایک نئے المیے کو جنم دیا ہے۔ وہ یہ کہ اس سال گورنمنٹ جہاں زیب کالج اور ڈگری کالج مینگورہ نے کسی بھی سرکاری اسکول کے طالب علم کو فسٹ ائیر میں داخلہ دینے سے انکار کیا ہے۔ تمام کے تمام طالب علم پرائیویٹ اسکولوں سے اچھے نمبروں میں پاس ہوکر جہاں زیب کالج اور گورنمنٹ ڈگری کالج میں داخلہ لینے میں بہت آسانی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ مینگورہ گورنمنٹ کالجوں نے داخلے کا معیار سب سے زیادہ نمبروں پر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک باوثوق ذریعے نے مجھے بتایا کہ اس سال گورنمنٹ جہاں زیب کالج سیدو شریف میں ایک طالب علم کو ’’نو سو اسّی‘‘ نمبروں پر داخلہ نہیں ملا ہے جو کہ نہایت قابل افسوس امر ہے۔ جہاں تک طالب علموں کا سوال ہے، تو یہ سب اہل سوات کے بچے ہیں۔ خواہ وہ پرائیویٹ اسکولوں سے پاس ہوکر داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے ہوں یا سرکاری اسکولوں سے پاس ہوکر سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے میں ناکام ہوئے ہوں۔ اگر غور سے دیکھا جائے، تو سرکاری اسکولوں میں جو بچے طالب علم ہیں، وہ غریب ہوتے ہیں۔ نجی پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لینے سے وہ لاچار ہوتے ہیں اور جو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں، وہ نجی پرائیویٹ کالجوں کی بھاری بھر کم فیس دینے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں لیکن وہ سرکاری کالجوں میں داخلہ لے کر چلے گئے ہیں اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے جو پرائیویٹ کالجوں میں داخلے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ سرکاری کالجوں میں داخلے سے محروم رہ گئے ہیں۔ خپل کور فاؤنڈیشن مینگورہ کے ڈائریکٹر جناب حاجی محمد علی صاحب جو کسی بھی لحاظ سے عبدالستار ایدھی سے کم نہیں ہیں اور کم از کم میں اُنہیں سوات کا ایدھی سمجھتا ہوں، انہوں نے بروقت اس اہم مسئلے کی جانب توجہ دی اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے خپل کور ماڈل اسکول اینڈ کالج (زیر انتظام خپل کور فاؤنڈیشن) میں ’’ایوننگ کلاسز‘‘کا اجراء کیا جس میں چالیس طلبہ اور چالیس طالبات کو فسٹ ائیر میں داخلہ دیا جائے گا۔ فی کس طالب علم پر تین ہزار روپے ماہانہ خرچہ آئے گا، لیکن انہوں نے ستائیس سو روپے فی طالب علم کا ماہوار خرچہ خپل کور فاؤنڈیشن کے ذمے ڈالا اور طالب علم پر صرف ماہوار فیس تین سو روپے رکھی۔ کیوں کہ خپل کور فاؤنڈیشن کو یہ احساس تھا کہ یہ طالب علم تین ہزار ماہوار فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ خپل کور فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کے یہ اقدام لائق تحسین ہیں۔ آج (مورخہ چھبیس جولائی) کے روزنامہ آزادی نے اس تعلیمی المیے پر ایک اداریہ بھی لکھا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے حلقے کے ایم پی اے جناب فضل حکیم کا اخباری بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے خپل کور فاؤنڈیشن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اب اگر غور سے دیکھا جائے، تو جناب فضل حکیم صاحب بر سر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہاں زیب کالج سیدوشریف اور ڈگری کالج مینگورہ میں ’’ایوننگ کلاسز‘‘ شروع کریں اورجو طالب علم داخلہ سے رہ گئے ہیں۔ اُن کو داخلہ دلوائیں۔ اس کے علاوہ حلقہ پی کے اسّی میں تمام ہائی اسکولوں کو ہائیر سیکنڈری اسکول کا درجہ دیں اور داخلے سے محروم طالب علموں کو ان اسکولوں میں داخلہ دلوائیں۔ واضح رہے کہ یہ قوم کے بچے ہیں۔ یہ مستقبل میں بڑے ہوکر ملک و ملت کو بام عروج پر پہنچائیں گے۔ یہ بچے کل کے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ ان طالب علموں کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ تعلیم حاصل کرنے سے رہ جائیں اور کسی اور دہشت گرد تنظیم کے ہتھے چڑھ جائیں۔ اعلیٰ تعلیم پر طالب علم کا حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہ کیجئے۔ ورنہ آج پاکستان جس دہشت گردی سے دوچار ہے۔ آئندہ کے لیے بھی اس سے نکل نہ پائے گا۔ آخر میں ایک بات اور کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آئندہ کے لیے سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے کے لیے طالب علموں سے ٹیسٹ لیا جائے۔ یہ زیادہ نمبروں کاچکر تو امتحانات میں نقل کی بدولت پیدا ہوا ہے۔
816 total views, no views today


