باچا لالہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے سوات کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ ان کی سیاست کی خوبی اُن کی مستقل مزاجی اور وفاداری بہ شرط استواری ہے۔ وہ نہایت پامردی کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس جماعت پر آنے والی ہر صورت حال میں ثابت قدمی سے ڈٹے رہے ہیں۔ دیگر ابن الوقت سیاستدانوں کی طرح ایک شاخ سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کو اُڑ کر نہیں جاتے۔ اُن کی دوسری بڑی خوبی اُن کی دیانت داری اور بے داغ زندگی ہے۔ ان پر آج تک کسی بھی طرح کی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔ متعدد بارممبر صوبائی اسمبلی اور اتنی ہی دفعہ صوبائی وزیر رہے اور ایمانداری اور خلوص سے عوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ سماجی زندگی میں بہت فعال رہے اور لوگوں کی دکھ دردمیں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ آج کل ضعیف العمری کی وجہ سے آمد و رفت قدرے محدود ہے لیکن اپنے سیاسی ہم رکاب لوگوں کو اب بھی اکیلا نہیں چھوڑتے اور انتخابی مہم میں ان کا بھر پور ساتھ دیتے رہے ہیں۔ موصوف کا پورا نام سید محمد علی شاہ اور باچا لالہ کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ قمبر کے ممتاز سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے والد مرحوم سید رسان لالہ والئی سوات کے سگے ماموں تھے۔ ان کے بڑے بھائی رحیم شاہ لالہ اور میاں سید لالہ دونوں کا انتقال ہوچکا ہے۔ باچا لالہ کا میلان ابتدا ہی سے دین داری اور پاکیزگی کی طرف ہے اور حتی الامکان پاک صاف زندگی گزاری ہے۔ یہ باطنی صفائی اُن کی ظاہری شخصیت اور عادات و اطوار میں رچ بس گئی ہے۔ ریاست کے عہد زریں میں باچہ لالہ ٹھیکیداری کرتے تھے۔ وہ بڑی بڑی سرکاری عمارات بنواتے تھے اور اس کاروبار میں بھی دیانت داری کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ مرحوم والئی سوات ان کے کام سے ہمیشہ مطمئن رہے اور اکثر فرماتے تھے کہ محمد علی شاہ ریاست کے لیے ’’گیمن کمپنی‘‘ کی مانند ہیں۔ ریاست کے اختتام کے بعد آپ نے ٹھیکیداری کا کام ہی چھوڑ دیا۔ کیوں کہ اب رشوت، کمیشن اور گھٹیا کام کا دور آگیا تھا۔ ٹھیکیداری میں اُن کی آخری اسائنمنٹ ڈگری کالج، ہاسٹل اور دس عدد رہائشی بنگلوں کی تعمیر تھی جو ادغام کے وقت مکمل ہوچکی تھیں اور صرف آخری “Tuches”باقی تھیں۔ باچا لالہ نے جب بھی موقع پایا، تو عوام کی بے لوث خدمت کرتے رہے۔ اب میں آپ سے ایک ذاتی تجربہ شیئر کرنا چاہوں گا۔ 1998-99ء میں سوات کی مین شاہراہ بہت بگڑی صورت میں تبدیل ہوچکی تھی۔ صوبائی حکومت نے ایک کریش پروگرام کے تحت اس کی فوری اور تیز رفتار بحالی کا ایک سکیم تیار کرنے کا ارادہ کیا۔ اس سڑک پر گورتئی کے مقام پر ایک نہایت دشوار گزار چڑھائی ہے جس میں اکثر بار برداری کے ٹرک فیل ہوکر نیچے گر جاتے اور یہ بہت نقصان کا باعث بن جاتی۔ یہ لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ ہم نے اس کی اہمیت کے پیش نظر اس چڑھائی کو “Easy”گریڈ میں لانے کا منصوبہ کریش پروگرام کے پی سی ون میں شامل کیا تھا، مگر جب یہ پی سی ون منظوری کے لیے ’’پی ڈی ڈبلیو پی‘‘ میں پیش ہوا، تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اپنے قلم سے اس کو کراس کرکے لفظ “Differ”لکھا یعنی فی الحال اس منصوبے کو شامل کرنا منظور نہ کیا اور اس کو کسی اگلے وقت تک ملتوی کر دیا۔ پھر بارہ اکتوبر کا ’’کو‘‘ ہوا۔ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت ختم کردی گئیں۔ چوں کہ کریش پروگرام پر کام کا آغاز مئی 1998ء میں ہوچکا تھا، تو فوجی حکومت نے اس کو جاری رکھا۔ اس اثناء میں جب شمس الملک کی سربراہی میں نگران سیٹ اپ بنی، تو اس میں باچا لالہ کو سی اینڈ ڈبلیو کی وزارت مل گئی۔ ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ باچا لالہ نے مجھے قمبر اپنی رہائش گاہ پر بلایا ہے۔ جب میں مقررہ وقت پر وہاں پہنچا، تو انہوں نے مجھے بہت عزت سے اپنے پاس بٹھایا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں تھے اور چالیس سال تک ہمارا کسی نہ کسی طور سے ان سے رابطہ قائم رہا تھا۔ سیاسی طور پر بھی اُن کی جماعت کے ساتھ رہے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی جب انہوں نے مجھے گورتئی کنڈو کی پوزیشن واضح کرنے کو کہا۔ میں نے ان کو تفصیل سے پوری بات بتائی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں ان کے لیے انگریزی میں ایک مختصر نوٹ لکھوں جو وہ چیف منسٹر کے ساتھ میٹنگ میں دے کر اُن سے اس منصوبے کے لیے خصوصی منظوری لیں گے۔ اور واقعی ایک ہفتے بعد ہمیں سرکاری طور پر اطلاع مل گئی کہ گورتئی کنڈو پر ضروری کارروائی کے بعد کام شروع کریں اور ایک مہینے کے اندر اندر اس کو مکمل کریں۔ اس سلسلے میں فوج اور سول انتظامیہ نے ہماری بہت مدد کی اور ایک ماہ تک سڑک کی مکمل بندش کی منظوری دے دی۔ پھرٹھیکیدار بھی خوش قسمتی سے ایسا ملا جو سخت محنت کشی اور وسائل رکھنے والا تھا یعنی گوگدرہ کے علی خان اور ان کے بھائی گران۔ ان دونوں نے دن رات محنت کرکے ایک ماہ کے مقررہ وقت میں کام بہ طریق احسن مکمل کیا۔ یہ تھا باچا لالہ کے عوامی مسائل میں دل چسپی کا ادنیٰ سا نمونہ۔ باچا لالہ سے میری آخری ملاقات گزشتہ سال والئی سوات کے بارے میں ودودیہ ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں ہوئی۔ بڑے تپاک سے ملے۔ اس سے پہلے وہ ہمارے گاؤں شہزادہ شہریار امیرزیب کے ساتھ آئے تھے اور محمد رشاد خان کے حجرے میں ایک جلسہ سے خطاب بھی کیا تھا۔ عمر کی کہولت اب ان پر انداز ہونے لگی ہے۔ خدا اُن کو صحت مند رکھیں ایسے مخلص لوگ ہی معاشرے کے لیے خیر و برکت کا باعث ہوتے ہیں۔
822 total views, no views today


