وادئ سوات اپنے ملکوتی حسن اور قدرتی نظاروں کی وجہ سے پوری دنیا میں الگ مقام رکھتی ہے۔ قدرتی چشمے،گھنے جنگلات اور سر سبز و شاداب پہاڑیاں انسان کو سکون دینے کیلئے کافی ہیں۔ خوبصورتی کی وجہ سے سوات کو ایشیاء کا سوٹیزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعدا د میں اندرون ملک سے سیاح آتے تھے جبکہ بیرون ممالک سے بھی سیاح ادھر کا رخ کرکے یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ملک بھر میں سوات ایک پر امن علاقہ تھا جس میں جرائم کی شرح انتہائی کم تھی۔ آج سے محض نو سال پہلے سوات میں ہر طرف خوشحالی اور امن کا دور دورہ تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے لوگ ہر موقع پر انتہائی مہمان نوازاور محب وطن واقع ہوئے ہیں مگر نہ جانے اس وادی کو کس کی نظرِ بد لگ گئی کہ جنت کا ٹکڑا دوزخ بن گیا۔
پھر ایک ایسا دور بھی آیا کہ یہاں لوگوں کا زندگی گزارنا تک مشکل ہو گیا۔ نو سال پہلے ٹھنڈی ہواؤں سے سیاحوں کا استقبال کرنے والا سوات بارود کی بو پھیلانے لگا، ہر طرف تباہی و بربادہ کا منظر دکھائی دینے لگا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جنت نظیر وادی اس طرح بدحالی کی شکار ہوگی۔ عرصہ پہلے سوات کی بدقسمتی اس وقت شروع ہوئی جب ملا فضل اللہ نے ایف ایم ریڈیو سے اسلامی نشریات کا آغاز کیا اور آہستہ آہستہ لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے لگا۔ ریڈیو کے ذریعے مقامی لوگوں کو شریعت کے نفاذ کیلئے جدوجہد کی تبلیغ ہونے لگی۔ کسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ ملا فضل اللہ کی شریعت آگے جاکر کیاگل کھلائے گی۔ وقت گزرتا گیا۔ ملا کے بیان میں اب مسلح شریعت کیلئے جدوجہد کی باتیں ہونے لگیں جبکہ ملک کے ’’اہم‘‘ ادارے بے خبر سوتے رہے۔ ان کو اس وقت ہوش آیا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ پھر سر سے گزرنے والے پانی کیلئے بے مقصد بند بنائے جانے لگے،جو ہمیشہ ٹوٹتے رہے۔ خیر، اب تو وہ کٹھن دور گزر چکا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے نام پر شروع ہونے والی تحریک نے سوات کے عوام کو اس ترقی یافتہ دور سے اٹھا کر پتھر کے دور میں واپس کیا۔
دہشت گردی کی اس جنگ میں جہاں عام لوگ متاثر ہوئے، وہاں سوات پولیس بھی اس کی زد میں آئی۔ دہشت گردوں نے خصوصی طور پر پولیس کو ٹارگٹ کیا ہوا تھا۔ پولیس اہلکاروں پر نوکریاں چھوڑنے کا دباؤ بھی تھا جبکہ ان کو جانوروں کی طرح ذبح کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ ہر روز کسی نہ کسی اہلکار کو شہید کرکے چوراہوں پر پھینکنا ایک عام سی بات تھی، جو سوات اپنے حسن اور قدرتی نظاروں کے لیے مشہور تھا، اب انسانوں کو ذبح کرنے اور خودکش حملوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچان بنا چکا تھا۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پولیس، سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام لوگوں نے جتنی قربانیاں دی ہیں، وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔
اب پچھلے دنوں صوبہ بھر میں پولیس کو شہدا کی یاد میں ہفتۂ شہدا منانے کی ہدایات کے بعد سوات میں بھی پولیس شہداء کی یاد میں کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں دہشت گردی کے دوران میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی تصاویر لگا دی گئی ہیں۔ شہداء کی یاد میں قائم ہونے والے اس کیمپ میں ہر روز مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ آکر اپنے تاثرات قلمبند کرنے کے ساتھ پولیس کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک سو چالیس سے زائد پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
پولیس کی قربانیوں کی بدولت امن قائم ہوا، مگر اب اس امن کو مستقل قائم رکھنے کا مسئلہ درپیش تھا، مگر آفرین ہو سوات پولیس پر، جن کو یہ اعزاز ہمیشہ حاصل رہے گا کہ عام لوگوں کے دلوں سے خوف ختم کرنے کیلئے بسا اوقات سیکورٹی اہلکاروں سے آگے آگے چل کر سوات میں امن قائم کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں، جو تاحال جاری ہیں۔ آپریشن کے بعد بھی سوات پولیس کی قربانیوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ اب بھی پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا جار رہا ہے مگر پولیس بھی ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ القصہ، پولیس کی قربانیوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ انتہائی کم ظرفی ہوگی اگر سوات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن کے قیام میں پولیس کے کردار سے انکار کیا جائے۔ میں یہ کہتے ہوئے حق بجانب ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سوات پولیس کے کردار کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائیگا۔
704 total views, no views today


