مٹھی: سندھ حکومت، مقامی انتظامیہ، سرکاری اداروں اور فلاحی اداروں کی جانب سے صحرائے تھر میں امدادی سرگرمیاں تو جاری ہیں لیکن بھوک اور پیاس سے نڈھال عوام کی مشکلات برقرار ہیں اور ہزاروں دیہاتوں میں اب بھی امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہوسکیں۔تھر کے ریگستان کی تپتی زمین مسلسل بھوک اگلتی رہی اور درجنوں ننھی کلیاں غذائی قلت کا شکار ہوکر موت کی آغوش میں جاتی رہیں لیکن حکمرانوں اور انتظامیہ کے کانوں میں جوں نہ رینگی۔ اپنے حال میں مست ان بااختیار لوگوں کو میڈیا نے خواب غفلت سے جگاتو دیا لیکن اب بھی صورت حال میں کسی بھی قسم کی بہتری نظر نہیں آرہی۔ بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر نمونیا، بخار، دست و قے، خون و وزن کی کمی اور ہیپا ٹائیٹس جیسے موذی امراض کاشکار ہورہے ہیں، جب کہ حاملہ خواتین بھی خ
وراک نہ ملنے کے باعث آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔ حیدر آباد میں زیر علاج مزید 3 نوزائدہ بچے بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوکر ابدی نیند جا سوئے ہیں جس کے بعد جاں بحق بچوں کی تعداد 125 سے تجاوز کرگئی ہے۔ ڈاکٹروں کےمطابق حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ان خواتین کو وٹامن اور آئرن کی ادویات کی سخت ضرورت ہے۔
صحرائے تھر میں امدادی سرگرمیوں کا مرکز ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی بنا ہوا ہے، جہاں سندھ حکومت، پاک فوج اور رینجرز کے علاوہ مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں نے اپنے اپنے امدادی کیمپ لگا رکھے ہیں تاہم ضلع کے 2 ہزار 700 سے زائد دیہات میں صورتحال بدتر ہے، جہاں اب تک نہ تو امداد پہنچی ہے اور نہ ہی میڈیکل ٹیمیں جس کے باعث یہاں کے مکینوں کی حالت بھوک و بیماری سے انتہائی خراب ہے۔ لوگ اپنے مال مویشیشوں کے ہمراہ مٹھی اور اسلام نگر کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں لیکن ہزاروں افراد اس سفر سے بھی قاصر ہیں اور وہ امداد کے سہارے اپنی سانسیں کاٹ رہے ہیں اور موت ان کا تعاقب کررہی ہے۔
642 total views, no views today


