مینگورہ، سرحد عوامی فارسٹری اتحاد کے جنرل سیکرٹری جمشیدخان نے کہاہے کہ جنگلات رائلٹی کے حوالے سے صوبہ بھرمیں یکساں قانون ہونا چاہئے مگر مقام افسوس ہے کہ اس وقت دیرپائن ،بونیراورانڈس کوہستان میں رائلٹی اسی فیصد جبکہ سوات ،شانگلہ اوردیر میں ساٹھ فیصد ہے جو کسی بھی صورت مناسب نہیں،ہم چاہتے ہیں کہ پورے صوبے میں برابری کی بنیاد پر پالیسی وضع کی جائے،سوات پریس کلب میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے ملاکنڈڈویژن ،ہزارہ اورکوہستان میں 2003آرڈیننس کی روسے 2004رولز کے تحت محکمہ جنگلات نے مختلف علاقوں میں وینڈفال کی مارکنگ کرکے بذریعہ ایف ڈی سی ہارویسٹنگ کرکے کام جاری رکھا اس سلسلے میں 2009اور20010میں جو مارکنگ ہوئی جسے پرائزکمیٹی اورایگزیکٹیوکمیٹی نے منظوری کیلئے بجھوائی لیکن بدقسمتی سے موجو دہ حکومت نے سال 2013کے آخرمیں پابندی عائد کردی جس سے عوام اورحکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پرویزخٹک کیساتھ انڈس کوہستان والوں نے اپنے ایم پی اے کے ہمراہ ملاقات کی جس کے دوران ایک کمیٹی کی سفارشات پر پابندی ختم کردی گئی مگروقت گزرنے کے ساتھ موجودہ حکومت نے صرف ڈپومیں پڑی لکڑی اورکٹ شدہ مال کیلئے پالیسی جنگلات دفتر ارسال کردی تاہم اسے بھی اٹھانے کی اجازت نہیں جبکہ جنگلات میں مارکنگ اورٹینڈرشدہ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے جبکہ اجازت کیلئے ایک تیسری کمیٹی بنائی جس میں اینٹی کرپشن اورنیب کو بھی شامل کیا گیا سوال یہ ہے کہ ان دونوں محکموں کا جنگلات سے کیا تعلق ہے،انہوں نے کہاکہ مارکنگ کی آڑ میں گرین کٹائی چترال میں ہوئی مگر اس کی سزا سوات،دیراور شانگلہ کو دی جارہی ہے،انہوں نے کہاکہ چھ ستمبر تک پابندی نہ اٹھائی گئی تو سات ستمبرسے سی ایم ہاؤس پشاورمیں اورسیکرٹریٹ کے سامنے دھرنادیں گے ،اس موقع پر ملک دوست محمدخان ،نوشیرچموٹ اورتنظیم کے دیگرعہدیداروں سمیت جائنٹ فارسٹ منیجمنٹ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔
738 total views, no views today


