خوازہ خیلہ، حلقہ پی کے چیاسی میں سیاسی مخالفین پی ٹی ائی کے مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، ڈاکٹر حیدر علی خان نے حلقہ نیابت میں اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں کا جال بچھانا شروع کردیا ہے جس کے وجہ مخالف سیاسی پارٹیاں بے جا تنقید کرکے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں ، بجلی ٹرانسفارمر کے مرمت کے لئے بنا ئے گئے ورکشاپ سے مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بلا تفریق مستفید ہورہے ہیں، ورکشاپ کے قیام سے ٹرانسفارمر کم سے کم وقت میں مرمت کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے ، پی ٹی ائی کے حکومت نے کرپشن کے تمام راستے بند کردئیے ہیں جس کا اعتراف سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں ، ٹرانسفارمر وں کے مرمت کیلئے بنائے گئے ورکشاپ باقاعدہ پبلک ہیلتھ کے نگرانی میں کام کررہا ہے جس کی کام اور کارکردگی چیک کرنے کے بعد صوبائی حکومت اس کوبلز ادا کرینگے، پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے یونین کونسل گلی باغ کے پاکستان تحریک انصاف کے ضلع کونسلر محمد زیب خان ، یونین کونسل جانو / چمتلئی کے زیب سر خان ، تحصیل کونسلر بحری دانوش خان ،ویلج کونسل کے چیئرمین شیر عالم خان کاکا، جنرل کونسلر رحمت علی خان ، ممبر مصالحتی کمیٹی جہانگیر خان و دیگر نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری برائے انٹی کرپشن ایم پی اے ڈاکٹر حیدر علی خان نے اپنے حلقہ نیابت میں ریکارڈ ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا ہے اور حلقہ پی کے 86 میں ان کی کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مخالفین بوکھلاہٹ کے شکارہوکرغلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے طرف سے ٹرانسفارمر مرمت کرنے کیلئے ورکشاپ بنایا گیا ہے جس سے علاقے کے عوام بلا امتیاز مستفید ہورہے ہیں ، جبکہ مختلف سیاسی پارٹیاں ورکشاپ میں کرپشن کے بے جا الزامات لگا رہے ہیں جو کہ جھوٹ کا پلندہ ہے اسی ورکشاپ میں تحصیل چار باغ کیلئے 22 ٹرانسفارمر ز مرمت ہوچکے ہیں ، جو کہ ٹھیک ٹھاک چل رہے ہیں ۔ پریس کانفرنس سے شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے منتخب ضلع کونسلر سیراج خان بھی پاکستان تحریک انصاف کے بنا ئے گئے ورکشاپ میں ٹرانسفارمر لاکر مرمت کرتے ہے ، جو بلا امتیاز خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویلج کونسلر شیر عالم خان کاکا نے کہا کہ مذکورہ ورکشاپ سے پہلے خراب ٹرانسفارمر وں کو چکدرہ اور نوشہرہ میں مرمت کیا جا تا تھا جس کے لئے مہینوں کا انتظارکرنا پڑ تا تھا ، ایک اندازے کے مطابق چکدرہ کے ورکشاپ میں گذشتہ سال 70کروڑ روپے کا کرپشن ہوچکا ہے جس کے وجہ سے چکدرہ ورکشاپ کو بند کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ خوازہ خیلہ کے لئے فیڈر ہم نے منظور کرایا ہے کیونکہ بجلی کے تمام امور کا ذمہ دار وفاقی حکومت ہے جس سے اپنے حقوق چھین کردم لینگے ، اس کے علاوہ ٹرانسفارمر کی مرمت بھی وفاقی حکومت اور محکمہ واپڈا کی ذمہ داری ہے لیکن محکمہ واپڈااور مرکزی حکومت کی نا اہلی اور ٹرانسفارمر کے مرمت میں مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت نے اپنے کاند ھوں پر لی ہے ، جو کہ ایک قابل تعریف اقدام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین بے جاالزامات لگانے کے بجائے میڈیا کے موجودگی میں ہمارا سامنا کریں ، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا ۔
658 total views, no views today


