ایپاک خطے میں اعتماد اور تعاون کے لیے بڑی بڑی طاقتوں یعنی امریکہ، برطانیہ، چین، روس، اقوام متحدہ، فرانس، جاپان، ترکی اور ایران نے خصوصی نما ئندے مقرر کیے ہیں، جو ان ممالک کے پارلیمان اور اداروں کو افغا نستان پر پالیسی بنا نے کے لیے گا ئیڈ لا ئن دیتے ہیں جبکہ پاکستان اور ہندوستان نے تو اپنی خار جہ پالیسی کی بنیاد ہی افغان پالیسی پر رکھی ہے، لیکن نیا افغانستان جس میں فعال ترین پارلیمان، لویہ جرگہ کیسا تھ ساتھ منتخب صدر اور وزراء سمیت فعال سول سوسائٹی اور ریاست میں خواتین کے فعال کردار کا کریڈٹ افغانستان کے سابق صدر اور نئے افغانستان کے بابائے قوم جناب عزت مآب حامد کرزی کو جاتا ہے۔
افغانستان میں قیام امن کے لیے کر زئ نے امریکہ اور پاکستان دونوں کو ٹھوس اور قابل عمل حل کے لیے مخلصانہ کوششوں کی اپیل اور منصفانہ پالیسیوں کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر حقیقی معنوں میں دونوں ملکوں نے افغانستان میں قیام امن کا فیصلہ کرلیا، تو مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں نہیں بلکہ منٹوں اور سیکنڈوں میں افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا۔ یہ حامد کرزی کا ایک طرح سے مطالبہ تھا۔ اگر اس سوچ کا بحیثیت سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ نگار تجزیہ کیا جائے، تو اس میں ایک حد تک حقیقت نظر آرہی ہے۔ کیونکہ اب یہ راز نہیں رہا بلکہ زبان زد عام والی بات ہے کہ پاکستان اور امریکہ بیک وقت ایک دوسرے کے اسٹر یٹجک دوست بھی ہیں اور دشمن بھی۔ جس کا منھ بولتا ثبوت یہ ہے کہ انتہائی کو ششوں کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعتماد نہیں بن پا رہا۔ امریکہ بظاہر پاکستان اور ہندوستان کے مابین دوستی پر زور دیتے نہیں تھکتا اور حقیقی مسائل کے حل کرنے کے بجائے باہمی مسائل کو دو طرفہ بنیاد پر حل کرنے کی رٹ لگائے بیٹھا ہے۔ درحقیقت امریکہ کا یہی عمل ہندوستان پاکستان دوستی میں بڑی رکاؤٹ ہے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ افغانستان سنٹرل ایشیا اور جنوبی ایشیا سمیت ایران اور چین کے سنگم پر واقع انتہائی اہم سیاسی، معاشی اور دفا عی مورچہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایشیاء کا جغرافیائی دل بھی ہے۔ سنٹرل ایشیاء کے کچھ ممالک نے افغان طالبان کو افغانستان میں سیاسی کردار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ جب مذاکرات کی میزسجتی ہے، تو نجانے کیوں اچانک کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جس سے ایک قدم آگے جانے کا سفر دس قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں چین اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے سامنے افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے بارے میں چند سوالات گزارشات کی شکل میں8 پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1:۔ پاکستان اور چین کی سیاسی اور عسکری قیادت کو سو چنا چاہیے کہ افغان طالبان میں امریکہ اور بر طا نیہ سمیت مغربی طاقتوں کا کتنا اثر و رسوخ ہے؟
2:۔ پاکستان اور چین کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ افغان طالبان کتنے متحد، فعال اور خود مختار ہیں؟
3:۔ افغان حکومت پر مغر بی دنیا کا کتنا اثر و رسوخ ہے اور وہ کتنے آزادانہ اور خو مختار انہ انداز میں فیصلہ کرسکتی ہے؟
4:۔ افغانستان کے ریاستی اداروں اور پارلیمان اور عوام میں علاقائی طاقتوں پر کتنے اعتماد کا جذبہ موجود ہے؟
5:۔افغا ن عوام اور ریاستی ادارے چین اور پاکستان کے مفاہمتی عمل پر کتنا اعتماد اور یقین کرتے ہیں؟
6:۔ پاکستان اور چین، افغان طالبان، القاعدہ، ایسٹ ازبکستان اسلامک موومنٹ اور پاکستانی طالبان کو زیر دست لانے کے لیے کتنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتے ہیں؟
7:۔ پا کستان اور چین کیا افغانستان آئین کی حدود کے اندر افغان طالبان کو سیا سی کردار پر آمادہ کرنے کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟
میری ناقص رائے میں افغا نستان میں اس وقت تک قیام امن ممکن نہیں جب تک تمام علاقائی اور بین الا قوامی طاقتیں افغا نستان کے آئین کے احترام اور حدود کے دفاع اور تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی نہیں اپناتے اور افغان عوام کے ووٹ کی طاقت کو دل سے تسلیم نہیں کرتے اور تمام غیر ریاستی عناصر کو کردار دینے کے بجائے افغان آئین کی حدود میں رہتے ہوئے افغان عوام کے اقتدار اعلیٰ کوتسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ حالات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے، تو افغان طالبان سے تمام غیر ریاستی عناصر کی موجودگی کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ اور ان کی مغربی طاقتوں کو ہے اور سب سے بڑا نقصان چین اور پاکستان کو۔ کیونکہ چین اور پاکستان پر افغانستان کے براہ راست اثر ات پڑتے ہیں۔ اگر افغانستان میں غیر ریاستی عناصر کے کردار کے لیے چین اور پاکستان کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تو کل پاکستان اور چین کے خلاف برسرپیکار غیر ریاستی عناصر بھی وہی کچھ مان سکتے ہیں جو افغان طالبا ن، افغان حکومت سے مانگتے ہیں۔ اس لیے چین اور پاکستان سمیت تمام ممالک کو غیر ریاستی عناصر کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور قابل عمل پالیسی اپنانی چاہیے اور افغان سکیورٹی اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر بنا نے اور افغان عوام کا دل جیتنے اوران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ کیونکہ جب تک افغان عوام اور افغان اداروں کے دل نہیں جیتے جاتے اور افغان آئین کے احترام اور افغان اداروں کے استحکام کے لیے ٹھوس بنیاد وں پر امداد مہیا نہیں کی جاتی، تو اس خطے میں غیر ریاستی عناصر کے نام پر سکیورٹی شطرنج کا یہ گیم چلتا رہے گا۔ کبھی افغان طالبان، کبھی پاکستان طالبان، کبھی القا عدہ اور کبھی داعش کا نام استعمال کر کے علاقائی استحکام وترقی اور علاقائی بد اعتمادی کا سلسلہ چلتا رہے گا۔
وقت اور حالات کا تقا ضا ہے کہ افغان صدر، پاکستان، چین، ایران، ہندوستان، تاجکستان اور روس سے اپیل کریں کہ غیر ریاستی عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور یہ ممالک افغان صدر کی اپیل پر لبیک کہہ کہ ہر ممکن معاشی و عسکری تعاون فراہم کر کے غیر ریا ستی عناصر پر یہ خطہ جہنم بنا دیں۔ کیونکہ غیر ریاستی عناصر میں اچھا، برا، دوست اور دشمن نہیں ہوتا۔ ایسے عناصر تمام علا قائی ممالک، ان کے عوام اور اداروں کے دشمن ہیں۔ اس لیے وقت اور حالات تقاضا کرتے ہیں کہ غیر ریاستی عناصر کے ساتھ مذاکرات پر وقت ضا ئع کیے بغیر ریاستوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔کیونکہ غیر ریاستی عناصر سے مذاکرات کوئی نتیجہ دینے کے بجا ئے خطے کے عوام کے ریاستوں پر شکوک وشہبات میں اضا فے کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کے رشتوں کو کمزور کرتے ہیں۔
امید ہے کہ اس حوالے سے چین، روس، ایران اور پاکستان سب افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان ریاست کے ساتھ تعاون اور اعتماد کا ماحول بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی پالیسی اپنائیں گے ۔
638 total views, no views today


