(بارہ اگست) کے روزنامہ آزادی کی شہ سرخی پڑھ کر اندازہ لگائیں: ’’سوات موٹر وے کو چھ رویہ بنانے کا حکم دے دیا گیا۔‘‘ خبر پڑھ کر دل میں ہلچل ضرور ہوئی لیکن دماغ، دل کا ساتھ نہیں دے رہا کہ ہمارے سوات کے ساتھ حکمران اتنی بھلائی کرسکتے ہیں۔ خبر کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ صاحب نام سے تو ’’سوات موٹر وے‘‘ بنا رہے ہیں، لیکن روڈ ہے صرف چکدرہ تک۔ خبر کے مطابق کرنل شیر خان انٹرچینج سے لے کر چکدرہ تک کا تریاسی کلومیٹر کا موٹروے ’’سوات موٹر وے‘‘ ہے، جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ سوات، چکدرہ سے کوئی بیس کلومیٹر آگے لنڈاکی کے مقام سے شروع ہوتا ہے اور اسی چکدرہ سے بیس کلومیٹر چھوڑ کر باقی پورے سوات کی سڑکیں تباہ و برباد ہوچکی ہیں اور ان پر آثار قدیمہ کے کھنڈرات کا گمان ہوتا ہے، لیکن آج بھی ہمارے وزیراعلیٰ صاحب لنڈاکی سے آگے کالام تک کے محض ایک سو کلومیٹر کی بات نہیں کر رہے بلکہ صوابی سے لے کر چکدرہ تک کی سڑک جو کہ اب بھی صوبہ کی بہترین سڑکوں میں شمار ہوتی ہے، اس کی تعمیر اور ترقی کی بات کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ صاحب! ہمیں نام کی نہیں، کام کی ضرورت ہے۔ اس موٹر وے کا نام بے شک ’’مردان موٹر وے‘‘، ’’نوشہرہ موٹر وے‘‘، ’’بٹ خیلہ یا چکدرہ موٹر وے‘‘ رکھ دیں لیکن یہ ہمیں خوازہ خیلہ تک بنا کردے دیں، تب ہم سمجھیں گے کہ سوات کے لیے کچھ کام ہو رہا ہے۔ یہ تو بالکل ایسی بات ہے جیسے کہ ہمارے صوبے کا نام ہمارے لیڈران نے خیبر پختونخوا رکھ کر ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔ حالاں کہ خیبر بیچارہ اس صوبہ میں ہے ہی نہیں۔ خیبر والوں کو اس نام سے کیا فائدہ؟ اسی طرح اس موٹر وے میں سوات کی سڑکیں تو شامل ہی نہیں، تو نام کیوں سوات کا استعمال کیا جا رہا ہے؟ میری رائے ہے کہ اس موٹر وے کا نام ’’ملاکنڈ موٹر وے‘‘ رکھ دیں، تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جناب والا! ادغام سے پہلے ریاست سوات کا اپنا ایک حکمران تھا۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ صاحبان اُن دنوں ہیلی کاپٹروں میں نہیں بلکہ کسی کرولا گاڑی میں ضرور سوات آئے ہوں گے، اور آپ صاحبان کو مردان سے لے کر لنڈاکی تک کی سڑک کے وہ کھڈے بھی یاد ہوں گے اور جب لنڈاکی پہنچ کر اس ہموار اور بہترین سڑک پر گاڑی دوڑائی ہوگی، تو آپ صاحبان کے دل سے ضرور والئی سوات کے لیے دعا نکلی ہوگی کہ انھوں نے اتنی بہترین سڑکیں بنائی تھیں، لیکن خٹک صاحب، آج آپ کو اتنی فرصت نہیں کہ آپ اپنے لینڈ کروزر میں By Road آکر سوات کی سڑکوں کی حالت دیکھ سکیں کہ ہم اہل سوات کس کرب سے ان سڑکوں پر سے گزرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ صاحب سے میری اپیل ہے کہ ہمیں ناموں سے نہ ورغلایا جائے۔ ہم بچے نہیں ہیں۔ اگر واقعی آپ سوات کی بھلائی کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں، تو ایک تو لنڈاکی سے خوازہ خیلہ تک کی سڑک کی تعمیر اور بحالی کا فوری طور پر بندوبست کردیں۔ دوسری بات یہ کہ مینگورہ کی اندرونی تیئس کلومیٹر کی سڑکوں کی مرمت اور بحالی کے لیے مناسب فنڈز محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ہائی وے ڈویژن کوجاری کردیں، تیسری بات یہ کہ تمام سڑکوں سے چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، ہر قسم کے اسپیڈ بریکرز ہٹانے کے لیے ایک کریش پروگرام لانچ کردیں، چوتھی بات یہ کہ دریائے سوات کے کناروں کو Land Grabers سے آزاد کراکے محکمہ مال میں صوبائی حکومت کے نام کروادیں، تاکہ کوئی بھی بارسوخ شخص یا لینڈ مافیا اس پر قبضہ نہ کرسکے۔ اس سے ایک طرف دریا کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا، تو دوسری طرف شہریوں اور سیاحوں کے لیے پکنک اسپاٹس میسر آجائیں گے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جنت نظیر سوات کو اس کا کھویا ہوا مقام عطا فرمائے، آمین۔
730 total views, no views today


