حاجی فضل غفار امانکوٹ کے رہنے والے ہمارے قریبی دوست اور رشتہ دار ہیں۔ ان کو پہلی اولاد اللہ کی رحمت کی شکل میں بیٹی نصیب ہوئی۔ اُنہوں نے بیٹی کا نام ’’حسنات‘‘ رکھا۔ ہماری دوستی جب گہری ہوئی، تو حسنات اس وقت چھوٹی تھی۔ فضل غفار کو اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کی نعمت سے بھی نوازا لیکن اُن کی اپنی ’’حسنات‘‘ سے بے پناہ محبت تھی اور حسنات بھی اپنے بابا سے بے حد پیار کرتی تھی۔ فضل غفار کوئی بھی ضروری کام چھوڑ کر بیٹی کو اسکول چھوڑنے اور چھٹی کے وقت واپس خود گھر لانے میں خوشی محسوس کرتا تھا۔ دوستوں کی محفل میں جب بھی کوئی بات ہوتی تھی، تو حاجی فضل غفار کے ہونٹوں پر حسنات کا نام ضرور سننے کو ملتا تھا۔ حسنات کی عمر جوں جوں بڑھتی گئی، والدین اور بیٹی کے درمیان توں توں محبت میں اضافہ ہوتا گیا۔ حسنات نے جب میٹرک کا امتحان دیا، تووالدین اس کی بہتر پوزیشن کے لئے دعائیں کرتے تھے۔ وہ بھی اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیتی تھی کیونکہ اس کے والد کی خواہش تھی کہ حسنات اچھی پوزیشن کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔فضل غفار کی جیب میں کچھ ہوتا یا نہیں لیکن اپنی بیٹی کی ہر فرمائش کو وہ بسر و چشم پورا کرتا تھا۔ فضل غفار کے بھائی محمد غفار اور اُن کے دیگر بھائی بھی حسنات سے بے حد پیار کرتے تھے۔ وہ ایک طرح سے پورے گھر کی لاڈلی تھی۔ محمد غفار جو ایس پی ایس کالج میں ملازمت کرتے ہیں، اُن کا تبادلہ جب میر پور آزاد کشمیر کردیا گیا، تو اس نے اپنے بھائی سے مشورہ کرکے حسنات کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ میر پور لے گیا اور اسے وہاں اپنے اسکول میں داخل کرادیا۔ ان دنوں فضل غفار کو اپنی بیٹی کی بہت یاد آتی تھی۔ اس لئے وہ ہفتہ میں دو بار مینگورہ سے میر پور جاتا تھا۔ وہ اپنی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتا تھا۔ میر پور پہنچ کر باپ اپنی بیٹی کو سینے سے لگاتا اور تھامے رکھتا لیکن پھر بھی اس کی تشنگی دور نہیں ہوتی تھی۔ کچھ عرصہ میر پور میں رہنے کے بعد جب اُن کے بھائی کا تبادلہ واپس سوات ہوا، تو فضل غفار نے سکھ کا سانس لیا۔ حسنات میڑک تک پہنچی اور میڑک کے نتائج میں بھی اس نے اچھی پوزیشن حاصل کی، جس کی وجہ سے شفیق باپ خوشی کے مارے ہم دوستوں کو فون کرکے حسنات کے نمبروں کے بارے میں بتایا کرتے۔ ایک دن ہم دوستوں نے اپنے دفتر میں’’ون ڈش‘‘ ڈنر کا پروگرام بنایا اور دوستوں میں مینو کو تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پر سختی کے ساتھ سب کو کہا گیا کہ کوئی بھی دوست ایک ڈش سے زیادہ نہیں لائیگا اور جو لائیگا اس کو جرمانا کیا جائیگا۔ رات کو جب پارٹی شروع ہوئی، تو فضل غفار حوالہ کئے گئے ڈش سے ایک سویٹ ڈش زیادہ لیکر آیا تھا جس پر سارے دوست ناراض ہوئے اور فضل غفار پر جرمانہ لگانے کا سوچنے لگے لیکن انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بیوی کو ایک ہی ڈش کا کہا تھا لیکن حسنات نے یہ سویٹ ڈش اپنی طرف سے اپنے والد کے دوستوں کے لئے بنائی ہے۔ اس طرح ہم نے حسنات کے ہاتھوں کا بنایا ہوا میٹھا کھا لیا۔ جب حسنات کے فرسٹ ائیر کا داخلہ تھا، تو فضل غفار دوستوں کے ساتھ مسلسل مشورہ کر رہا تھا کہ کونسا کالج اس کے لئے بہتر ہوگا؟ پہلے انہوں نے ہوم سائنس کالج میں اُن کو داخل کرایا۔ بعد میں گرلز کالج مینگورہ سے اس نے اچھے نمبروں کے ساتھ پارٹ ون کا امتحان پاس کیا۔ گرلز کالج کا ماحول فضل غفار کو پسند نہیں آیا، اس لئے انہوں نے سیکنڈ ائیر میں حسنات کو واپس ایس پی ایس کالج میں داخل کرایا اور حسب سابق وہ اپنی بیٹی کو اسکول چھوڑنے اور پھر واپس لانے کی ڈیوٹی ایک بار پھر انجام دینے لگے۔ سیکنڈ ائیر کا امتحان ہوا، تو نتائج کا فضل غفار اور ان کی بیٹی کو بے چینی سے انتظار تھا۔ نتائج کا اعلان ہوا تو حسنات نے اے گریڈ میں ایف ایس سی امتحان پاس کیا۔ فضل غفار خوشی سے پاگل ہو رہا تھا۔ سب دوستوں کو فون کر رہا تھا کہ حسنات نے فلاں پوزیشن حاصل کی ہے۔ باقی کلاس فیلوز رشتہ داروں کے ساتھ فضل غفار نے اپنی بٹیا کو انٹری ٹیسٹ کی کوچنگ کلاسز کے لئے پشاور بھیجا اور واپسی پر انٹری ٹیسٹ کے انتظار میں حسنات اپنی پڑھائی اور تیاری میں مصروف ہوئی۔ گزشتہ دنوں رات کے وقت حسنات پڑھائی میں مصروف تھی کہ اس نے اپنے والد کو کہا کہ اس کے سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ والد نے سوچا کہ زیادہ پڑھائی کی وجہ سے درد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے لخت جگر کو دودھ پلایا لیکن درد شدید ہو تا گیا اور رات تین بجے فضل غفار اپنی بٹیا کو گاڑی میں بٹھا کر سیدو شریف ہسپتال کی کیجولٹی ’’قتل گاہ ‘‘ لے گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب سورہے تھے۔ منت سماجت کے بعد جب ڈاکٹر صاحب کو خواب غفلت سے بیدار کیا گیا، تو فضل غفار نے بیٹی کی حالت کے بارے میں بتایا۔ بقول فضل غفار، ڈاکٹر نے ہسپتال کی چھٹی پر حسنات کو ایک ڈرپ لکھا اور نرس کو ڈرپ لگانے کا کہا۔ ڈاکٹر کی چٹھی میں نے دیکھی، تو اس میں تو نہ حسنات کی ہسٹری لی گئی،نہ بلڈ پریشر چیک کیا گیا اور نہ ہی اس کے نبض کا ذکر تھا۔ ڈرپ ختم ہونے کے بعد مسیحا کے روپ میں اس قاتل نے مریض کو گھر جانے کا حکم دیا۔ فضل غفار رات کو اپنی لخت جگر کو گھر لے گیا۔ گاڑی سے اتارنے کے بعد بیٹی کو گود میں اٹھا کر گھر پہنچایا اور بستر پر لیٹتے ہوئے حسنات نے باپ کا بوسہ لیا۔ حسنات جب لیٹ گئی، تو ایک دو سانسیں لیں اور خالق حقیقی سے جا ملی۔ صبح سویرے ہم دوستوں پر یہ خبر آسمانی بجلی کی طرح گری، کیونکہ حسنات اور ان کے والدین کے ساتھ قریبی تعلق کا ہم کو پتہ تھا، ہم اُن کے گھر پہنچے گھر میں صف ماتم بچھی تھی۔ والد دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور ہم اُن کو دلاسہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ ایک ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے معلوم نہیں کہ کتنی ’’حسنات‘‘ کی جانیں ضائع ہوئی ہوں گی، لیکن ’’صحت کے انصاف‘‘ میں بھی بعض ڈاکٹر ایسے ہیں جو مسیحا کے بجائے قاتل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حسنات کی جس دن رسم قل تھی، اس دن گراسی گراؤنڈ میں حسنات کا انٹری ٹیسٹ تھا۔ حسنات کی سہیلیوں کی نشستیں حسنات کی کرسی کے قریب تھی۔ کرسی پر حسنات کا نام اور رول نمبر لکھا گیا تھا۔ اس کی سہیلیاں انٹری ٹیسٹ میں بھی حسنات کو یاد کرکے نمدیدہ تھیں۔ انتظامیہ کی جانب سے تین چار بار اعلان بھی کیا گیا کہ حسنات رول نمبر فلاں اپنی نشست پر تشریف لائے، لیکن اُن کو معلوم نہیں تھا کہ حسنات ایک قاتل ڈاکٹر کی وجہ سے اب لحد میں ہے۔ یوں گراسی گراؤنڈ کے انٹری ٹیسٹ میں حسنات کی کرسی خالی تھی اور اس موقع پر لوگ حسنات کی رسم قل کے موقع پر دست بہ دعا تھے۔
861 total views, no views today


