ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ جب پہلے پہل بجلی آئی، تو بہت سے لوگ ایسے تھے جو بجلی کا میٹر لگانے سے اجتناب کررہے تھے۔ بہ قول ان لوگوں کے ’’ہمیں اپنا مکان کرایہ پر نہیں لینا ہے۔‘‘ حکومت وقت لوگوں کی منت سماجت کرتی کہ میٹر لگالیں، لیکن زیادہ تر لوگوں کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بعض علاقوں یعنی ’’علاقہ غیر‘‘ میں بجلی مفت فراہم کی گئی، تاکہ عوام اس نشے کے عادی ہوجائیں، بعد میں ساری کسر پوری کی جائے گی، لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگوں نے اپنا ہی گھر کرایہ پر لینا شروع کردیا۔ ہر گھر میں بجلی چمکنے لگی۔ لالٹین اور دِیے گھر سے رخصت ہونے لگے۔ کیوں کہ ان چیزوں کی ضرورت باقی نہ رہی۔ پنکھوں کے ساتھ ساتھ فریج، ٹیلی ویژن اور اس قبیل کی دیگر اشیاء گھروں میں آنے لگیں۔ یوں لوگوں کو بجلی کی لت لگ گئی۔ اس دور میں لوڈشیڈنگ کے نام سے لوگ نا واقف تھے۔ جب بجلی عام ہوئی اور ہر گھر میں برقی قمقمے روشن ہوگئے، تب ایک ایسا دور آیا جس میں لوڈشیڈنگ کا آغاز ہوا۔ حکومت وقت نے معذرت کے ساتھ عوام الناس کو پیغام دیا کہ ڈیموں میں پانی کم ہوگیا ہے، لہٰذا سردیوں میں لوڈشیڈنگ ہوگی۔ اس دور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ایک یا دو گھنٹے ہوا کرتا تھا، لیکن پھر بھی لوگ اسے برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ کبھی کبھار لوڈشیڈنگ سے لوگ تنگ آکر سڑکوں پر نکل آتے، جلسے جلوس نکالتے، ٹائر جلاتے، سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے، ایسے میں واپڈا والے دباؤ میں آتے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کردیتے۔ پھر حکومت پر حکومت تبدیل ہونے لگی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا جس میں چوبیس گھنٹوں کو دو پر برابر تقسیم کرکے اوقات کو برابر کیا گیا یعنی ایک گھنٹہ بجلی اور ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ، لیکن اس میں بھی بے ایمانی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا۔ جب پورا گھنٹہ بجنے میں پانچ منٹ باقی ہوتے، تو بجلی چلی جاتی اور بحال کرنے میں بھی پانچ دس منٹ تاخیر سے کام لیا جاتا۔شائد اس میں بھی عوام خوش دکھائی دے رہے تھے۔ کیوں کہ عوام کی مثال اس بادشاہ کی رعایا جیسی ہے جس نے اپنی رعایا کو بیدار کرنے کے لیے وزیر کے مشورے سے ان پر پانچ روپے ٹیکس لگایا گیا۔ چند دن عوام نے شور شرابہ کیا لیکن پھر خاموش ہوگئے اور ٹیکس ادا کرنے لگے۔ جب عوام میں بیداری کے اثرات نظر نہیں آئے، تو پھر بادشاہ سلامت نے وزیر کے کہنے پر ٹیکس دوگنا کردیا۔ چند دن کے ہلے گلے کے بعد عوام نے پھر خاموشی اختیار کرلی۔ جب عوام میں بیداری کی کوئی رمق نظر نہیں آئی، تو وزیر نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ ٹیکس کے ساتھ ساتھ جب کوئی گھر سے نکلے تو دوتین لات سے اُس کی تواضع کی جائے۔ غرض عوام اس کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ پھر جب ایک دن بادشاہ سلامت نے اپنے عوام سے اُن کے مطالبات پوچھے، تو عوام کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ لات مارنے والوں کی تعداد بڑھا دی جائے، تاکہ ہمیں زیادہ دیر تک لائن میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور وقت پر کام کیے جاسکیں۔ یہی حال ہمارا ہے۔ ہماری خاموشی دیکھ کر حکومت کے حوصلے بلند سے بلند تر ہونے لگے۔ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں مزید اضافہ ہونے لگا۔ پہلے پہل ایک گھنٹہ بعد ہمارے گھروں میں بجلی کی رمق دوڑ جاتی پھر چار پانچ گھنٹوں بعد ایسا ہونے لگا۔ اور پھر اس کے بعد ایک ایسا دور آیا جس نے لوڈشیڈنگ کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے اور وہ آج کا دور ہے جس میں دن کو بجلی نامی شے دور بین لے کر بھی نظر نہیں آتی۔ البتہ رات کو جب بجلی کا قمقمہ روشن ہوجاتا ہے، تو کسی کو اس انہونی پر یقین نہیں آتا۔ پھر گھر میں ایک ہنگامہ سا برپا ہوجاتا ہے۔ کوئی بجلی کی موٹر کی طرف بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ٹینکی میں پانی جو نہیں ہوتا۔ کوئی استری کی طرف دوڑ لگا لیتا ہے۔ کیوں کہ سارے کپڑے جو بغیر استری کے پڑے ہوتے ہیں۔ کوئی اپنا موبائل فون اور لیپ ٹاپ چارج کرنے کے لئے دوڑ لگالیتا ہے۔ موٹر نے ابھی پانی نہیں نکالاہوتا، استری کی گرمی سے پہلے پہلے بجلی واپس چلی جاتی ہے۔ پانچ منٹ سے زیادہ بجلی ٹکتی ہی نہیں۔ پھر ایک دو گھنٹہ انتظار، پھر پانچ منٹ کے لیے بجلی، غرض ساری رات اس پانچ منٹ کی بجلی کے انتظار میں اختر شماری کرتے گزر جاتی ہے۔ اب ہمیں چاہئے کہ اس پانچ منٹ کی بجلی پر بھی شکر ادا کریں، ورنہ اگر اس طرح لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوتا رہے گا، تو ممکن ہے کہ اگلے سال ہم اس پانچ منٹ کی بجلی سے بھی محروم ہوجائیں اور بجلی کا نام و نشان اس دھرتی سے مٹ جائے۔
900 total views, no views today


