میراوس کا نام پشتونوں میں مزاح کے لئے ایک استعارہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے یہ کمال حاصل ہے کہ وہ انتہائی نازک اور سنجیدہ معاملات کو بھی ایسی ہنسی میں اڑاتا ہے کہ بندہ ہنستے ہنستے سوچ کے گہرے ساغر میں ڈوب جاتاہے۔ اسٹیج پر ایک دن ون مین شو کرتے ہوئے اس نے اپنے ایک خواب کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ روزقیامت ہے اور ہر طرف چیخ وپکار ہے۔ میں نے فرشتے سے پوچھا کہ یہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا یہ جہنم سے آرہی ہیں۔ میرا اشتیاق بڑھنے لگا اور میں حالات دیکھنے کے لئے آگے کی طرف روانہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ بہت ساری کھائیوں میں انسان آگ کے شعلوں کے بیچ تکلیف سے چیخ رہے ہیں اور باہر نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن جیسے ہی وہ اوپر آتے ہیں، تو دربان ایک زبردست لات مار کر انہیں پھر نیچے گرا دیتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے میں نے ایک کھائی دیکھی جس میں کافی سارے جہنمی آپس میں مشت و گریبان تھے لیکن ان کو باہر نکلنے سے روکنے کے لئے کوئی دربان موجود نہیں تھا۔ میں نے فرشتے سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو فرشتے نے جواب دیا کہ یہاں دربان کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے حیرانگی سے فوراً پوچھا کہ وہ کیوں؟ تو اس نے نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا کہ یہ پاکستانی قوم ہے۔ یہاں کوئی ایک نکلنا چاہے تو دوسرا اس ک ٹانگ کھینچ کر واپس گرادیتا ہے۔ لہٰذا یہاں کسی دربان کی ضرورت نہیں۔‘‘
الزامات لگانا، لوگوں کی ٹانگ کھینچنا اوراس ’’کارخیر‘‘ میں مردوں تک کو نہ بخشنا، ہماری قوم کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ہم جسے بھی دیکھتے ہیں کہ یہ تھوڑی سی محنت کرکے آگے بڑھ گیا ہے اور پانچ، چھ بندوں میں عزت سے پکارا جانے لگاہے، تو ہم اپنی کم علمی، کج فہمی، کند ذہنی، تنگ نظری اور تاریک قلبی کے ہتھیاروں سے فوری طور پر اس قومی ’’فتنے‘‘ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اپنے چاہنے والوں سے بھی یہ آرزو رکھتے ہیں کہ اس ’’پیغام‘‘ کو آگے تک پہنچائیں۔ اس سلسلے میں ہم روایتی کھیل (لوگوں کے جذبات سے کھیلنا) کو بروئے کار لاتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اگر پکے مسلمان ہو، تو اس کو اتنا پھیلادو کہ ’’طاغوت‘‘ کے ایوانوں میں زلزلے آجائیں۔‘‘ ،’’اگر سچے پاکستانی ہو، تو اسے اتنا عام کردو کہ یہ ’’وطن دشمن‘‘کسی کو منھ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔‘‘ پھر اس سلسلے میں علاقے، قوم، زبان اور فرقے کے علاوہ سیاسی وابستگی کے نام پربھی لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے۔ کسی کو تحقیق کرنے اور دو چار لفظ پڑھنے کی توفیق نصیب نہیں کہ حقیقت دیکھے کہ اصلیت کیا ہے، حق کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ اس سلسلے میں اگر کسی کو نصیحت بھی کردو، تو کورا سا جواب یہی ملتا ہے کہ ہمارے بزرگ جھوٹ کہتے ہیں کیا؟ کسی کو سمجھانے کی کوشش کرو، تو یہی جواب ملتا ہے: ’’تو آپ کا مطلب یہ ہے کہ یہ سارے بزرگ غلط ہیں اور آپ ٹھیک! انہیں یہ باتیں پلے نہیں پڑتی تھیں اور آپ طرم خان کو سمجھ آگئیں۔۔۔ہا ہاہاہا۔‘‘
کل رات کو اپنے بہت ہی عزیز دوست سے برقی مراسلوں کا تبادلہ ہورہا تھا۔ باتوں باتوں میں اس نے قائد اعظمؒ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہیں کہ سینہ چھلنی ہوگیا۔ ہر بات کہتے ہوئے وہ یہ اضافہ ضرور فرماتا کہ بھائی مجھے تو پتہ نہیں لیکن لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایسا تھا اور وہ ویسا تھا۔ میں نے اسے کافی ساری معلومات فراہم کیں جو قائداعظمؒ کی شریفانہ، مومنانہ اور مجاہدانہ زندگی کو مْسلم بنانے کے لئے کافی ہوسکتی تھیں۔ اگرچہ مجھے اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہ ایک نہایت ہی سچا مسلمان، پکا پاکستانی اور مہذب شہری ہے اور اس نے یہ ساری باتیں صرف معلومات حاصل کرنے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لئے پوچھی تھیں لیکن مجھے دکھ صرف اس بات کا ہے کہ ہمارے خود ساختہ دانشور، دیسی مارکہ لبرلز اورمایوسیاں پھیلانے والے الفاظ کے جادوگر اپنے بیانئے اور اظہارئے کو مقبول بنانے کے لئے اتنے گر گئے ہیں کہ اب کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں۔ ان لوگوں سے قائد اعظمؒ کی ذات گرامی محفوظ نہیں، تو اور بے چارے چھوٹے بڑے راہنما کس شمار قطار میں آتے ہیں، جنہوں نے علامہ اقبال کو ’’گلی کوچے‘‘ کا شاعر، مولانا مودودی ؒ کو گمراہ، سر سید احمد خان کو کافر، باچا خان کو ہندو، ڈاکٹر اسرار احمد کو گستاخ، مولانا الیاسؒ کودشمن جہاد، ضیاء الحق کو امریکی ایجنٹ اور ڈاکٹر قدید کو غدار کہا،جو آئے روز اپنے مغلظات کھلم کھلا بکتے ہوں، ملک کے منتخب وزیر اعظم کو گنجے اور لوہار کے نام سے پکارتے ہوں، ملک کے صدر کو مغموم حسین اور دہی بھلے والاکہتے ہوں، ورلڈ کپ جیتنے اور پہلا کینسر ہسپتال بنانے والے کو یہودی ایجنٹ اور پاگل خان بلاتے ہوں، ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت اور سب سے زیادہ علمائے اسلام کی نمائندگی کرنے والے عالم دین کو ڈیزل کے نام سے نوازتے ہوں، وہ کسی کی موت پر تعریف کریں گے؟ کسی کی خدمات کو یاد کرنے دیں گے؟ یہ آپ نے سوچ کیسے لیا؟ یہ ممکن نہیں اور ویسے بھی یہ لوگ اتنے مایوس پیدا ہوئے ہیں کہ یہ چاند رات کو منھ کھولیں تو اسے شام غریباں ثابت کرادیں۔ یہ ہر بات میں ’’اگر مگر‘‘ کرنے والوں نے ہمیں بحیثیت قوم اتنا الجھا دیا ہے کہ ’’اب رہزنی کا ہے گماں رہبروں کے اوپر جبکہ پال رکھے ہیں سانپ اپنے سروں کے اوپر۔‘‘
ہمارے پشتونوں میں یہ روایت ہے کہ ہم مرے ہوئے لوگوں کی برائی اولاً تو کرتے نہیں اور اگر بامر مجبوری ایسا کرنا بھی پڑے، تو بات کرتے وقت ہمیشہ کہتے ہیں کہ ’’خدائے دے ئے اوبخی‘‘ (اللہ مغفرت فرمائے) لیکن زیادہ تر تذکرہ اچھے الفاظ میں ہوتا ہے۔ مرحوم کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنی کتابِ عمل لے کر اللہ کے حضور پیش ہوگیا ہے، اب اس کے لئے وہاں سرخرو ہونے کی دعا ہی کرنی چاہیے۔ ویسے بھی بندے جب اپنے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ کے ہاں چلے جاتے ہیں، تو وہاں وہ کسی کی تعریف اور مذمت دونوں کا کوئی صلہ نہیں پاسکتے۔ اگر وہ آپ کی مخصوص تربیت کے نتیجے میں وجود پانے والی تعبیر اسلام و تصور پاکستان کے فریم ورک میں فٹ نہیں آتے، تو یہ ہر گز مناسب نہیں کہ عین وفات پر انہیں اس خود ساختہ تعبیر کی ’’روشنی‘‘ میں سابق ’’جرائم‘‘ کی سزا دی جائے، جس سے اسلام کی خدمت ہورہی ہو نہ پاکستان کی اور نہ انسانیت کے لئے کوئی خیر ہی نکل سکتی ہو۔
ڈاکٹر طفیل ہاشمی نے کیا خوب لکھا ہے کہ ’’عین وفات پر جب ہم کسی شخص کی خوبیاں یا خامیاں ذکر کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم بین السطور اپنا ذکر کر رہے ہوتے ہیں کہ اس کے افکار و اعمال مجھے سے کس قدر ہم آہنگ یا مخالف تھے۔‘‘ اپنی رائے کو درست قرار دے کر فیصلہ صادر کرنا عدل سے مطابقت نہیں رکھتا اور گواہی سچی دینی چاہیے، بشرطیکہ اس کا تعلق ’’حسن نسواں‘‘ سے نہ ہو۔
کتاب چہرے کے دوست سید عبدالمتین لکھتے ہیں کہ اسلامی فقہ ایسے قانون سے تو ناآشنا ہے، البتہ استعمار کے ہاں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ کچھ مجرم پہلے پابند سلاسل ہوئے اور بعد میں کوئی قانون بنا (جو قید کے وقت جرم کی سزا کے طور پر موجود نہیں تھا) تو اس قانون کے وجود میں آنے کے بعد ان قیدیوں پر اسے نافذ کیا گیا۔
آئندہ کسی کی موت پر ملامتی، مذمتی اور تنقیدی کالم لکھنے والوں کوہم بھی استعماری ایجنٹ کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اب تو خیر سے آج کل کے دیسی مارکہ لبرلز کے دانش کے آگے ساری اسلامی روایت ہی مجرم کے کٹہرے میں کھڑی ہے۔ اے ملامت کرنے والوں، ملامت اور عتاب میں کچھ تو کمی کر۔ اگر میں نے غلطی سے کوئی نیکی کرڈالی ہو، تو اتنا تو کہہ دے کہ تو نے اچھا کیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
2,372 total views, no views today


