سوات، سوات میں کثیر تعداد میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران کے باوجود کھنڈرات سڑکوں کی حالت ٹھیک نہ ہوسکی، پورے صوبے میں سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سوات میں ہے، تعلیم اور صحت کے مسائل تیرہ ممبران اسمبلی کے باوجود حل طلب ہیں، تفصیلات کے مطابق سوات کے مسائل حل کرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ضلع سوات میں چار ایم این ایز جبکہ نو ایم پی ایز ہیں، ان ایم پی ایز میں صوبائی وزراء اور مشیر وزیراعلیٰ شامل ہیں،
اس کے باوجود لنڈاکے سے لیکر کالام تک، مٹہ سے لیکر مانڈل ڈاگ تک، مینگورہ سے لیکر مرغزار تک اور حاجی بابا سے لیکر سنگر تک سوات کی تمام سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں، کثیر تعداد میں ممبران اسمبلی کے باوجود سوات کی سڑکیں ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، سڑکوں کی طرح سوات کی بجلی کا بھی کوئی پرسان حال نہیں، شہری علاقوں میں بیس سے باؤیس گھنٹے جبکہ دیہاتی علاقوں میں تیس تیس گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، پورے صوبے میں سب سے زیادہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج سوات میں ہے، جبکہ وزیر اعظم کے مشیر یہاں پر موجود ہونے کے باوجود یہ مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے، صوبائی حکومت کے زیر انتظام صحت اور تعلیم کے مسائل بھی جوں کے توں ہیں، ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے غریب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ مہنگے ڈاکٹروں سے پرائیویٹ ٹائم میں علاج کرانے پر مجبور ہیں، سوات کے عوام کہنے پر مجبور ہیں کہ اتنے بڑی تعداد میں ممبران اسمبلی کی دستیابی کے باوجود یہ مسائل آج حل نہیں ہونگے تو پھر کب حل ہونگے۔
366 total views, no views today


