سانحۂ پشاور میں شدت پسندوں نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا تھا، دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس عمل کی پوری دنیا میں لوگوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ والدین اب بھی جب اپنے ان پھول جیسے بچوں کی تصاویر دیکھتے ہیں، تو آج بھی خون کے آنسو رو تے ہیں۔ قارئین کرام! سانحۂ پشاور کے زخم ابھی تازہ تھے کہ قصور اسکینڈل سامنے آگیا، جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔ قصور واقعہ میرے خیال میں پشاور سانحہ سے بھی بڑا واقعہ ہے، کیونکہ پشاور کے بچے تو شہید ہوئے اور ان کے والدین اپنے بچوں پر فخر کر رہے ہیں، مگر قصور واقعے سے متاثربچوں اور ان کے خاندانوں کو ان ظالموں نے زندہ درگور کردیا۔ کیونکہ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندان علاقے میں منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ سینکڑوں بچوں سے زیادتی ظلم کی انتہا ہے، جس کی مثال معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک انسان ہونے کے ناتے آج مجھے بے حد شرم محسوس ہو رہی ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی اس طرح وحشی درندے ہمارے ملک میں رہتے ہیں جو پھول جیسے بچوں کو اپنے حوس کا نشانہ بنانے کے بعد اس کو بلیک میل بھی کیا کر تے ہیں۔ شائد ایسے ہی کسی واقعہ کے بعد شاعر نے کہا ہوگا کہ میں تو شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہوکر ان ظالموں کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے، تاکہ آئندہ کوئی بھی مستقبل کے معماروں کے ساتھ ایسا کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لیا کرے۔ یہ معاملہ صرف قصور تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ہر صوبے اور ہر ضلع میں بچو ں کو حوس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن قصور واقعے کے بعد اب حکمرانوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور امیدہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے تاکہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ختم ہوں۔ میڈ یا رپورٹس کے مطابق سال دوہزار تیرہ میں بچوں کے اغوا کے ایک ہزار سات سو چھ کیس جبکہ دوہزار چودہ میں ایک ہزار آٹھ سواکتیس کیس سامنے آئے ہیں۔ اس طرح ایک اندازے کے مطابق اوسطاً روزانہ کی بنیاد پر پانچ بچے اغوا کئے جاتے ہیں۔ سال دوہزار چودہ میں تقریباً ایک سو بیالیس بچوں کو زیادتی کے بعد ہلاک کیا گیا۔اس طرح سال دوہزار چودہ میں کم عمر بچوں کی شادی کی ایک سو تین کیس سامنے آئے۔اس کے علاوہ دو ہزار ایک سوچودہ بچیوں اور ایک ہزار تین سو سڑسٹھ بچو ں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ سال دوہزار چودہ میں تین ہزار پانچ سو آٹھ بچوں کے زیادتی کے کیس منظر عام پر آئے۔ زیادہ تر زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے اور بچیوں کی عمر گیارہ سے پندرہ سال تک بتائی گئی ہے جو انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی بات ہے، مگر افسوس اس بات کی ہے کہ ہمارے ملک میں پھر بھی اس ناروا عمل کے لیے سزا اور قانون یکسر اتنے سخت نہیں جتنے ہونے چاہئیں۔ اگر قانون ہے بھی، تو ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔ قانون صرف غریب کے لیے ہے۔ امیر اور وڈھیرے اور بڑے بڑے سیاستدان پاکستان میں قانون سے مستثنا ہیں۔ غریب اگر معمولی غلطی بھی کرے، تو اسے سولی پر چھڑایا جاتا ہے، مگر اثر و رسوخ والے کوپولیس کی طرف سے فری ہینڈ دیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں پولیس نظام پر پاکستانی عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ اس اعتماد کی عدم بحالی قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے۔ قصور میں کئی سالوں سے یہ کھیل جاری تھا جس پر پولیس بھی خاموش تھی، جب یہ خبریں میڈیا میں آنا شروع ہوئیں، تو اس پر جوڈیشل انکوائری بھی بنائی گئی، پولیس افسران کو معطل بھی کیا گیا، انسپکٹر جنرل آف پولیس جب علاقے میں تشریف لائے، تو ان کو شرم کا سامنا کرنا پڑا اور ایک مشتعل فرد نے ان پر جوتا بھی پھینکا۔ اگر پولیس کا یہ رول رہا، تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ۔ اگر حکمران اس ملک میں امن کے قیام اور فوری انصاف کی فراہمی میں سنجیدہ ہیں، تو پولیس فورسز میں اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدمات کیے جائیں اور ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں بچوں کے تحفظ کے لیے بھی ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جن سے انھیں حقیقی تحفظ دیا جاسکے۔ کیوں کہ ہمارے بچے ہماری قوم کا مستقبل ہیں
2,992 total views, no views today


