پشتو میں لان گراس لان گراس کو ’’کبل‘‘ کہتے ہیں۔ اس مخصوص گھاس کا اردو نام مجھے نہیں آتا۔ پشتو میں ایک فقرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لان گراس کی اُوپری کٹائی جتنی کروگے، اس کی جڑیں اُتنی ہی پھیلتی اور مضبوط ہوتی جائیں گی۔ پشتو ہی کا ایک دعائیہ فقرہ ہے: ’’زیلے دِ دَ کبل شہ‘‘ یعنی خدا تمہاری جڑوں لان گراس کی طرح وسیع اور مضبوط فرمائے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف تمام کارروائیاں بالکل اسی طرح ہیں جس طرح ایک مالی چمن کے لان گراس پر مشین چلا کر اس کے پتے توڑتا ہے۔ جڑیں نہ صرف بحال رہتی ہیں بلکہ مزید مضبوط اور وسیع تر ہوجاتی ہیں۔ ہمارے ماہرین، بعض سیاست کار، بعض سرکاری عمال اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ ٹہنیاں اور پتے توڑنے سے کام نہیں چلے گا۔ کئی سالوں کے نتیجہ سے یہ کام ہو بھی رہا ہے۔ اچھی حکمرانی کیلئے مخلص committed مضبوط و مستحکم دیانت دار اور عادل حکومت کی ضرورت ہوتی ہے جو غیر معینہ مدت کے لیے قائم ہو۔ دورِ جدید کی چھوٹی جمہوریتوں میں یہ باتیں ممکن نہیں ہوتیں، حکمران ٹولہ اگلے انتخابات میں ووٹوں کے حصول کے لیے کئی ایک خبائث پر چشم پوشیاں کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ بسا اوقات مخالف قوتیں وطن دشمنی کی حد تک مخالفت پر اُتر آتی ہیں۔ ہمارے یہاں مذہبی جماعتوں سمیت کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نظر نہیں آتی جو مستحکم ہو اور پانچ سالہ عرصہ میں بنیادی اور دور رس اقدامات کرسکے۔ مارشل لاء حکومت کچھ نہ کچھ کرسکتی ہے لیکن اُس سے خود فوج کا ادارہ بہت کمزور ہوجاتا ہے۔ قرآن و حدیث اور بعد کے صالحین کا وضع کردہ نظام عمدہ ترین ہے، لیکن ایک بہت ہی مضبوط طبقہ خود اُسے رکوع وسجود تک محدود کر گیا ہے اور اس کی محدود تعریف پر ڈٹا ہوا ہے۔ اسی محدود تعریف کے تحت چار صدیوں سے زیادہ ترک سلطنت پر علمائے مذہب مضبوط اور فیصلہ ساز اقتدار میں رہے لیکن دین کی روشنی کتنی پھیلائی یہ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کا راستہ ایک جاگیر دار وڈیرے کے ذریعے سوشلزم ہی کے نام پر کامیابی کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب وطن عزیز میں سچا اسلامی نظام حکومت، اسلام کے نام کو استعمال کرکے کامیابی کے ساتھ روکا جارہا ہے۔ ہمیں چند رسومات، رکوع و سجود اور اپنے اغراض اور اپنی ذات کے فوائد کے حصول کو اسلام بتایا جارہا ہے۔ مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے اچھے پہلوؤں کو ہمارے یہاں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس وقت پورا ملک، اس کے ادارے اور اس کے عوام مارکیٹ اور تاجروں کے خونی پنجوں میں سسک رہے ہیں۔ یہ لوگ اتنے طاقت ور ہوگئے ہیں کہ ملک میں صرف انہی کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ حکومت ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئی ہے۔ یہی طبقہ پورے ملک حتیٰ کہ اس کے دفاعی اداروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ دوسری خطرناک اور غیر ضروری اشیاء کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود یہی طبقہ ملک میں اسمگل کرواتا ہے۔ یہی طبقہ اس کو وطن عزیز کے کونے کونے میں اپنے منافع کے لیے پہنچاتا ہے۔ یہی طبقہ مقتدر لوگوں کی مدد کرکے اپنے مفادات کو محفوظ بناتا ہے۔ چاہے ملک و قوم کا بیڑہ غرق ہو (خاکم بدہن) یہی طبقہ ہر وہ کام تجارت اور کاروبار کے نام پر کرتا ہے جس سے اس کے خزانے بھرتے ہوں۔ اچانک دولت مند ہونے والوں میں خفیہ کاروبار کرنے والے بھی شامل ہیں۔ اس وقت ہم نا امیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ ان ٹامک ٹوئیوں میں ہم اپنی افواج کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ فوج کو مضبوط اور محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے اس کا موجودہ استعمال جو وقت کی ضرورت ہے، غیر معینہ مدت تک کے لیے کرنا نہایت ہی نقصان دہ ہوگا۔ ذہین دشمن اس طریقے سے افواج پاکستان کو مختلف زاویوں سے کمزور کروا رہا ہے جو فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ ہمارے خیال میں فوج کو نہایت ہی مضبوط اور محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ فوج اور رینجرز کی خدمات کو سرحدات کی حفاطت اور بیرونی مسلح جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے محفوظ رکھنا ضروری ہے (اگر چہ یہ ایک جملۂ معترضہ ہوگا) لیکن پولیس کے اوپر اور فوج کے نیچے اعلیٰ صلاحیتوں (فکری اور مسلح وار کرنے والی استعداد) کی حامل ایک نئی مکمل سویلین مسلح فورس قائم کی جائے جس کا نام ’’نیشنل گارڈ‘‘ ہو۔ یہی فورس ایک سے زیادہ اُن میدانوں میں کام کرنے کی مختار ہو جن سے قوم کی جسمانی، فکری، نظریاتی یا تربیتی نقصانات ہورہے ہوں۔ اس کو اس انداز سے تربیت دیا جائے کہ کل یہ مسلح افواج کے مقابلے پر نہ آئے بلکہ اس کی کمانڈ اور کنٹرول فوج اور پولیس کے ایک مشترکہ مجلس کے ہاتھ میں ہو۔ اور آج وہی این سی سی کے تربیت یافتہ، فوج اور پولیس کے مقابل ہیں۔ مشہور عالم دین اسلام مولانا غلام جیلانی برق نے اپنی کتاب ’’میری آخری کتاب‘‘ کے صفحہ نمبر 73 پر ریڈرز ڈائجسٹ کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ روسی انقلاب کو ’’کامیاب‘‘ کرنے کے لیے کئی کروڑ لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔ خدا پاکستان کے حالات اُس درجے پر نہ پہنچائے کہ کروڑوں لاکھوں انسان قتل ہوں، لیکن یہاں کمزور، نالائق اور کرپٹ انتظامیہ، مارکیٹ، ملا اور میڈیا حالات کو مسلسل بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ مذہب کو ذات کے فوائد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کی تبلیغ برائے اجتماعی مفاد، قومی مفاد، اُمت کے مفاد پر خاموشی ہے۔ میڈیا مکمل توجہ کے ساتھ عوام اور خواص کی گمراہی پر لگا ہوا ہے۔ اور مارکیٹ کا تو مقصد ہی تاجر مفادات تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ خواہ ملک و قوم تباہ ہی کیوں نہ ہوں۔ خدا نخواستہ اگر خود غرضیوں اور بے ایمانیوں کے اس سلسلے کو ختم نہ کیا گیا، تو شاید عوام کے غیض و غضب سے یہ غاصب طبقات اور اُن کے بچے نہ بچ سکیں۔ سنبھل جاؤ، بھئی سنبھل جاؤ! قہر خدا آنے سے قبل۔ توبہ کرو اور صراط مستقیم اختیار کرو۔ خدا کے عظیم کلام اور نبی کریمؐ کی مکمل ہدایات کو اپناؤ۔ ورنہ فطرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ آج سب کچھ کی موجودگی میں ننگے، بھوکے، غیر محفوظ اور امراض کے شکار خدا کا قہر نہیں تو اور کیا ہیں۔ *۔۔۔*۔۔۔*
1,042 total views, no views today


