کیاسپریم کورٹ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھے گی یامعطل قراردے گی؟ کیا الیکشن کمیشن کا عملہ مستعفی ہوگا جو کہ کپتان کا مطالبہ ہے یا معاملات جوں کے توں رہیں گے؟ کیا عمران خان کے اعلان کے بعد ایک اور دھرنے کے سائے منڈلانے لگے ہیں؟ کیا شہراقتداراسلام آباد ایک بار پھر میدان جنگ بننے والا ہے؟ کیا واقعی عمران خان اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر دھرنا دے پائیں گے یا اپنے اعلان اور بیانات سے روگردانی کی روایات کو زندہ رکھنے کے مرتکب ہوں گے؟ جیساکہ ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اٹھتے یہ وہ اہم سوال ہیں جو انتخاب معطل اور حلقے میں دوبارہ پولنگ کرانے کے حکم پر مبنی الیکشن ٹریبونل کا نادراکی فرانزک رپورٹ کی روشنی میں بائیس اگست کوقومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو بائیس لاہور سے متعلق مبینہ سوصفحات پرمشتمل غیرمعمولی اہمیت کاحامل فیصلہ آنے کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں زیربحث بنے ہوئے ہیں۔ ا گرچہ اسپیکر ایازصادق نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے، فیصلہ آنے کے بعد ان کاکہنایہ تھاکہ نون لیگ کی روایات کے مطابق فیصلے کااحترام کرتے ہیں مگر اس پر کچھ تحفظات ضرورہیں۔ اس لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے جوکہ ان کاقانونی حق ہے جبکہ ان کے وکیل کابھی کہنایہ تھاکہ الیکشن ٹریبونل نے بدانتظامی کے تحت الیکشن مشینری کو ذمہ دار ضرور ٹھہرایا ہے مگرفیصلے میں انتخابی دھاندلی کا کہیں بھی کوئی ذکرنہیں۔ مذکورہ فیصلے پر وزیراعظم نوازشریف نے بھی اسی طرح کا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ قانونی عمل کا حصہ ہے اورتمام سیاسی جماعتوں کو فیصلے کا احترام کرنا چاہئے۔ وزیراعظم کے مطابق معاملے کاجائزہ لے کر سپریم کورٹ میں جانے کافیصلہ کریں گے۔ دوسری جانب نو گھنٹے کی طویل تاخیر اور صبرآزماانتظارکے بعدالیکشن ٹریبونل کا فیصلہ آنے اوراس کی روشنی میں اسپیکر ایازصادق کی وکٹ گرنے کے بعد تحریک انصاف کے ٹائیگرز نے لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں خوب جشن منایا۔انہوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کیں ۔مذکورہ فیصلہ آنے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں پارٹی ورکرز سے خطاب میں اگرچہ بچپن کے ساتھی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایاز صادق او ر ان کے گھروالے جس تکلیف سے گزر رہے ہیں، انہیں اس کا احساس ہے اور ایاز صادق کے ساتھ ان کی ذاتی کوئی دشمنی بھی نہیں لیکن عام انتخابات کے بعد انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے وہ صرف چار حلقے کھولنے کا جو مطالبہ کر رہے تھے اور جس کے لئے ان کی جماعت نے اسلام آباد میں ایک سو چھبیس دن کا دھرنا دیا تھا،آج اسپیکر کی وکٹ گرنے کے بعد ان کا وہ مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔ عمران خان کاکہنایہ تھاکہ الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ آنے کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ انہوں نے دھرنادے کرقوم کاوقت ضائع کیاہے بلکہ قوم کاوقت انہوں نے نہیں نواز شریف نے ضائع کیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) سردار رضا خان کو کلین چٹ دیتے ہوئے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرزکے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیااور کھلی دھمکی دی کہ اگر الیکشن کمیشن کاعملہ مستعفی نہ ہوا اور دوہفتوں میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خط کا جواب نہیں دیا، تو ایک بار پھر دھرنا دیں گے اور اس بار ایسا دھرنا دیں گے کہ لوگ ایک سو چھبیس دنوں کے دھرنے کو بھول جائیں گے۔ عمران خان نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی سے دھرنے کی تیاری کریں۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کے حلقے کے بعد اسپیکرایازصادق کے انتخابی حلقہ سے متعلق الیکشن ٹریبونل کاآنے والا فیصلہ نہ صرف تحریک انصاف کے لئے خوشی کا باعث ہے بلکہ ملک کی انتخابی تاریخ میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل بھی ہے اور اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے، تویہ کہا جاسکتاہے کہ آنے والے وقتوں میں وطن عزیز کے اندر انتخابی عمل درست سمت گامزن ہوگا جس سے جمہوریت مستحکم ہوگی۔ گوکہ الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ سے تحریک انصاف کے اس مؤقف کو تقویت ضرور ملی ہے جس کی بنیادپر اس نے شہرِاقتدارمیں ایک سو چھبیس دن تک دھرنا دیا تھا جبکہ دھرنے کے اختتام سے لے کر مذکورہ فیصلہ آنے تک پی ٹی آئی کے اندرونی صفوں پر خاموشی سی چھاگئی تھی، سو اس پر پی ٹی آئی کی جانب سے غیرمعمولی جشن منانا جواز ضرور رکھتا ہے اور اب انہیں جاندار سیاسی سرگرمیوں کا ایک بہتر موقع ہاتھ لگاہے۔ جبکہ قطع نظراس کے کہ سپریم کورٹ میں اگر الیکشن ٹریبونل کایہ فیصلہ چیلنج کیا جاتا ہے، توفیصلہ کیاسامنے آئے گا مگر وجود رکھتے ان حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر واقعی انتخابی دھاندلی سے متعلق پی ٹی آئی کامؤقف درست تھا، تو انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف کیوں آیاتھا؟ کیوں جوڈیشل کمیشن نے پی ٹی آئی کے مؤقف کو درست تسلیم نہیں کیا، اوریہ بھی کہ تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کو انتخابی دھاندلی سے متعلق وہ تمام ثبوت فراہم کرنے میں ناکام کیوں رہی تھی، جن کا وہ تسلسل کے ساتھ دعویٰ کرتی آ رہی تھی۔ اگر تحریک انصاف کادعویٰ ہے کہ وہ انتخابی دھاندلی سے متعلق اپنے مؤقف کے لحاظ سے عوام میں مقبول ہے، تو دھرنے کے بعد ضمنی انتخابات میں پے در پے شکستوں سے دوچار کیوں ہوتی رہی جبکہ بتایا جاتا ہے کہ دھرنے سے لے کراب تک پی ٹی آئی قومی اور صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں پر شکست کھاچکی ہے جن میں این اے اُنیس ہری پورکاضمنی انتخاب قابل ذکر ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے پیش نظراٹھتے یہ سوال اہم ہیں کہ الیکشن ٹریبونل کامذکورہ فیصلہ آنے کے بعد کیا تحریک انصاف کی جانب سے دوبارہ دھرنا دینا چاہیے؟ کیا ملک و قوم ایک اور دھرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ کیا تحریک انصاف کو ممکنہ دھرنے پر توجہ دینی چاہئے جس کاعمران خان اعلان کرچکے ہیں یا توجہ دینی چاہئے اپنی تنظیم سازی اور عوامی قوت بڑھانے پرجس سے متعلق جسٹس (ر) وجیہ الدین اور دیگرلوگوں کی جانب سے انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ کیا بطوراحتجاج دھرنا دینا ضروری ہے یا شہرشہر جلسوں کے ذریعے اپنا فیصلہ عوامی عدالت میں لے جانا اہم ہے؟ کیا وزیراعظم کے استعفے کی طرح پھر استعفوں کامطالبہ لے کر احتجاج ضروری ہے یا ضروری ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا کی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دیں؟ جبکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی اور ناکامی کا زیادہ تر انحصار خیبر پختونخوا میں اس کی موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ہوگا۔
818 total views, no views today


