شائد بہت سے لوگ اُنہیں نہ جانتے ہوں، اگر ایک رنگیلی سی بائیک پر آپ کو ٹڈے کی طرح گھٹنا نکالے اور کہنی کو ایکسلریٹر کی جانب آڑھا ترچھا کئے ہوئے کوئی بانکا نظر آئے، تو سمجھ لیجئے یہی ’’ٹامی صاحب‘‘ ہیں۔ ان کی دوسری اہم خصوصیت کلائی میں بندھی رنگین ڈوریاں بھی ہوتی ہیں یا بائیں ہاتھ کی آخری اُنگلی میں بڑھا ہوا ناخن اور گلے میں زنجیریں۔ ان میں سے بہت سے احساس کمتری کے مارے آپ کی سماعت میں انگریزی نما پشتو اُنڈیلتے نظر آئیں گے۔ اس عجیب سی مخلوق کا کوئی بھی کَل سیدھا دکھائی نہیں دیتا۔ آج شیو بڑھی ہوتی ہے، کل اچانک غائب۔ آج زلفیں لمبی لمبی اور مونچھیں ٹھوڑی کو چھو رہی ہیں اور لیجئے چند روز میں سر اور چہرے کا صحن اس جھاڑ جھنکاڑ سے ایسے صاف جیسے انڈے کا چھلکا، مگر نچلے ہونٹ کے نیچے بکری کی مینگنی جتنی داڑھی نما بالوں کا دھبہ۔۔۔ ہنوز بر قرار۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس بار بار کے روپ بہروپ بدلنے میں اُن کو کیا ملتا ہے؟ کبھی پوری داڑھی کبھی ٹھوڑی پر بالوں کا گھچا۔ ماہر نفسیات کے بہ قول ’’آج کے اکثر نوجوان متلون مزاجی کے شکار ہیں۔ اپنی اندرونی حالت کا اظہار وہ خارج میں نہ رُکنے والی ظاہری تبدیلیوں سے کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ ایک ہی اسکرین پر ساری دنیا کی طرز معاشرت کے جلوے بار بار دیکھنے سے اور مختلف معاشروں کی جھلک نے اُسے ایک ایسا مسخرہ بنادیا ہے جو ایک وقت میں ایشیائی اور یورپی چکنی کا مرکب نظر آتا ہے۔ یہ ٹامی اپنی وضع قطع کے اعتبار سے کچھ تیسری جنس کی صورت لئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سر سے پیر تک ایک عجوبہ۔ تنگ شلوار اور تنگ آستینوں والی قمیص۔ وہ بھی رنگدار۔ ظفر صاحب نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا: ’’کانجو چوک میں بائیک کے مستری کی دکان پر کافی رش تھا۔ میں بھی اپنی موٹر سائیکل کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ ایک مخنث ٹائپ کا لڑکا بڑی بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ بار بار مستری کے پاس آتا اور کام جلدی ختم کرنے کو کہتا۔۔۔ آخر دل برداشتہ ہوکر اور صبر کا دامن چھوڑتے ہوئے فریادی لہجے میں بولا کہ دیکھو بھئی، میری شلوار اپنی تنگ دامنی کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ میں یہیں کہیں نالی کے کنارے پیشاب کرلوں۔۔۔ مجھے لازماً گھر جانا پڑے گا۔ اس لیے میری بائیک جلدی ٹھیک کردیجئے۔‘‘ قارئین کرام! ان ٹامی حضرات کو اکثر اپنی متلون مزاجی اور نت نئے فیشنوں کے ہاتھوں خوار ہونا پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں اس قبیل کا ایک جوان وضو کرنے آیا۔ اُس کے سر پر بالوں کا ایک عجیب ڈیزائن تھا، ایسے لگ رہا تھا جیسے گھاس کاٹنے کی مشین چمن کے بیچ میں گھاس کترتے کاٹتے نکل گئی ہو اور ننگی زمین کی ایک پٹی سی بن گئی ہو۔ ایسی ہی کئی پٹیاں موصوف کے سر میں بنی ہوئی تھیں۔ بے چارے جب وضو کرنے کے لیے آستین رول کرنے لگے، تو اپنی تنگی کی وجہ سے آستین نے نصف کلائی سے اوپر جانے سے انکار کردیا۔کئی وضو داروں کی نگاہیں اُس کی کھیسانی مسکراہٹ اور ہیئت کذائی کا طواف کررہی تھیں۔ بے چارہ کافی دیر تک اپنی تنگ آستین سے نبرد آزما رہا۔ ایسا کرتے ہوئے اُس کی پیشانی پسینے کے قطروں سے چمکنے لگی۔ آخر بڑی تگ و دو کے بعد کسی حد تک بازو وضو کے پانی سے سیرابی کے لیے تیار ہوا۔ آج کل موٹر سائیکل کے جتنے حادثے ہو رہے ہیں، ان میں اکثریت انہی ٹیڑھی کلائیوں اور خمیدہ گھٹنوں والے ٹامی بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اکثر ٹامیز کے والدین باہر کے ملکوں سے بے تحاشا پیسہ بھیجتے ہیں۔ ماں بے چاری کی تو یہ مانتے نہیں۔ خاص کر غیر تہذیب یافتہ، گنوار اور پہاڑی لوگوں کی جیبوں میں جب پیسہ آتا ہے اور ساتھ میں نئی جوانی کا تڑکا بھی لگا ہو، تو پھر تو انہوں نے ہوا میں اُڑنا ہی ہے۔ صنف نازک کو دیکھ کر ان کے ہاتھ میکانکی انداز میں اپنی زلفوں کو سنوارنے کے لیے مائل بہ سر ہوجاتے ہیں۔ گولڈ لیف کا مہنگا ڈبہ اکثر ہاتھ میں لئے اور گلیکسی موبائل کے تازہ ورژن کے ساتھ آپ انہیں کالج کینٹین یا گاڑی، بائیک، مارکیٹوں کے آگے یا ہر ایسی جگہ دیکھ سکتے ہیں جہاں صنف نازک کی بھیڑ ہو۔ کچھ ایسے ٹامی جن کا تعلق غریب گھرانے سے ہو اور مانگے تانگے یا کباڑ کے اُترن میں ملبوس ہوں۔ گولڈ لیف کے مہنگے پیک میں پریس یا دیگر ناقص سگریٹ گھسیڑے اس دوڑ میں شامل ہونے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں میں بھی Galaxyکا کوئی بھی ورژن ہوتا ہے، مگر چائنہ ساختہ جو تین چار ہزار میں آسانی سے مل جاتا ہے، مگر اُن کے انداز اور لچھن ایسے ہوں گے جیسے Original ہینڈسیٹ پکڑے ہوئے ہوں۔ نوکدار بوٹ لگائے ہوئے۔ کان میں بلیو ٹوتھ لگائے چنگم چباتے ہوئے ایسے لگتا ہے جیسے شاہ رُخ کا باپ ہو۔ سمجھ نہیں آتی یہ جیلی زدہ زلفوں اور بڑے بڑے چشموں والے اُلو نما ٹامی ہمارے مستقبل کی بہتری میں کہاں فٹ بیٹھتے ہیں؟ نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ اور بس۔
857 total views, no views today


