سولہ اگست 2015ء کو میڈیا کے تمام ذرائع نے یہ افسوس ناک خبر وسیع پیمانے پر نشر کی کہ اٹک ضلع کے موضع شادی خان میں پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ اپنے ڈیرے میں خودکش حملے کا شکار ہوگئے۔ بیس کے قریب دوسرے افراد بھی شہید ہوگئے۔ حسب روایت سرکاری حکام اور سیاسی ’’قائدین‘‘ نے مگر مچھ کے آنسو بہائے۔ چند بڑوں نے مؤثر اقدامات کے گھسے پھٹے معمول کے فقرے بھی نشر کروائے۔ موت کسی کی بھی ہو وہ افسوسناک ہوتی ہے۔ خاص کر وہ موت جو بلا قصور دوسروں کے ہاتھوں واقع ہوجائے۔ مسلمانوں کی حالت زار پر جتنا سوچیں گے، اُتنا خلجان میں مبتلا ہونگے۔ دہشت گردی کے ذریعے عوام و خواص کی ہلاکتیں، املاک کے نقصانات اور ملک کی بدنامی اپنی جگہ نا قابل تردید کڑوے حقائق ہیں۔ اس کے لیے ہم دشمن ممالک کو قصور وار ٹھہراتے ہیں، بین الاقوامی تجارت اور مفادات کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن سوچنے کی بات یہ حقیقت ہے کہ ڈرائیورز حضرات، محکمہ ہائے شاہرات و بلدیات، محکمہ پولیس کی بلا واسطہ یا بالواسطہ غیر ذمہ داریوں سے کتنے بے گناہ عوام روزانہ ٹریفک حادثات میں معذوریوں اور موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کبھی کسی وزیر، وزیراعلیٰ، وزیر اعظم، گورنر یا صدر نے اس کی روک تھام کے لیے پالیسی بنانے اور اُس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے احکامات دئیے ہیں، یہ ہمیں یاد نہیں۔ کتنے ہزار عوام ہماری بے ایمان مارکیٹ کی جعلی ادویات، جعلی اور ناقص خوراکی اشیاء، ملاوٹوں اور دوسری بے ایمانیوں سے ہر سال موت کا لقمہ بن جاتے ہیں، کتنے ہزار افراد بے ایمان سرکاری ملازمین کے مجرمانہ طریقہ کار کی وجہ سالانہ ہلاک ہوتے ہیں۔ اس عظیم انسانی ضیاع پر ہم نے کسی صوبائی اسمبلی میں اور نہ قومی اسمبلی میں عوام کے ووٹوں اور نوٹوں پر پلنے والے پہلوانوں کو ہی سرجوڑ کر سوچتے سنا۔ کسی کو یہ احساس ہی نہیں کہ عام لوگ کیوں ’’اتنی تعداد‘‘ میں قتل ہورہے ہیں؟ شجا صاحب ایک خاص آدمی تھے۔ اس لیے سیاسی اور غیر سیاسی افراد ادارے اور میڈیا ٹسوے بہا رہے ہیں۔ کبھی کسی عام بے گناہ مقتول کا بھی کوئی نام لیتا ہے؟ ہمیں یاد ہے کہ سقوط ڈھاکہ پر جب مغربی پاکستان پر ایک نہایت ہی ذہین، خود سر دلیر اور عوام و خواص کو بے وقوف بنانے کی قابلیت رکھنے والے وڈیرے کی جعلی حکومت قابض ہوگئی (جعلی اس طرح کہ انتخابات پورے پاکستان کے لیے ہوئے تھے، آدھے کے لیے نہیں اور بنگلہ دیش میں شیخ مجیب نے سب سے پہلے اپنا آئینی جواز درست کرلیا تھا جبکہ ہمارے یہاں کے خود سر وڈیرے نے ایسا نہیں کیا تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی محترم خان عبدالولی خان اور چند ایک اور حضرات نے 1973ء کے آئین پر حلف نہیں اٹھایا تھا (غالباً)۔ کیوں کہ اُس اسمبلی کی اپنی بنیاد مشکوک تھی جس نے یہ آئین منظور کیا تھا)۔ اگر میرے اس فقرے میں غلطی ہو، تو میری رہنمائی کی جائے۔ اُس وڈیرے نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام میں اپنی شہرت کے لیے وسیع پیمانے پر مختلف طبقات کو یونین سازی اور ہڑتالوں، گھیراؤ، جلاؤ اور توڑ پھوڑ کے عملی طریقے اپنے سرفروشوں کے ذریعے ملک گیر سطح پر متعارف کروائے۔ اُس سے قبل ڈرائیور اگر کسی کی موت کا سبب بنتا، تو اُسے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا تھا اور پولیس اُسے باقاعدہ قاتل کی حیثیت سے TREATکرتی۔ ہمیں یاد ہے کہ حضرتِ وڈیرے کی شہ اور حمایت کے ساتھ ڈرائیوروں کی ملک گیر ہڑتال نے حکومتِ وقت کو مجبور کردیا کہ اُس نے ڈرائیور سے ’’قاتل‘‘ کا الزام مبینہ طور پر ختم کیا۔ وہ دن اور آج کا دن کہ وطن عزیز میں عوام کا سب سے بڑا قاتل ڈرائیور طبقہ ہے۔ اس طرح اُس وڈیرے بادشاہ نے زندگی کے ہر شعبے (مسلح افواج کو چھوڑ کر) میں یونین سازی متعارف کروائی اور اس کے ذریعے ایوب حکومت اور یحییٰ حکومت کو خوب ناکوں چنے چبوائے۔ اس سے آج تک وطن عزیز اور قوم کے مفادات کو عظیم نقصانات پہنچائے جا رہے ہیں۔ اسی یونین سازی کے ذریعے حکومت کے خلاف پریشر گروپ بنتے ہیں اور حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات کو ناکام بنوایا جاتا ہے۔ شجاع خانزادہ کی موت کو دیکھئے۔ بہ قول پولیس کے دو خودکش افراد نے حملہ کیا دھماکہ؍ دھماکے اتنے طاقت ور تھے کہ بہت بڑی پختہ چھت لوگوں پر گرائی گئی۔ ملک کے طول و عرض میں یہ مواد کس نے کس کی مدد سے پہنچایا؟ ہمارے صوبے میں زیادہ تر جعلی، نمبر دو، ’’تین نمبر‘‘ مصنوعات پنجاب سے آتی ہیں اور پنجاب ہی افغانستان سے آنی والی اسمگلنگ کی اشیاء کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بڑے بڑے کسٹم آفیسرز اور پالیسی ساز زیادہ تر پنجاب کے ہیں۔ اس طرح سرحدات پر تعینات افسران و ادارے عموماً مرکزی سرکار کے ہوتے ہیں۔ فاٹا صدر صاحب کا علاقہ ہے اور گورنرز کے ذریعے مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ وہاں سرکاری عمال کی سرپرستی میں وسیع تر پیمانے پر ہر قسم کی کرپشن روزِ اول سے جاری ہے (روزنامہ آزادی مورخہ سترہ اگست 2015ء)۔ اب جب وطن عزیز کی سرحدات اچھے برے ہر آدمی کے لیے کھلی ہوں، وہاں سے ہر چیز آسانی کے ساتھ ملک کے اندر آسکتی ہو، جب ان حقائق پر اسلام آباد مجرمانہ چشم پوشی کا عشروں سے ارتکاب کررہا ہو، جب لاہور نے صوبہ پنجاب کو ہر قسم کی اسمگلنگ کے لیے ایک بڑی مارکیٹ بن جانے کی اجازت دی ہو، جب اسلام آباد سے تنخواہ لینے والے حکام اور عمال نے اسمگلروں کی سرپرستی اور رہنمائی کو اپنی پیشہ ورانہ فرائض پر فوقیت دے رکھی ہو، تو یہی تو ہوگا۔ وطن عزیز میں خطرناک مواد کی درآمد جاری ہوگی۔ عوام اور خواص مریں گے اور تو اور مسلح افواج اور عوام کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ صرف اور صرف ’’علاج‘‘ سرکاری محکموں سے کمزور، بے ایمان اور نااہل افراد کا خاتمہ، حکمرانی کی معیار کو بلند تر کروانا، ہر برائی کو خواہ وہ کوئی بھی کرے سخت ترین طریقے سے ختم کروانا، قوم کی تربیت کے ذمہ دار اداروں کو درست اور سائنسی انداز کے ساتھ فعال کرواکر ان سے پوری قوم کی تربیت کا کام جدید سائنسی خطوط پر لینا، جرام کے مرتکب اُن کے مدد گاروں کو سختی کے ساتھ کچل ڈالنا، پورے ملک میں ایک ہی نصاب تعلیم سختی کے ساتھ رائج کروانا، مارکیٹ کی بے پناہ طاقت کو سختی کے ساتھ توڑنا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کامیاب حکمرانی کے لیے معاشرے کے اندر کسی بھی شخص یا طبقے کو بہت زیادہ طاقتور نہیں ہونے دیا جاتا تھا جبکہ ہمارے یہاں ملا، مارکیٹ اور میڈیا کے ادارے غالب اور حکومتی ادارے مغلوب ہوگئے ہیں۔ برائی کے ہر قسم کے راستوں کو سختی کے ساتھ بند کرنا اہم ترین اور اس میں بیرونی ممالک وغیرہ کی چیخ و پکار کو نظر انداز کیا جائے۔ انسانی حقوق کے نام نہاد ڈھندورچیوں کے منھ سختی کے ساتھ بند کئے جائیں۔ (جاری ہے)
752 total views, no views today


