تحریر: شہزاد عالم سوات
جنت نظیر وادی ملم جبہ مسائل کے گرداب میں ،سیاحوں نے ملم جبہ رخ کرنا چھوڑدیا ،سوات کی جنت نظیر وادی ملم جبہ جوکہ مینگورہ سے 48 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑ وں کے سنگم پر واقع ہے اور اسکی آبادی چالیس ہزار ہے لیکن حکومت کی عدم توجہ کے وجہ سے ملم جبہ اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے اور سیاح بھی بیزار ہوکر دیگر علاقوں کا رخ کر رہے ہیں ملم جبکہ جہاں پر مقامی لوگوں سمیت ملک کے دیگر شہروں سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح آکر یہاں کی خوبصورتی اور خوش گوار موسم سے لطف اندوز ہوتے تھے لیکن حکومت کی عدم توجہ کے وجہ سے یہی سیاح اب ملم جبہ نہیں بلکہ دیگر پر فضاء مقامات کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ حکومت صرف اور صرف 48 کلومیٹر روڈ کی تعمیر میں سیم سنز کمپنی کے ساتھ معاہدے کے باوجود ناکام نظر ارہی ہے علاقے کے عوام کا دارومدار کھیتی باڑی کے بعد سیاحت پر ہیں اور ملم جبہ میں جون جولائی کے مہینے میں بھی سیاحوں کو دسمبر کی سرد راتوں کی طرح موسم ملتا ہے اور سرشام جون ،جولائی کے مہینے میں انے والے سیاح کمبل اوڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور دسمبر ،جنوری ،فروری ،مارچ میں تو ہونیو الے برف باری دیکھنے کیلئے پورے ملک کے سیاح ملم جبہ کارخ کر دیتے ہیں لیکن سہولیات کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ روڈ کی عدم تعمیر بھی ملم جبہ کی ترقی میں رکاوٹ ہے ،پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں اور لوگ چشموں سے پانی لاکر ان سے گزارہ کرتے ہیں ،صحت کے سہولیات نہ ہونے کے وجہ سے وہاں کے مکینوں کو مینگورہ شہر کے ہسپتالوں میں لانا پڑتا ہے بی ایچ یو تو موجود ہے لیکن انکو ڈاکٹر نہیں ،تو ادویات کہاں سے اسکتے ہیں ،زچہ بچہ سینٹر موجود نہ ہونے کے وجہ سے حاملہ خواتین کو پہاڑی علاقوں سے چارپائیوں پر لایا جاتا ہے اور زیادہ تر اوقات میں ڈیلوری راستے میں ہوجاتی ہے یا حاملہ خواتین درد برداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو جاتی ہے ،علاقے میں بجلی کا انتظام نہ ہونے کے وجہ سے مقامی لوگوں سمیت انے والے سیاحوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جس وقت لائٹ اجاتی ہے تو وولٹیج کی کمی کے وجہ سے اسکی لائٹ نہایت ہی کم ہوتی ہے ،انے کے سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی ملم جبہ بھی حکومتی نظروں سے اوجھل ہے اور مکین بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں

ملم جبہ کی ترقی کا چار ارب روپے کا منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ ،منیجنگ ڈائریکٹر نے تحظات دور نہ ہونے پر مذید کام روکنے کا عندیہ دیا ،سوات کے عوام میں سخت تشویش کی لہر ،صوبائی حکومت اور سیم سنز کمپنی کی جانب سے ملم جبہ کی ترقی کیلئے ستمبر2014 میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق سیم سنز کمپنی کوملم جبہ میں تیس سالوں کیلئے 2200 کنال اراضی لیز دی گئی اور یہ کمپنی معاہدے کے تحت ستمبر2016 تک ملم جبہ میں ایک فائیو سٹار ہوٹل ،ایک تھری سٹار ہوٹل کی تعمیر چیئر لفٹ لگانے سمیت وہاں پر پکنک سپارٹ اور پارک تعمیر کریگا،جس پر سیم سنز کی جانب سے فوری فور پر کام کا اغاز کردیا گیا اور اس پر کافی حد تک کام مکمل ہوچکا ہے اور چیئر لفٹ بھی ملم جبہ پہنچا دئے گئے جس کی تنصیب بھی شروع ہے اور دسمبر کے اخر تک اسکو مکمل کیا جائیگا اور ستمبر 2016 تک ہوٹلوں کو تعمیر کیا جائیگا ،لیکن حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے منصوبہ ناکام ہورہا ہے اور لیز کے مطابق 2200 کنال میں اب تک کمپنی کو صرف 55 کنال اراضی فراہم کی گئی ہے جبکہ باقی نہیں دی جارہی ہے اس سلسلے میں سیم سنز کے سی ای او سمیع الرحمان نے روز نامہ آج سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ہم معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں لیکن ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ معاہدے کے مطابق ہمیں 2200 کنال اراضی دی جانی ہے لیکن اس میں صرف پی ٹی ڈی سی کا 55 کنال حوالے کیا گیا ہے جو کہ فائیوسٹا ر ہوٹل کے لئے کافی نہیں ہے تو تھری سٹار کہاں تعمیر کرینگے کیونکہ فائیو سٹار ہوٹل 87 جبکہ تھری سٹار ہوٹل میں تین سو کمرے ہونگے انہوں نے کہا کہ پورے منصوبے پر چار ارب روپے خرچ کئے جاینگے لیکن اگر یہ صورتحال رہی تو میں یہاں پر مذید سرمایہ کاری نہیں کرونگا اور یہاں کے بجائے پنجاب یا دیگر صوبوں میں سرمایہ کاری کرونگا وہاں پر تو یہ مشکلات نہیں ہوگی کیونکہ محکمہ فارسٹ والے ہمیں کام کرنے دے رہے ہیں اور ہمارے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں یہاں پر ہم نے بچوں کیلئے پارک بنا رہے تھے کہ محکمہ فارسٹ والوں نے ہم کو کام سے روک دیا اور اس پر ہم نے کام بند کردیا ہے ،نہ تو ہمیں زمین فراہم کی جارہی ہے اور نہ کام کرنے دیا جارہا ہے حکومت کے ساتھ لیز میں منگلور سے کام تک روڈ کی تعمیر شامل ہے لیکن ہمارا کام مکمل ہوتا جارہا ہے اور حکومت نے تاحال معاہدے پر عمل درآمد شروع نہیں کیا اور روڈ پر کام شروع نہیں ہوا اورنہ ہی بجلی فراہم کی گئی ہے اگر یہ صورتحال رہی تو ہم پورا کام بند کرکے یہاں پر سرمایہ کاری نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ یہاں کی ترقی کیلئے ہم نے جو کام شروع کیا ہے اگر یہ مکمل ہوا تو سوات ایشیاء کا ماڈل بن جائیگا اور اس علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا انہوں نے کہا کہ ہم نے سو کروڑ روپے کی لاگت سے یہاں پر چیئر لفٹ پہنچا دئے ہیں اور دسمبر تک اسکی تنصیب کیا جائیگی ، جس میں ایک گھنٹے میں اٹھ سو افراد کو اوپر لے جانے کی صلاحیت ہوگی انہوں نے کہا یہاں کے غریب بچوں کیلئے مفت صحت اور تعلیم کی سہولیات دینے کیلئے یہاں پر جدید طرز پرمفت سکول اور ہسپتال بناونگا جس سے یہاں کے عوام کے مشکلات ختم ہونگے ،انہوں نے کہا کہ ملم جبہ کے جنگل میں ابھی تک دس ہزار پودے لگائے ہیں اور ہمارا ٹارگٹ ایک لاکھ کا ہے جس پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ اسکینگ سلوپ پر لائیٹنگ کرینگے جس سے اسکنگ کے کھلاڑی رات کو بھی کھیل سکیں گے ، اس وقت ہمارے ساتھ 300 مقامی لوگ برسرروزگار ہے اور پراجیکٹ مکمل ہونے پر 800 سے 1000 لوگوں کو روزگار میسر ہوگا جس سے یہاں کے عوام کے روزگار کا مسئلہ بھی حل ہوجائیگا انہوں نے حکومت سے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

حکومت ملم جبہ ترقیاتی پراجیکٹ معاہدے کو عملی جامہ پہنائیں ،تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکیں ،ملم جبہ میں انے والے سیاحوں جن میں شیخوپورہ کے چوہدری اعجاز بھٹی ، شہبازمنظور خان،میاں عمران ،یوسف بھٹی لاڑکانہ کے غلام محمد اونڑ،حیدر آباد کے محمد خان وسان ،محمد عمیر اونڑ ،جلال احمد لغاری اورغلام مصطفی نے اس حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ائی کی حکومت نے ملم جبہ کی ترقی کیلئے پرائیویٹ کمپنی کے تعاون سے جو منصوبہ شروع کیا ہے یہ نہایت ہی قابل تعریف ہے کیونکہ ایشیاء کے سویٹرزلینڈ سوات میں ملم جبہ کا جو حسن ہے وہ قابل تعریف ہے اور یہاں پر ہم ملم جبہ دیکھنے کیلئے سال میں دو تین مرتبہ اتے ہیں لیکن روڈ کی خستہ حالی کے وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب جو معاہدہ ہوا ہے اس سے ملم جبہ نہیں بلکہ سوات ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیگا لہذا حکومت کو چاہیں کہ وہ اس معاہدے پر عمل کریں مقامی لوگوں راحت شاہ ،علی ،سابق امیدوار برائے نظامت عزیز اللہ اور دیگر نے کہا کہ ملم جبہ ترقیاتی منصوبے پر یہاں کے عوام نے اطمینان کا اظہار کیا لیکن اب کمپنی کو مشکلات کے وجہ سے ہم لوگ ایک بار پھر مایوس ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ملم جبہ جو کہ سیاحوں کیلئے جنت ہے اور سیاح یہاں پر آکر ہمارے لئے روزگار کا زرایعہ بنتے ہیں اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو یہاں پر سیاحت کا فروغ مشکل ہوجائیگا لہذاحکومت کمپنی کے ساتھ مل بیٹھ کر یہ مسائل حال کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیم سنز کا محکمہ فارسٹ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور نہ ہی تحریری ہمیں اگاہ کیا گیا ہے ا س سلسلے میں جب محکمہ فارسٹ کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو فارسٹ زرائع کا کہنا تھا کہ سیم سنز کا معاہدہ پی ٹی ڈی سی کے ساتھ ہوا ہے محکمہ فارسٹ کے ساتھ انکا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور جو زمین ہے یہ محکمہ فارسٹ کی ہے ا س وجہ سے ہم انکو کام کرنے نہیں دے سکتے جب تک ہمارے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا اور سرکاری طور پر ہمیں اگاہ نہیں کیا جاتا اورکمپنی کی جانب سے ابھی تک لیز کے جو قانونی تقاضے ہے وہ بھی پورے نہیں کئے گئے ہیں جس کے وجہ سے ابھی تک اس پر عمل درامد نہیں ہوسکا اور نہ ہی حکومت اور محکمے کو سائیڈ پلان فراہم کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیم سنز کمپنی کے سیلز اینڈ مارکیٹنگ منیجر شیرین زادہ بدر نے کہا ہے کہ ملم جبہ ترقیاتی منصوبے کی تکمیل سے ملم جبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیگا اور یہاں پر سیاحوں کا رش امڈ ائیگا گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملم جبہ میں سیاحوں کو تفریح کے تمام تر مواقع میسر ہونگے جن میں سیاحوں کیلئے بہترین اور معیاری رہایش ،طعام ،بچوں کیلئے پارک ،چڑیا گھر سمیت ملم جبہ کے جنگلات میں جانور اور پرندوں کا بھی انتظام کیا جائیگا جبکہ سیم سنز سیاحوں کی تفریح کیلئے تمام تر اقدامات اٹھائیگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرتی حسن سے مالا مال ملم جبہ میں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح اتے ہیں ،رہایش کا انتظام نہ ہونے کے وجہ سے انہیں اسی روز واپس جانا پڑتا ہے ،جنت نظیر وادی سوات کی حسین وادی ملم جبہ میں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح اتے ہیں اور مینگورہ سے صرف 45 کلو میٹر پر واقع ملم جبہ سطح سمندر سے 9800 فٹ کی بلندی پر ہونے کے وجہ سے موسم نہایت ہی سرد ہوتا ہے اور جون ،جولائی اور اگست کے مہینے میں دسمبر کی طرح موسم سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور مقامی لوگ بھی یہاں پر جاکر کچھ وقت ملم جبہ میں گزارتے ہیں اور جمعہ ،ہفتہ ،اتوار تو ملم جبہ میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی ،مقامی لوگوں کا زرایعہ معاش کھیتی باڑی ،اور سیاحت ہے اور سردی میں یہاں کے لوگ پنجاب ،کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں جاکر وہاں پر کوئلے کے کانوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1,467 total views, no views today



