سوات، سڑکوں کی بد حالی اور ہوائی اڈہ کی بندش نے سوات کے معیشت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا، سالوں سے بند ائرپورٹ سے سوات کے عوام مستفید نہ ہوسکے،شعبہ سیاحت کو بحال کرنے کیلئے ہوائی اڈہ کھولناوقت کی ضرورت ہے ،سیاحتی علاقوں کے کھنڈارات سڑکیں کئی بار افتتاح ہونے کے باوجود تعمیر نہ ہوسکے، علاقہ کے معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے مگر حکومتی عدم توجہ کے باعث منافع بخش شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے ،سیاحت کے بحالی کیلئے ہر دور میں دعوے ہوئے مگر ان دعووں کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے کسی بھی حکومت میں عملی کام نہیں ہوا ،ہر سال سیاحتی علاقوں میں کروڑوں روپے خرچ کرکے میلے منعقد کئے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح سوات کے خوبصورتی اور قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوسکے مگر سڑکوں کی خراب حالت اور ہوائی اڈہ کے بندش کیوجہ سے کروڑوں روپے ضائع ہوجاتے ہیں،سیاح ایک بار کھنڈرات جیسے سڑکوں پر سفر کرنے کے بعددوبارہ آنے کو ترجیح نہیں دیتے ،مقامی لوگوں نے سیدوشریف ائر پورٹ کی بندش اور سڑکوں کے عدم تعمیر کو سوات کے عوام کے ساتھ ظلم قرار دیا۔مخدوش حالات کے بعد سوات کے عوام نے حکومتی اداروں سے بڑی امیدیں وابستہ کی تھی مگر تمام امیدیں خواب ثابت ہوئی تباہ حال سوات کے تعمیر نو کیلئے کسی قسم کے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے سوات کے معیشت میں اہم حیثیت رکھنے والا شعبہ سیاحت سڑکوں کی خراب حالت اورہوائی اڈہ کی بندش کیوجہ سے شدید متاثر ہے اس شعبہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے ،سڑکوں کی تعمیر میں انجینئر امیر مقام اور مقامی ممبران کے سیاست اڑے آرہی ہیں مقامی لوگ تو کھنڈارات سڑکوں پر سفر کرنے کے عادی ہوچکے ہیں مگر باہر سے ائے ہوئے سیاح ایک بار سفر کرنے کے بعد سڑکوں کی بدحالی کا رونا روتے ہیں ،ائرپورٹ کھولنے کے بارے میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیج دی ہے جو تاحال سفارشات تک محدود ہے،مقامی لوگوں نے وفاقی و صوبائی حکومت سے جنت نظیر وادی سوات کے طرف خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔
683 total views, no views today


