بیس ویں صدی اپنے آخری کواٹر کو ’’ابلاغ کی صدی ‘‘کہلائی جانے لگی۔ترقی یافتہ دنیا کے تھینک ٹیکس اور چوٹی کے علمی و تحقیق حلقے اس پر متفق تھے کہ حیران کن ترقی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہوئی۔اتنی تیزی سے انسانی ارتقا میں انقلاب برپا کرنے والی ایسی ترقی کسی اور فیلڈ میں نہیں ہوئی ۔اس کی بدولت دنیامیں ابلاغ عامہ میں ایسے ایسے معجزات برپا ہوئے کہ ماس کمیونیکیشن کی سائنس کے بانی پروفیسر لبر شریم اس کی ترقی کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ’’ اگر انسانی تہذیب کی ارتقا کی گھڑی کے ڈائل کی گھنٹے کی سوئی کے ایک چکر لگانے کے برابر ہے۔تو ماس کمیو نیکیشن کی پیدائش ۱۱ بجکر ۵۹ منٹ ۵۹ سکنڈ پر ہوئی۔ ولبر شریم نے یہ وضاحت 1980ء کے ابتدا میں کی حالانکہ اس وقت انٹرنیٹ ٹیکنالوجی آنے میں ابھی بارہ،تیرہ سال باقی تھے۔’’ سٹیلائیٹ کمیونیکیشن ‘‘ نے میڈیا کی طاقت اور اہمیت کو یکدم کئی گناہ مزید بڑھادیاحالانکہ میڈیا اپنی ابتدا سے ہی ’’معاشرے کا آئینہ ‘‘ کہلایا جا رہا تھااور اس طرح اس کی اہمیت پہلے بھی کم نہ تھی لیکن جب دنیا میں زیادہ سے زیادہ ملکوں میں پاکستان سمیت پہلی با رمحمد علی کے باکسنگ کی لائیو کوریج دکھا ئی گئی تو ابلاغ عامہ کی دنیا میں ایک اور معجزہ برپا ہوا کیونکہ بولنے کی آواز ہزاروں میل بذریعہ ریڈیو براڈکاسٹنگ پہنچانا ایک حیران کن کمال تھا،پھر یہ کہ جو بولتا تھا اس کی تصویر بھی ٹی وی پر آئی اور واقعات کی ریکارڈ کوریج visuales کے ساتھ ہوا کے دوش پر گھر گھر پہنچنے لگی۔ گویا جو ہوا اسے نہ صرف اخبار میں پڑھا جائے گا بلکہ بذات خود ٹی وی پر دکھائی دے گا۔ سٹیلائٹ کمیونیکشن کا کمال یہ ہو اکہ صرف ریکارڈ ہی کیوں بلکہ جو جب واقع ہورہا ہے‘ جہاں ہورہا ہے‘ وہیں سے ساتھ ساتھ ہو بہو بذریعہ فوٹیج دکھائی جائے۔نقطہ یہ ہے کہ یہ معجزات اصل میں کمیونکیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے حیرت میں ڈال دینے والی پیشرفت سے ہوئی۔اب ابلاغ عامہ کے مختلف نوعیت کے پیغامات مثلاًخبریں ، تبصرے و تجزیے، معلوماتی فیچر ڈرامے، کارٹون اور مزاحیہ و تفریح کے پروگرامز کی تیاری کے پیشہ ور پیغام سازوں جن میں ایڈیٹرز، رپورٹرز، اینکر پرسن اور کالم نویس، ڈرامہ نگار اور فوٹو گرافر، کارٹونسٹ اور دیگر اراکین اداراتی عملہ کی ایک تربیت یافتہ کوالیفائیڈ، منظم اور متحرک ٹیم دن رات اپنے اپنے پراڈکٹس کی تیاری میں سرگرم ہیں جنہیں میڈیا کے ایجنڈے کے طورپر میڈیا چینل خواہ یہ اخبار اور رسالے ہیں یا ٹی وی یا ریڈیو‘ کے ذریعے عوام الناس تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ یوں میڈیا کے دو بڑے پوٹینشل صحافی پیغام سازی اور انہیں پیپل اٹ لارج ڈیلیوری کرنا ہے۔ قارئین !خصوصاً میڈیا لارڈز، صحافیٍ حضرات، اسکالرز، سٹوڈنٹس اور اساتذہ کرام ابلاغیات پر غور فرمائیں کہ ابلاغ عامہ کی مختصر لیکن جدید تاریخ میں میڈیا اپنے ہر دور میں پوٹینشل میں کتنا عدم توازن کا شکار ہوگئی ہے، گزشتہ صدی اگر اپنے آخری پچیس سالوں میں’’ کمیونیکشن سنچری‘‘ کہلائی تو اس کا سبب کوئی صحافی کی پیغام سازی نہیں بلکہ کمیونیکشن ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز پیش رفت ہے جس نے واقعات کے مناظر اور اان کی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ آپ کے گھر تک ٹی وی سکرین بھی پہنچا دیا ، پھر صحافیوں کی پیشہ ورانہ مینجمنٹ اور ان کی سرگرمیوں میں اس ٹیکنالوجی نے جو حیران کن معاونت ممکن بنائی اس نے پیشہ صحافت کو چار چاند لگا دیئے، مقدار اور معیار دونوں کے حوالے سے اس مقابلہ پیغام سازی کا ارتقاء کیا ، اتنی ہی تیز اور اس کے نتائج اتنے ہی معتبرانہ اور باکمال ہے‘جتنا کہ کمیونکیشن ٹیکنالوجی کے، بلکہ دنیا بھر میں میڈیا کے ایجنڈے کا جائزہ لیا جائے تو 1980ء سے ہونے والی تحقیق کے نتیجے میں بار بار یہی جواب آرہا ہے کہ میڈیا کے دوسرے پوٹینشل پیغام سازی ، ارتقاء کے مختلف مراحل طے کرنے کے بعد محدود اور یکساں ہوگیا ہے یعنی انفرادی شخصیت سے محروم ہوچکا ہے ۔یہ تو درست ہے کہ ’’ خبر کو عام کردینے‘‘ سے شروع ہونے والا اخبار پھر واقعات و اطلاعات کے تجزیوں اور تبصروں کے مسلسل انتظام سے’’ رائے عامہ‘‘ جیسے طاقتور اور انتہائی مفید صحافتی صنف بشکل اداریہ، کالم، تجزیہ و تبصرہ لایا، پھر اس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخبار سے ہی شروع ہونے والی تفریح عامہ کو ریڈیو اور ٹی وی کی ایجاد کے بعد نئے نئے رنگ دے کر گھر گھر پہنچا دیا، حتیٰ کہ گھر، تھیٹر، ڈرامے کے سٹیج اور سینماء ہاؤس بن گئے لیکن میڈیا میں کمیونیکشن ٹیکنالوجی کی اولین پوٹینشل کے مقابل صحافتی اصناف کا محدود ارتقائی جواب عشروں سے تقریباً بیکار پڑا ہوا ہے۔ یعنی کہ کچھ بھی تو نہیں، گویا میڈیا، اطلاعات کی فراہمی اور تعلیم عامہ( جو میڈیا کے ایجنڈے میں بے پناہ دستیاب معلومات کے مقابل بے حد مطلوب ہونے کے باوجود نہ ہونے کے برابر ہے) تک محدود ہو کر رہ گیا، گویا توپوں اور ٹینکوں سے کیڑے مکوڑے مارے جارہے ہیں۔ خاکسار کا نوٹس ہے کہ میڈیا کے پہلے پوٹینشل( کمیونیکیشن ٹیکنالوجی) کو کنٹری بیوٹ کرنے والوں نے اپنے کام و خدمات کو آگے بڑھانے کے لئے جتنا فوکس کیا اتنا ہی پیغام سازوں( صحافیوں) کی فوج تقلید، مفادات اور سست روی کا شکار ہوگئی۔ برس ہا برس سے میڈیااس چار نکاتی ایجنڈے کو لے کر چل رہا ہے جس کی اصل میں تکمیل اخبارات اور جریدوں نے ہی کر دی تھی۔ یوں ایک دوسرے کی تقلید میں دنیا بھر کا میڈیا ایجنڈہ یکسانیت کا شکار ہے۔ یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ میڈیا انسانی معاشرے کا آئینہ ہے اور جو تصویر ہے وہی دکھاتا ہے ،میڈیا کیسے حقیقی تصویر دکھا سکتا ہے کیونکہ سوال یہ بھی ہے کہ ہر ملک کے عوام کو آزادی صحافت نصیب ہے بھی یا نہیں؟ میڈیا کے ایجنڈے پرطاقت ور معاشرے کے پانچ سات طبقات یعنی حکمران و سیاستدان، بزنس مین ، شوبز پینل، سپورٹس مین، مذہبی لیڈر اور دوسرے پریشر گروپس حاوی ہیں۔ میڈیا باہمی تقلید میں بری طرح یکسانیت کا شکار ہو کر اپنے انفرادی شناخت قائم کرنے میں ناکام ہے اور روایتی کام کررہا ہے، وہ اپنے پوٹینشل میں کروڑوں لوگوں تک رسائی کے باوجود ہی روایتی پانچ مقاصد کو لے کر چل رہا ہے، اس میڈیا میں ترقی پذیر دنیا کی اکثریت میں دیہی آبادی کتنی جگہ پائی جاتی ہے؟کم خوراکی، جہالت اور بیماریوں میں مبتلاء لوگ طاقتور کے مقابلے میں میڈیا پر کتنے نمایاں ہیں؟ اور ان لوگوں کے لئے میڈیا کے ایجنڈے میں کتنا وقت اور کتنی جگہ ہے؟ اتنی محدود اصنافِ صحافت سے کیا تخلیق اور ارتقاء مر نہیں گیا؟مرا نہیں تو لاغر ضرور ہے کیونکہ امریکی میڈیا بھی چکموں میں یا لالچ میں آکر عالمی امن کے لئے نہیں، بنیادی حقوق کے چارٹر کے تحفظ کے لئے نہیں، قومی مفادات کے نام پر قتل و غارت اور جغرافیائی سرحدوں کے احترام کو پامال کرنے میں بھی نہیں؟ بلکہ صرف اپنے مفادات کی پرستش میں مگن ہے۔ دنیا میں رویوں کی تبدیلی بھی قحط ابلاغ سے ہے اور میڈیا سرد جنگ کا سافٹ ویپن بن کر تنازعوں کے حل کے بجائے چنگاری بھڑکانے کا سبب بنتا جارہا ہے۔۔۔آخر کاراس کا انجام کیا ہوگا؟ ذرا سوچئے!
766 total views, no views today


