سولہ سالہ سنبل نے اُس وقت گھر سے باہر نکل کر رقاصہ کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا جب ان کے گھر کے کفیل، والد اور بھائی شدید بیمار ہوگئے۔ اپنے خاندان والوں کو فاقوں سے بچانے کے لیے سنبل نے رقص کاشعبہ اپنایا، جسے روایت پسند پختون خاندان میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ مختلف فنکشنز اور شادی کی تقریبات میں رقص کرتے وقت اپنے اندر کی اداسی کو چھپانے کے لیے سنبل کو اپنے چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجانی پڑتی ہے۔ اپنی گفت گو میں سنبل نے بتایا: ’’والد اور بھائی کی بیماری کے بعد اپنے خاندان والوں کی روزی روٹی کے بندوبست کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آ پڑی۔‘‘ غیر تعلیم یافتہ ہونے کی حیثیت سے سنبل کو کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں ملازمت نہ مل سکی، ’’لہٰذا میں نے فنکشنز میں ڈانس کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اپنے خاندان کے نو لوگوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اپنے والد اور بھائی کی دواؤں کا بندوبست بھی کرسکوں۔‘‘سنبل نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا۔ مینگورہ کے مضافات میں ایک خانساماں کے طور پر کام کرنے والے سنبل کے والد علی رحمان کی اینگرو ڈھیرئی میں ایک حجام کی دکان بھی تھی، تاہم فالج کے حملے کے بعد وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوگئے۔ سنبل کے خاندان کے لیے یہ آخری دھچکا نہیں تھا، رکشہ ڈرائیور کے طور پر کام کرنے والے ان کے بھائی فاروق کی ذہنی بیماری نے اس خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا اور پھر سنبل کی بہن کے ٹی بی میں مبتلاہونے کے بعد یہ خاندان مصائب تلے دبتا چلا گیا۔ سنبل نے بتایا کہ انھوں نے اپنے پہلے فنکشن سے اتنا کمالیا کہ وہ اپنے والد کی دوائیں خرید کر ان کا چیک اپ کراسکیں۔ ’’رقص ہمارے معاشرے میں ایک باعزت شعبہ تصور نہیں کیا جاتا لیکن میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا، میں اپنے خاندان کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی، کوئی لڑکی اجنبیوں کے سامنے رقص کو ترجیح نہیں دیتی لیکن غربت سب کچھ کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔‘‘ سنبل نے مزید بتایا کہ وہ اپنے رقص کے ذریعے دوسروں کی تقریبات میں چار چاند لگا دیتی ہیں لیکن ان کی اپنی زندگی غموں اور دکھوں کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ رقص کا پیشہ چھوڑ دیں گی، اگر ان کے والد، بہن اور بھائی کے علاج کاکوئی بندوبست ہوجائے ۔ سنبل کا خاندان دو کمروں پر مشتمل کرائے کے ایک ایسے گھر میں رہتا ہے جہاں ٹوائلٹ اور کچن جیسی سہولیات بھی موجود نہیں۔ ان کے والد علی رحمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنے غریب ہوجائیں گے کہ ان کی بیٹی کو روزی کمانے کے لیے گھر سے باہر جاکر رقص کرنا پڑے گا۔ ’’جب میں کماتا تھا، تو گھر کے اخراجات میں ہی پورے کرتا تھا اور ہم سب بہت خوش تھے، لیکن میری بیماری کے بعد سب کچھ تبدیل ہوگیا اور بہت بحث و تکرار کے بعد سنبل نے سب کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ اسے گھر چلانے کے لیے رقص کا شعبہ اپنانے کی اجازت دیں، یہ بہت مضحکہ خیز صورت حال ہے، اللہ ہر کسی کو اس قسم کے تلخ تجربے سے بچائے۔‘‘ علی رحمان نے بہتے آنسوؤں کے درمیان کہا۔ سنبل کی والدہ،حسن پری بھی اس شعبے سے ناخوش ہیں، ان کا کہنا تھا: ’’فی الحال ہمارے پڑوسیوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ سنبل رقص کرتی ہے، لیکن جب انھیں پتہ چلے گا تو ناجانے وہ کیا سوچیں گے اور کیا کہیں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے دل پر بھاری پتھر رکھ کر اپنی بیٹی کو تقریبات میں رقص کرنے کی اجازت دی، ’’ہم کیا کرسکتے تھے، جب کہ ہمارے خاندان کے مرد بیمار ہیں؟‘‘ سنبل اور ان کے خاندان والوں نے حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے گھر کے تین مریضوں کے علاج کے لیے ان کی مدد کریں اور انھیں ان مصائب سے نکلنے میں مدد دیں۔ (ڈان ڈاٹ کام)
1,050 total views, no views today


