سوات،تاریخی سفید محل عدم توجہ کی بدولت خستہ حالی کا شکار ہوگیا،عمارت جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوچکی ہے ،قیمتی ماربل سے بنے ہوئے کرسیاں اور فوارے ٹوٹ جانے سے سفید محل کی تاریخی حیثیت کو مٹا رہی ہے ،واضح رہے کہ جدید ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب (1971ء تا 1881ء) کے حکم سے جب سنہ 1941 ء کو سفید محل کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اس محل کی بدولت مرغزار کا علاقہ ایک طرح سے ریاست سوات کے موسم گرما کا دارالحکومت ٹھہراتھا۔ ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ سفید محل میں استعمال ہونے والا ماربل دراصل وہی ماربل ہے جو تاج محل (آگرا، ہندوستان) میں استعمال ہوا ہے ۔مگر آجکل ہوٹل میں تبدیل ہونے والا یہ محل خستہ حالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے سیاحوں کو یہاں آکر ایک حد تک مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تاریخی شناخت کے حامل ہوٹل محل کے حالت پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہیں،تاریخی محل کو دیکھنے کیلئے آنے والے بیشتر سیاحوں کا کہنا ہے کہ سفید محل کی تاریخی حیثیت سنبھالنے کیلئے اسی محفوظ ہاتھوں میں دیا جائے اور موجودہ ٹھیکدار سے موجود قیمتی فواروں اور کرسیوں کے ٹوٹنے سمیت دیگر نادر اشیاء کے غائب ہونے کی تحقیقات کی جائیں،مقامی لوگوں نے بھی شاہی خاندان کے سپوت اور ہوٹل کے مالکان میانگل شہریار امیرز یب سے سفید محل کے طرف توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔
1,015 total views, no views today


