اسلام آباد: وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ رواں برس بھارت نے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 221 مرتبہ خلاف ورزی کی۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں مشاہد حسین سید کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت دفاع کے حکام نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کامقصد دہشتگردی کےخلاف جاری جنگ سےپاکستان کی توجہ ہٹانا ہے بھارت جان بوجھ کر ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن ہم بھارتی آبادیوں کونشانہ نہیں بناتے بلکہ فوج اور بی سی ایف کو نشانہ بناکرموثرجواب دیتےہیں۔
وزارت دفاع نے بتایا کہ 2015 میں بھارت نے 221 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کیں، رواں برس بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں پاکستان کے 26 شہری شہید اور 78 زخمی ہوئے، صرف کندن پور میں ایک دن میں 8 شہریوں کو شہید اور49 کو زخمی کیا گیا۔ اگست میں بھارت نے 89 بار سیزفائر معاہدےکی خلاف ورزی کی، جس پر پاکستان نے ہاٹ لائن پر بھارت کو سیزفائر کی خلاف ورزی پر 39 بارآگاہ کیا لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہ ملا لیکن جب پاکستان نے موثر جواب دیا تو بھارت کو پاکستان نے رابطے کی یاد آگئی۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد عالم خٹک نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کی پوری کوشش ہےکہ لڑائی ہو،پاکستان سمجھداری سے حالات قابومیں رکھ رہا ہے، اگر بھارت کی جانب سے جارحیت یاجنگ کی کوشش کی گئی تواس کے لئے بھی مکمل طورپرتیارہیں لیکن کوئی بھی ملک بڑی لڑائی کی طرف گیا تو بے وقوفی کرے گا۔اانہوں نے کہا کہ بھارت کراچی، بلوچستان، فاٹا میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ بھارت کی افغانستان میں موجودگی غیر ضروری ہے۔
کمیٹی کے رکن لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبد القیوم نے کہا کہ بھارت نےافغانستان سےہمارےتعلقات خراب کرنیکی کوشش کی، کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ ضرب عضب کی کامیابی نےقوم کو مثبت سوچ دی ہے، نریندر مودی کی پالیسیاں خود بھارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
بعد ازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
355 total views, no views today


