ویسے تو ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کررکھی ہے اور اب ہم ایک آزاد قوم ہیں مگر حقیقت میں ہم آج بھی غلام ہیں۔ انگریز آج بھی ہم پر حکومت کررہا ہے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ ڈائیریکٹ حکومت کرتا تھا اور اب وہ ان ڈائیریکٹ یعنی اپنے ملک میں بیٹھ کر حکومت کر رہا ہے۔ جہاں تک آزادی کا تعلق ہے، تو آزاد قوموں کے اپنے نظریات ہوتے ہیں، اپنے خیالات ہوتے ہیں اور وہ انھی نظریات، خیالات اور مذہبی روایات کے مطابق اپنی زندگی اپنی مرضی اور خود مختاری سے گزارتے ہیں۔ اسی کو آزادی اور ایسی ہی قوموں کو آزاد کہا جاتا ہے۔ اس تعریف کی رو سے ہم بالکل آزاد نہیں ہیں۔ کیوں کہ ہم آج بھی انگریزی بولتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہم آج بھی کوٹ پینٹ پہننے والے شخص کو مہذب کہتے ہیں۔ ہم کھڑے ہوکر چمچ سے کھانا کھانے والے کو باشعور انسان کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے نصاب میں آج بھی ورڈزورتھ اور شکسپیئر کے مضامین شامل ہیں۔ ہماری نئی نسل آنکھوں میں لینز لگا کر ان پر نیلا رنگ چڑھا کر انگریزوں جیسا بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے ملک کے اڑسٹھ سال گزرنے کے باوجود آج بھی دفتروں میں انگریزی زبان رائج ہے۔ یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ انگریزی زبان بولنا یا سیکھنا کوئی جرم نہیں مگر ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ انگریزی سیکھنے اور بولنے میں ہرگز ترقی کا راز مضمر نہیں ہے۔ اگر صرف انگریزی بولنے یا سیکھنے سے ترقی ہوتی، تو پھر چین اور فرانس کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا۔ کیوں کہ ان ملکوں میں اپنی قومی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ چین کے سرکاری وفود جب دوسری ملکوں کے دوروں پر جاتے ہیں، تو تمام تر ڈیلنگ اپنی ہی زبان میں کرتے ہیں۔ چین کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کا نظام تعلیم عین چینی روایات و نظریات پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس ہمارا نظام تعلیم آج بھی انگریزی روایات پر مبنی ہے۔ ہمارے نصاب میں آج بھی انگریز اسکالروں کے قصے ہیں۔ وہ آج بھی ہمارے ہیروز ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ جس زمانے میں فرانس، جرمنی اور اٹلی وغیرہ کے سربراہانِ مملکت اپنے نام سیکھنے کی مشق کررہے تھے، اُس زمانے میں مسلمان سائنس دان مختلف ایجادات کرنے میں مصروف تھے، مگر رفتہ رفتہ مسلمان غافل ہوتا گیا اور بات یہاں تک آپہنچی کہ آج مسلمان کلی طور پر انگریزوں کے رحم و کرم پر ہے۔ وہ جب بھی چاہے، جہاں بھی چاہے، مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہم نے اپنی روایات بھلا کر انگریزوں کی تقلید شروع کر رکھی ہے۔ ان کی بنائی ہوئی پالیسیاں کامیاب کرنے میں ہم سب کا پورا پورا کردار ہے۔ قارئین کرام! ڈش انٹینا کی قیمت ایک لاکھ چالیس ہزار سے کم ہوکر پانچ ہزار تک آنے میں کس کا ہاتھ ہے؟ موبائل کے اندر فحاشی اور عریانی کے سمندر کس نے ٹھونس رکھے ہیں؟ یہ سب یہودیوں کی چال ہے۔ آج کل سینکڑوں کی تعداد میں مختلف غیر ملکی این جی اوز ہمارے ملک میں سرگرم ہیں۔ کبھی کسی نے اس کا جائزہ لیا ہے کہ ان کا کیا ایجنڈا ہے؟ قارئین کرام! اگر ان این جی اوز کا مقصد معیارِ تعلیم کو بہتر کرنا ہے۔ اگر ان کی کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہوجائیں، تو پھر یہ این جی اوز کانگو، آئیوری کوسٹ، سوڈان وغیرہ کیوں نہیں جاتے جہاں لوگوں کو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں۔ ان کے بچے اسکول اور تعلیم کے نام تک سے ناواقف ہیں۔ قارئین، اب آپ بتائیں ان این جی اوز کی زیادہ ضرورت ہم کو ہے یا اوپر ذکر شدہ ممالک کو؟ ہمیں آج اس بات کا پتا لگانا ہوگا کہ یہ این جی اوز یہاں کس مقصد کے لیے قائم ہیں؟کیوں کہ یہودیوں سے خیر کی توقع رکھنا بے معنی ہے۔ قرآن پاک میں بھی ہے کہ یہ لوگ آپ کے دوست نہیں ہوسکتے۔ قارئین کرام! اگر یہ سب کچھ حقیقت ہے، تو پھر ہمیں اپنے آپ کو آزاد کرنا ہوگا۔ ان غیر ملکی این جی اوز کی دی ہوئی چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی اور اپنی دینی اور علاقائی روایات کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق و مالک اور رازق ماننا ہوگا۔ اپنے اندر خودی کو بڑھانا ہوگا اور علامہ اقبال کے اس شعر پر سختی سے کار بند ہونا ہوگا کہ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
1,506 total views, no views today


