محمدر شاد خان مندوخیل کا تعلق سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں کوٹنی سے ہے۔ وہ 1991ء میں سعودی عرب محنت مزدور ی کیلئے گئے تھے۔ اس وقت محمد رشاد کی عمر صرف اکیس سال تھی۔ سعودی عرب میں انہوں نے تیئس سال گزارے ہیں۔ ابتداء میں وہ کپڑوں کے کاروبار سے وابستہ ہوئے۔ ان کی تنخواہ صرف دو ہزار ریال تھی۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر آج وہ سعودی عرب کی مشہور کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب میں ان کے کئی ریسٹورنٹس ہیں جن میں پاکستانی اور افغانی کام کرتے ہیں۔ یہ مقام انہوں نے کافی محنت کے بعد حاصل کیا ہے۔ ان سے پچھلے دنوں ایک ملاقات ہوئی جب وہ احساس ارپن فاؤنڈیشن کیساتھ منسلک ہوئے اور علاقہ کے یتیم بچوں کی تعلیمی ذمہ داری اپنے سر لی۔ ادارہ احساس فاؤنڈ یشن پچھلے کئی سالوں سے یونین کونسل کوٹنئی میں غریبوں، یتیموں کیلئے کام کر رہا ہے۔ اب اس ادارے نے یتیم بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے اسکول بھی قائم کردیا ہے،جہاں پر اس وقت پچاس یتیم بچے علم کے نور سے منور ہو رہے ہیں۔اس فاؤنڈیشن کے روح رواں محمد رشاد خان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یونین کونسل کوٹنئی میں ایک سروے یتیم بچوں کی تعداد معلوم کرنے کیلئے کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ یونین کونسل کوٹنئی کے علاقوں اسالہ، اسالہ بالا، مانپیتئی،پیر بیلو، فرحت آباد، کھنڈرے، گل ڈھیرء، نوے کلی اور دیگر مضافات میں یتیم بچوں کی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہے جن میں صرف ساٹھ فیصد بچے اسکول جاتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے چالیس فیصدبچے تعلیم سے محروم ہیں۔ احساس ارپن فاؤنڈیشن نے ان بچوں کی تعلیم کیلئے کوٹنئی میں اسکول قائم کیا اور اس اسکول میں اس وقت پچاس یتیم بچے پڑھ رہے ہیں۔ اس اسکول میں سات اساتذہ اور دیگر اسٹاف ممبران اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ اسکول میں چھٹی جماعت تک یتیم بچوں کو پڑھایا جارہاہے، جن کی کتابوں اور دیگر اسٹیشنری کے اخراجات ادارہ احساس فاؤنڈیشن برداشت کررہا ہے۔ محمد رشاد کہتے ہیں کہ اس اسکول کو انٹر میڈیٹ تک لے جانا ہمارا مشن ہے، جہاں یتیم بچے ایف اے، ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ اگرہم اس پہلے مقصد میں کامیاب رہے، تو پھر ہر تحصیل میں یتیم بچوں کیلئے ایک اعلیٰ اور معیاری تعلیمی ادارہ بنائیں گے۔ احساس ارپن فاؤنڈیشن کے صدر عمران منصور اور جنرل سیکرٹری سبحان علی کے مطابق علاقہ میں پچاس خاندانوں کو تعلیمی سہولت فی الحال فراہم کی گئی ہے اور اس میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ تعلیم کے علاوہ اس علاقہ میں فاؤنڈیشن کی طرف سے غریب لوگوں کو اشیائے خور و نوش بھی وقتاً فوقتاً فراہم کی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ محمدر شاد کیساتھ جب ملاقات ہوئی، تو میں نے اس کاوش اور خیر کے کام بارے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں سعودی عرب میں تھا، تو اس وقت سے میں اپنے رب العالمین سے دعا کیا کرتا کہ اے اللہ، مجھے اس قابل بنادے کہ میں لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ کرسکوں۔ دعاقبول ہوئی اور مجھے میری محنت کا صلہ ملا۔ گفتگو کے دوران کئی مرتبہ دہشت گردی اور سیلاب سے متاثرہ غریب اور یتیم بچوں کا ذکر آیا۔ و ہ خپل کور فاؤنڈیشن کے کام سے کافی مطمئن دکھائے دے رہے ہیں۔حاجی صاحب اسی طرز پر ایک اور ادارہ اپنی تحصیل میں شروع کرنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دنیامیں بہت سے لوگ ہیں جو غریبوں، یتیموں اور بیماروں کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کسی پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ وہ فلاحی اداروں کیساتھ تعاون کرتے ضرور ہیں لیکن ان کے دل پرشکوک وشبہات کا غلبہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو کامیاب بنانے اور زیادہ سے زیادہ یتیم بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کرنے کیلئے انتھک محنت کی ضرورت ہے۔ یہ خواب ادارہ احساس فاؤنڈیشن مخیر حضرات کے ساتھ ملک کر پورا کر دکھائے گا۔ احساس فاؤنڈیشن اور حاجی محمد رشاد کی طرح دی شیڈو نامی تنظیم بھی غریب بچوں کی تعلیم کیلئے کام کررہی ہے اور ایک سال کی قلیل مدت میں اس تنظیم نے کئی سو بچوں کو مختلف اسکولوں میں داخل کرایا ہے، جہاں ان کو معیاری تعلیم بالکل مفت دی جا رہی ہے۔ احساس فاؤنڈیشن اور دی شیڈو کی یہ کاوشیں قابل تحسین بھی ہیں اور قابل قدربھی۔ حاجی محمد رشاد اور شان الٰہی کی طرح اگر اس معاشرے کے دیگر مخیر لوگ بھی آگے آجائیں اور اسی طرح کی فلاحی تنظیمیں اپنے یونین گاؤں اور یونین کونسل کی سطح پر قائم کریں جو یتیم اور غریب بچوں کو بھی تعلیم دلانے کی ذمہ داری لیں، کیونکہ غریب اور یتیم بچوں کا اس معاشرے پر اتنا ہی حق ہے جتنا ہم پر ہمارے اپنے بچوں کا ہے، تو وہ دن دور نہیں جب یہاں پر شرح تعلیم سو فیصد ہو جائے گی۔ غریب اور امیر دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع میسر آئیں گے۔سوات میں جتنی بھی اس قسم کی فلاحی تنظیمیں ہیں ان کو بھر پور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ سپورٹ اخلاقی بھی ہوسکتا ہے، مالی بھی۔ اگر ہم وقت نہیں دے سکتے، ان کی خدمت نہیں کرسکتے، تو ان اداروں کیساتھ مالی تعاون تو کرسکتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کر سکیں اور وہ بچے آگے جاکر اس خوبصورت وادی کے لیے اپنی خدمات انجام دیں۔ اس وادی کو وہ امن واپس لا کر دیں، جو ریاست سوات کے دور میں ہوا کرتا تھا۔ اس وادی کو وہ ترقی واپس دلا دیں جو ریاست سوات کے دور میں ہو رہی تھی۔ مجھے امید ہے کہ سوات کا ہر شخص جو صاحب حیثیت ہو،وہ ان اداروں کیساتھ بھر پور تعاون کرے گا اورہم سب حاجی محمد رشاد، شان الٰہی اور حاجی محمد علی پر مستقبل قریب میں فخر محسوس کریں گے۔ بے شک یہ لوگ آنے والے وقتوں میں ہمارے آئیڈیل ہوں گے۔
780 total views, no views today


