جب کبھی نیوز چینل لگایا جاتا ہے، خبریں سیلابی ریلی کی طرح بہتی ہوئی چلی آرہی ہوتی ہیں ۔ ہر چینل ہر خبر کو بریکنگ نیوز بناکے دکھارہا ہوتا ہے۔ حساس لوگوں کا دل ہر بریکنگ نیوز کی پٹی چلنے پر ڈوبتا ہے اور بے حس لوگوں پر تو جیسے خبریں اثر اندازہو نا ہی چھوڑ چکی ہیں۔ تمام لوگ بس اپنی جگہ بیٹے خالی تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ ہر خبر پر لگتا ہے جیسے کوئی اور خبر ہوہی نہ۔
ہمارے سیاستدان حضرات کے تو کیا ہی کہنے؟ جیسے کہتے ہیں نہ کہ نادان دوست سے دانا دشمن اچھا تو میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ میں ان سیاستدانون کو جن کے ہاتھوں میں اس ارضِ وطن کی باگ دوڑ ہے۔ جو اس کے کالے سفیدکے مالک ہیں وہ آخر ہمارے یعنی غریب عوام کے دوست ہیں کہ دشمن؟
آس کی بنتی ہے جب کوئی امید
تو ڑ دیتے ہیں وہ ہراک آس کو
کھاگئی مردہ ضمیر ی کھاگئی
ہمارے اہنماوٗں کے احساس کو
کیونکہ جب بھی کوئی سانحہ ،حادثہ، واقعہ رونما ہو، وہ کیا کرتے ہیں ماسوائے مذمت کے؟ پہلے پہل تو لگتا تھاکہ مزمت کو ئی بہت کا م کی بات ہے پھر رفتہ رفتہ حقیقت کھلی کہ اپنے فرض سے جان چھڑانے اور اپنے کارناموں پہ پردہ ڈالنے کا نام مزمت ہے۔ یہ تو بس ایک وہ جھوٹی تسلی کالالی پاپ ہے جو ہر بارعوام کے منہ میں ان کی زبان کو بند رکھنے کے لئے دے دیا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ اس ملک میں عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔
چاہے خودکش حملہ ہو یا ٹارگٹ کلنیگ کاکوئی واقعہ ، قدرتی آفات جیسے سیلاب زلزلہ ہو یا کوئی بھی بدلہ دشمنی کا متاثرہونے والاشخص یا اگر کہا جائے شکار ہونے والا فرد اگر مرجائے تو میری نظر میں خوش قسمت ہوتا ہے۔ کیونکہ بچ جاتا اگر وہ ۔ منہ سے نکل بھی آتا موت کے تو بھی جیتا بھی تو کیا جیتا؟ بالکل اِسے ہی جیے کہتے ہیں
زندگی نام ہے ، مرمرکے جئے جانے کا۔
ہمارے ہاں تو سیاستدان عوام کو جھبی گھاس ڈالتے ہیں جب انہیں الیکشن میں جیتنے کے لئے اِس کیڑوں کی طرح سسکتی عوام کے ووٹ درکار ہوتے ہیں ۔ جوکہ اپنوں کے ہی ستم کا تو شکار ہیں۔ مگر کون مانے پھر بے چارے غریب لوگ ان جھوٹی شان والے سیاستدانوں کے جھانسے میں آکے ان سے امید لگابیٹھتے ہیں کیونکہ انسان کی فطرت ہے زندگی ہے تو امید قائم ہے۔ مگر یہی لوگ بعد میں زمین پہ خاک کی طرح پٹخ دیئے جاتے ہیں۔ اور تھبی جب یہ ستم ظریفی کا شکار بنیں بھی تو سیاستدان بس مذمت کے ذریعے تو لازمی ان کا حق ادا کرہی دیتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ یہ بھی نہیں کریں گے تو ان کے بے داغ دامن پہ داغ لگ سکتا ہے نہ۔ مگر کیا مزمت کرلینا کافی ہے دوستو؟ مددکرنا فرض نہیں؟ کیا کیجئے! اس کے بعد تو لدیاں ، ریلیاں ، جلسے جلوس ، گھماگھمیوں رونقوں سے اپنا دل بیلا لیتے ہیں ۔تبھی انہیں دکھوں کے منہ میں پیدا ہونے والے غریب کا درد محسوس نہیں ہوتا نہ ان کے بجھے بجھے چہرے ،مضوعی مسکراہیٹں اور پریشان آنکھیں دکھائی نہیں دیتی !
غریب عوام کو تو بس تب یاد کیا جاتا ہے جب کوئی ناخوشگوار سانحہ پیش آجائے تبھی ہمارے سیاستدان میڈیا پر آکے منہ بھر کے بولتے ہیں ۔ ہم اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور فرشتے بن جاتے ہیں۔ تب ہر گردش کرتی خبرکے ساتھ ہماری یادوں میں بس سیاستدان کی مذمت اور غریب کے چہرے پر اس مذمت کو سن کے آنے والی پھیکی مسکراہٹ دھندلا کے رہ جاتی ہے۔
غریب کیا اس معاشرے کا حصہ نہیں ؟ کیا وہ کسی کا باپ ، بھائی بیٹا نہیں؟ مرتے مرتے بھی غریب کی آنکھیں اس آس میں کُھلی رہ جاتی ہے کہ ان کے سیاستدان ، حکمران ، رہنما انہیں وعدہ کی ہوئی خوشحال زندگی دے گے۔ مگر موجودہ حالات کو دیکھ کے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ غریب کا تو جینا دوبھر ہے ہی مرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے وہ تو اس ڈرسے جیئے جارہے ہیں کہ مرے تو کون ان کے گھروالوں کا پر سانِ حال ہوگا؟ ان کے بیوی بچے تو رُل جا ئیں گے ۔ پھر بھی بس مذمت !! کیا کافی ہے؟
یقین کریں دل بہت اداس ہے ۔ ایک عجب سابوجھ ہے کہ سیاستدان کیوں اپنے فرض سے بس مذمت کرکے بری الزمہ ہوجاتی ہیں۔کیا اس ملک میں اُنکاکوئی حصہ نہیں جس کے لئے وہ خون پسینہ ایک کردیتے ہیں؟ کیا اس کا ئنات میں جان سے بڑھ کے بھی کچھ ہوتاہے؟
زندگی کیا اتنی ہی بے وقعت ہے؟ کیا غریب کا خون اتنا ہی سستا ہے؟اگر وہ جانتا تو شائد اس دنیا میں آتاہی نہ۔ زندگی تو ویسے بھی نا پائیدار ہے۔جونہ آتے تو کیا جاتا؟اس سب کے بعد بھی اگر کوئی اپنی روش نہیں بدلتا تو وہ ہے ہمارے سیاستدان اس ہی ارضِ وطن کی بدولت وہ ستر ستر گاڑیوں کے قافلوں سے اور بلٹ پروف مرسڈیز کے سفر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔لاکھوں کے سوٹ پہنتے ہیں اور جہازوں کو بوں بدلتے ہیں جیسے ٹیکسہاں ہوں۔ اگر وہ غریب کی مدد کردیتے تو ان کے محل نہ بک جاتے۔ گاڑیاں فروخت نہ ہو جاتی۔ جائیداد یں نیلام نہ ہوجاتی ، تب ہم کہتے کہ ملک وہ کاخزانہ ختم ہوگیا ہے اور اب بس مذمت بہت کافی ہے۔ مگر نہیں ہمارے حکمرانوں کو بس اتنی ہی افسردگی اور شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ صرف مذمت کرتے ہیں اور یہی تو مردہ ضمیری ہے۔
856 total views, no views today


