سوات، امن برائے نئی نسل کے چیئر پرسن و طالبہ نیلم چٹان نے کہا ہے کہ سوات میں خواتین کی خودکشیوں کے بڑھتی ہوئے واقعات تشویشناک ہے ،ہر دوسرے دن سوات کے مختلف علاقوں میں خودکشی کا واقعہ رونما ہونا کئی سولات کو جنم دے رہی ہے، خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیمیں بڑے ہوٹلوں میں لاکھوں روپے خرچ کرکے ورکشاپس تو منعقد کرتے ہیں مگر حقیقت میں کسی قسم کا کام نہیں کررہے،ڈی سی سوات محمود اسلم وزیر اور ڈی پی او سوات سلیم مروت خواتین کے مبینہ خودکشیوں کے بارے میں انکوائری تشکیل دیں اور وجوہات عوام کے سامنے لائیں،انہوں نے مزید کہا کہ تحصیل مٹہ،تحصیل کبل اور حالیہ دنوں میں خوازہ خیلہ کے مختلف علاقوں سے خواتین کی خودکشیوں کی خبریں سامنے آرہی ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے،ہر واقعہ کو خودکشی کا نام دیا جارہا ہے ،غیر سرکاری تنظیمیں خصوصاً جو خواتین کے حقوق پر برائے نام کام کرکے پیسہ کماتے ہیں ان کے خاموشی مجرمانہ ہے نیلم چٹان نے ضلعی انتظامیہ سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاہے کہ خودکشیوں کے واقعات پر انکھیں بند نہ کی جائیں بلکہ جس جگہ بھی خودکشی کا واقعہ رونما ہوجائے وہاں مکمل تحقیقات اوران کے روشنی میں تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
532 total views, no views today


