سوات، ریاستی دور میں بنیادی ضروریات زندگی کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا،ریاستی دور میں تعمیر ہونے والے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں سے آج بھی پورے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام مستفید ہورہے ہیں،ہر طرف امن وخوشحالی کا دور تھا،بدقسمتی سے ادغام کے بعدسوات مسائل کے دلدل میں پھنس گیا اور یہاں کے عوام کو وہ حقوق نہیں دئے گئے جن کے وہ حقدار تھے،اج سوات کی عوام یتیم ہے مشکل کے اس گھڑی میں ہم سب کو متحد ہونے کی سخت ضرورت ہے،ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز میانگل شہر یارامیر زیب کے رہائش گاہ پر والی سوات میانگل عبد الحق جہانزیب کے برسی کے تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے مینگورہ سٹی اور سیدو شریف کے عمائدین نے دوران خطاب کیا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی حضرت یوسف،ڈاکٹر خالد محمود خالد،سابقہ ناظم شاہ روان خان،فضل کریم اور دیگر نے کہا کہ والی سوات کی برسی بھرپور طریقے سے منائے گے،والی سوات میانگل عبدالحق جہانزیب نے ریاست میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا یا تھا جبکہ علاج معالجہ کیلئے ڈویژن بھر میں ہسپتالیں تعمیر کئے تھے،ریاستی دور میں بننے والی سڑکیں اج تک استعمال ہورہی ہے،اد غام کے بعد مالاکنڈ ڈویژن خصوصاًسوات کے عوام کو وہ حیثیت نہیں دی گئی جن کے وہ حقدار تھے،شاہی خاندان کے سپوت میانگل شہریار امیرزیب نے میانگل عبدالحق جہانزیب کے یاد میں برسی منعقد کرکے سوات کے عوام کی دل جیت لئے انشاء اللہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام برسی میں بھرپور شرکت کرینگے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میانگل شہریار امیرزیب اور ضلعی کونسلر میانگل امیرزیب شہریار نے کہا کہ محسنان سوات میانگل عبدالودود باچا صاحب اور میانگل عبد الحق جہانزیب کے خد مات کسی سے پوشیدہ نہیں جو روز روشن کے طرح عیاں ہے انہوں نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کیلئے یکساں مواقع پیدا کئے،خصوصاً نوجوانان سوات کیلئے روزگار اور کھیل کود سہولیات وافر مقدار میں مہیا کئے تھے لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد کسی نے بھی سوات کے تعمیر و ترقی کیلئے کوئی توجہ نہیں دی اج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب متفق ہوکر سوات کی عوام کے حالات زندگی بدلنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں تاکہ سوات ایک بار پھر تعمیر و ترقی کے راہ پر گامزن ہو ،اجلاس کے اخر میں میانگل شہریار امیرزیب نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا
736 total views, no views today


